وزیراعلیٰ کی تاجروں کیلئے سودی رعایت سکیم شروع

 سرینگر//ریاستی حکومت نے وزیراعلیٰ کی جانب سے رائج شدہ زبنس انٹرسٹ ریلیف سکیم کو باضابطہ طور شروع کیا ہے جس کے بارے میں بجٹ کے دوران اعلان کیا گیا تھا تاکہ اس سے سیلاب2014اور ایجی ٹیشن 2016کے دوران متاثرہ قرضہ خواہوں جن کے کھاتے سر نو ترتیب دئے گئے تھے ،کو راحت مل سکے۔سرکاری حکمنامے کی رو سے ،مارچ2018تک رواں مالی سہ ماہی کیلئے رقومات کی پہلی کھیپ جے کے بنک (کنونیئر ایس ایل بی سی) کو واگذار کی ۔متاثرہ قرضہ خواہوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے سود کا ایک تہائی حصہ واگذار ہوگا ۔اگرچہ مارچ2018کے اخیر پر ختم ہونے والے موجودہ مالی برس کیلئے کوئی بجٹ تجویز نہیں تھی تاہم حکومت نے ریاست کے تجارتی طبقے کو راحت فراہم کرنے کیلئے اضافی مصارف عمل میں لانے کا فیصلہ کیاریاستی حکومت کے فیصلے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پرویز احمد چیئرمین و سی ای او جے کے بنک جو کہ ایس ایل بی سی کے کنوینئر بھی ہیں ،نے کہاکہ ’’ہم وزیراعلی،وزیر خزانہ اور پرنسپل سیکریٹری فائنانس کے شکر گذار ہیں جنہوں نے بروقت رقومات واگذار کیں جس سے نہ صرف بنکوں کو این پی اے حجم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بنک کے قرضہ خواہوں کو بھی بڑے پیمانے پر ریلیف مہیا ہوگا جو سیلاب2014اور ایجی ٹیشن2016کے بعد اپنی تجارت کو ڈگر پر لانے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔چیئرمین نے مزید کہاکہ ریاستی حکومت کا یہ ہمدردانہ اقدام وصولیات اور بر وقت ادائیگیوں کا کلچر فروغ پاسکے کیونکہ صرف وہ قرضہ خواہ ہی اس ایک تہائی سود کے اہل ہونگے جو مسلسل اپنا دو تہائی سود اپنے بنک کھاتوں میں ادا کرتے رہے ہیں ۔تجارت وکاوربار سے منسلک انجمنوں نے ریاستی حکومت کے اس اقدام پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور اس اقدام کو کھریقرضہ خواہوں کا مشکل اوقات میں ہاتھ تھامنے سے تعبیر کیا ،جس سے ریاست کا تجارتی ماحول نمو پاسکے مزید برآں اس سے بنکوں کو بھی ایک حفاظتی جال مہیا رہے ۔