وزیر اعظم ، ہٹلر کی طرح بات کرتے ہیں

سرینگر+گاندربل کنگن// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اسی طرح بات کرتے ہیں جیسے جرمنی کے اُس وقت کے حکمران ہٹلر ہو۔ان کا کہنا تھا ’’ جیسے مودی کہتے ہیں سب کا ساتھ سب کا وکاس، ہٹلر اسی طرح جرمنی میں بھی کہا کرتے تھے‘‘۔خانیار اور کنگن میں چناوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے میں 40سی آر پی ایف جوان مارے گئے لیکن مودی نے تحقیقات کی بات نہیں کی۔’’ پلوامہ میں 40اہلکار مارے گئے، لیکن مودی صرف بالاکوٹ  بالا کوٹ کہہ رہے ہیں،کیا انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کی بات کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں ایک غیر ریاستی امیدار کو انتخابی میدان میں کھڑا کیا گیا تاکہ آگے ہماری اکثریت اور ڈیموگرافی کوختم کیا جائے۔انہوں نے کہا 'جہاں تک اتر پردیش کے آدمی کا تعلق ہے،  بی جے پی اور آرایس ایس کی طرف سے بنائی گئی ایک اسکیم کے تحت اس کو یہاں پلانٹ کیا گیا ہے، اس سے قبل یہاں ایسا کبھی نہیں ہوا بلکہ اس کو یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے لئے پلانٹ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات میں چند سوال انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں، کیا جموںوکشمیر عزت کیساتھ بھارت کیساتھ رہ سکتا ہے یا نہیں؟ کیا تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ عزت کیساتھ ملک میں رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم پڑوسی کیساتھ محبت میں رہ سکتے ہیں یاہمیں نفرت میں رہنا ہے؟کیا جھوٹ کی جیت ہوگی یا سچ کامیاب ہوگا؟۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاجموںوکشمیر کا آزاد ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق ہوا اور مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ الحاق صرف3شرائط پر کیا۔شیخ محمد عبداللہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ریاست کے مشروط الحاق کو آئینی تحفظ ملے اور ریاست کی اندرونی خودمختاری قائم و دائم رہ سکے۔ اور دفعہ370اور دفعہ35اے کے ذریعے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو آئین ہند میں تحفظ ملا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان صرف ہندئوں کا دیش نہیں بلکہ یہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور بودھوں کا بھی ملک ہے۔ لیکن بھاجپا اور آر ایس ایس جیسی بھگوا جماعتوں کے غلبے سے ملک کی اقلیتیں عدم تحفظ کی شکار ہوگئیں ہیں کیونکہ یہ فرقہ پرست جماعتیں ملک کو ہندو دیش بنانا چاہتی ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر اس نظریہ اور اس روایت پر بریک نہیں لگائی گئی تو ملک کی آزادی اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے ۔نئی دلی نے بخشی، صادق اور قاسم کے ذریعے جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کو روند ڈالا اور پھر باقی بچی کچھی کثر مرحوم مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی نے پوری کردی۔انہوں نے کہا کہ آج بھی آر ایس ایس اور بھاجپا کے کئی آلہ کار یہاں اُچھل کود کررہے ہیں۔