ٹورسٹ گائڈ کی لاش لواحقین کے سپرد

 ٹنگمرگ //لاپتہ ٹورسٹ گائڈ کی لاش کا ٹنگمرگ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد لاش آخری رسومات کی خاطر لواحقین کے حوالے کی گئی۔ جونہی اس کی لاش آبائی گھر پہنچ گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ۔اُس کی موت کن حالات میں ہوئی یہ ایک معمہ بنا ہواہے کیونکہ26 جنوری کی سہ پہر کو فردوس احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکنہ کٹی پورہ عمر  22سالہ تین سیاحوں کے ساتھ گلمرگ کے کونگ ڈوری سے راستہ بھٹک جانے سے ہاپت کھڈ کے راستے آگے بڑھنے لگے جس میں اگرچہ سیاح درنگ پہنچنے میں کامیاب رہے تاہم مقامی گائڈ لاپتہ ہوا تھا جس کی لاش پولیس اور فوج کی ریسکو ٹیم نے درنگ کے بالائی علاقے سے برآمد کی تھی ۔سیاحوںمیں دو خواتین ایک مرد جن کے نام شوائی ساکنہ ممبئی ،شورا پنچاب اوروکاس ساکن پنجاب شامل تھے۔بتایاجاتاہے کہ سیاحوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے نہ پولیس کو گائڈ کے بارے میں اطلاع دی اور نہ ہی ہوٹل کے منیجر کو کچھ بتایا۔معلوم ہوا ہے کہ ان سیاحوں نے ہوٹل نیڈوزمیں چارروزکی بکنگ کرائی تھی تاہم انہوںنے تین روز کے بعد ہی ہوٹل چھوڑ کر سرینگر کی راہ لی تھی۔ ابھی یہ ٹنگمرگ میں کوٹ بوٹ تبدیل کررہے تھے کہ انہیں ایک مقامی شخص نے پہچان لیا جس نے گائڈ کے والد غلام محمد بٹ کو فون پر اطلاع دی کہ آپ کے بیٹے کے ساتھ جو سیاح گلمرگ چار روز ٹھہرنے گئے تھے وہ تین روز میں ہی واپس جارہے ہیں مگر اپ کے بیٹے کے بارے میں یہ کچھ چھپا رہے ہیں جس کے بعد گائڈ کے والد نے ان سیاحوں کو اپنی گاڑی میں پولیس تھانہ گلمرگ پہنچایا جہاں انہوںنے پولیس کو بتایا کہ گائڈنے انہیں چلنے کیلئے کہا جس پر پولیس نے گائڈ کی گمشدگی رپورٹ درج کرکے فوج کی مددسے تلاشی کارروائی شروع کی اور گائڈ کی لاش درنگ کے بالائی علاقے سے برآمدکی ۔ پولیس نے سیاحوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ادھر سماجی کارکن عادل نذیر خان نے اس کی تحقیقات کرانے کے علاوہ محکمہ سیاحت اور ایل جی انتظامیہ سے مرحوم ٹورسٹ گائڈ کے لواحقین کو ایکس گریشا ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔لواحقین نے قتل کا شبہ ظاہر کیا ہے اور مطالبہ کیا ھے کہ اس کی پوری جانچ کی جانی چاہئے ۔