ووٹ نہ ڈالنے پر2 نوجوان کی مبینہ مارپیٹ

 بارہمولہ //رفیع آباد بارہمولہ میں ووٹ نہ ڈالنے پر دو نوجوان کی مبینہ مارپیٹ کے خلاف مقامی لوگوں نے بارہمولہ ہندوارہ شاہراہ پر فوج کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی آمد رفت بند رہی ۔ مظاہرین نے فوج کے 32 آر آر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو نوجوانوں کو ووٹ نہ ڈالنے پر زد کوب کرکے شدید زخمی کردیا ۔  احتجاج میں شامل نصیر احمدنامی ایک شخص نے کہا کہ جب سنیچر کو دو نوجوان طارق احمد راتھر ولد نذیراحمد راتھر اور عادل احمد ولد محمد امین ساکنان لسر رفیع باد ا پنی گاڑی میں بارہمولہ سے گھر واپس لوٹ رہے تھے تو اس دوران فوج نے ترکپورہ رفیع آباد میں سعد پورہ کے مقام پر قائم چک پوسٹ پر اُنہیںروکا اور اِن دونوں کی اُنگلیاں چیک کی اوراُن سے کہا کہ انہوں نے ووٹ کیوں نہیں ڈالا۔اس دوران فوجی اہلکار وںاور نوجوانوں کے درمیان تو تو میں میں شروع ہوئی جس کے بعد فوج اہلکاروں نے دونوں نوجوانوں کو زد کوب کرکے شدید زخمی کردیاجنہیں فوری طور پر ضلع اسپتال بارہمولہ پہنچایا گیا جہاں طارق کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔ اس واقعہ کے خلاف لوگوں نے گھروں سے باہر آکر فوج کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اورنوجوانوں کی مار پیٹ میں ملوث فوجی اہلکار وںکے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔احتجاج کی وجہ سے شاہراہ پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل وحمل متاثر رہی ۔اس دوران پولیس کی ایک ٹیم موقعہ پر پہنچی اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ ملوث فوجی اہلکار کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی جس کے بعد لوگوں نے اپنا احتجاج ختم کیا ۔اس سلسلے میں ایس ایس سوپور جاوید اقبال نے’ کشمیر عظمیٰ‘ کو بتایا کہ پولیس نے لوگوں کی شکایت پر فوجی اہلکارکے خلاف کیس درج کرلیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ جو بھی  نوجوانوں کی مارپیٹ میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی ۔