وہی ہے چال بے ڈھنگی۔۔۔! 4برسوں میں20ہزارسڑک حادثات، 3500لقمہ اجل،ذمہ دار کون؟

 سرینگر // ریاست جموں وکشمیرکے تینوں خطوں میںسڑکوں پر موت کا خونین رقص جاری ہے اور پچھلے 4 برسوں کے دوران ریاست میں 20ہزار سڑک حادثات کے دوران 500 3 لوگ لقمہ اجل جبکہ 21ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ۔ اس طرح ہر سال اوسطاً5ہزار سڑک حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں 1ہزار لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔رواں سال جون کے مہینے تک 2883سڑک حادثات میں 492افراد ہلاک اور 3932زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر تعداد اُن افراد کی ہے جو اپاہچ ہو کر گھر والوں کے رحم وکرم پر ہیں ۔ محکمہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ریاست میں گاڑیوں کی بھرمار اور تیز رفتاری ایک دوسرے پر سبقت ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ ہے۔ ریاست کی سڑکوں پر رونما ہوئے ٹریفک حادثات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں سال2015سے جون 2018تک 19844سڑک حادثات میں 3,347افراد لقمہ اجل جبکہ 21,104زخمی ہوئے ہیں ۔محکمہ ٹریفک میں موجود ذرائع نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال2015میں ریاست کے 22اضلع میں 5836سڑک حادثات رونما ہوئے جس میں 917لوگ لقمہ اجل اور 8142زخمی ہوئے ہیں ۔ذرائع نے سال2016کے عداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کے دوران کل 5501سڑک حادثات میں 958افراد ہلاک اور 7677زخمی ہوئے ہیں ۔سال2017میںریاست کے تینوں خطوں میں 5624سڑک حادثات رونما ہوئے جس دوران 926افراد ہلاک اور 7419زخمی ہوئے ہیں۔ سال 2018میں جون تک ریاست جموں وکشمیر میں کل 2883سڑک حادثات رونما ہوئے اور ان حادثات میں 492افراد ہلاک اور 3932 زخمی ہوئے ہیں ۔رواں سال پیش آئے سڑک حادثات کی ضلع وار تفصیلات پیش کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ سرینگر ضلع میں 200حادثات میں 21لوگ لقمہ اجل اور 221زخمی ہوئے ۔ گاندربل ضلع میں 43حادثات میں 12افراد ہلاک اور 70زخمی ہوئے ۔بڈگام ضلع میں 66حادثات میں 10افراد ہلاک اور 81زخمی ہوئے۔ اننت ناگ ضلع میں 99حادثات میں 17ہلاک 150زخمی ہوئے ۔ تفصیلات دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ کولگام ضلع میں 65حادثات میں 7افراد لقمہ اجل 72زخمی ہوئے ۔پلوامہ ضلع 18سڑک حادثات میں 6ہلاک اور 19زخمی ہوئے ۔ شوپیاں ضلع میں 20حادثات میں 6ہلاک اور 22زخمی ہوئے ۔اونتی پورہ میں 50سڑک حادثات میں 13ہلاک 57زخمی ہوئے ۔بارہمولہ میں 107سڑک حادثات میں 9ہلاک 128زخمی ہوئے ہیں ۔بانڈی پورہ میں 21حادثات میں 4ہلاک اور 28زخمی ہوئے۔ کپواڑہ ضلع میں 68حادثات 6ہلاک 28زخمی ہوئے ۔ ہندواڑہ قصبہ میں 5حادثات میں 7ہلاک 86زخمی ہوئے ۔لیہہ میں 59حادثات میں 16ہلاک 120زخمی ہوئے ہیں۔ گرگل میں 27حادثات میں 3ہلاک 31زخمی ہوئے ہیں ۔سوپور قصبہ میں 57حادثات کے دوران 7ہلاک اور 79افراد زخمی ہوئے ہیں ۔اس دوران جموں خطہ میں 1936سڑک حادثات میں 348افراد ہلاک اور 2703زخمی ہوئے ہیں ۔حادثات کی روکتھام کیلئے کئی سال قبل سرکار نے ریڈ اس سوسائٹی کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ایک جامعہ پالیسی بنائی تھی تاہم ریڈ کراس سوسائٹی کی خدمات بھی مختصر رکھی گئی ہیں ۔جموں وکشمیر ریڈ کراس سوسائٹی کے جنرل سکریٹری محمد شفیع راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹرایفک نظام میں بہتری لانے کا کام محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کا ہے تاہم سوسائٹی صرف ایسے زخمی یا پھر مہلوک افراد کی مدد کرتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا ۔محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ محکمہ اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ ٹریفک حادثات پر قابو پایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گاڑیوں میں موبائل کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے محکمہ نے ابھی تک ہزاروں چالان کئے ہیں ۔اسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ افسر عارف پرویز شاہ نے اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ کے پاس ریاست میں عملے کی کمی ہے اس کے باوجود بھی گذشتہ برس محکمہ نے زیادہ چالان کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ وقت وقت پر ٹریفک قوانین کے حوالے سے لوگوں کو جانکاری فراہم کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عملہ تعینات کیا جائے۔