وادی کے سلامتی ڈھانچے میں تجدید نو کرنیکا فیصلہ

سرینگر// نئی دہلی میں قائم فوجی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے وادی میں سلامتی ڈھانچے میں تجدید نو کرنیکا فیصلہ ہوا ہے۔اس کا آغاز کشمیر میں فوج کی سربراہی کیلئے کشمیر کی صورتحال سے متعلق تجربہ یافتہ اور ماضی میں یہاں پر تعینات رہے فوجی کمانڈرکی تعیناتی سے ہو رہا ہے۔فوجی حکام کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ کثیرالجہتی حساس چیلنجوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ریاست میں ایک ایسے وقت میں،جب سال2019میں اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے،وادی میں سیکورٹی ڈھانچے میں تجدید نو کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ایک اعلیٰ فوجی افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نئی دہلی نشین فوجی ہیڈ کوارٹر نے وادی میں15 ویں کور کی کمان لیفٹنٹ جنرل کے وی ایس ڈھلون کو سونپنے کو منظوری دی ہے۔ لیفٹنٹ جنرل کے وی ایس ڈھلون فی الوقت نئی دہلی میں فوجی ہیڈ کواٹر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ کے عہدے پر تعینات ہیں۔ فوجی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا’’ یہ درست ہے کہ ہیڈ کوارٹر نے چنار کور کی کمان لیفٹنٹ جنرل ڈھلون کو سونپنے کو منظوری دی ہے،اور موجودہ کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ کو واپس نئی دہلی کے فوجی ہیڈ کوارٹر واپس بلایا جا رہا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ لیفٹنٹ جنرل ڈھلون نے ماضی میں وادی میں کئی عہدوں پر کام کیا ہے اور وہ تجربہ یافتہ ہیں۔ان کا کہنا تھا’’لیفٹنٹ جنرل کے وی ایس ڈھلون شمالی کشمیر میں ہندوارہ نشین 7  سیکٹر آر آر کے سربراہ کے علاوہ15ویں کور میں بھی تعینات رہے ہیں،اور وہ کشمیر میں سیکورٹی مکانیت کو بہتر انداز سے سمجھنے کے اہل ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ لیفٹنٹ جنرل ڈھلون کی اہلیت اور تجربے کو کشمیر میں مشکل صورتحال میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے کشمیر میںلیفٹنٹ جنرل ڈھلون کی تعیناتی کو منظور ی دینے کا معاملہ ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے دلباغ سنگھ کو جموں کشمیر میں ہمہ وقتی  پولیس سربراہ کے طور پرہری جھنڈی دکھانے کے دو ماہ بعد سامنے آیا ہے۔چنار کور کے موجودہ جی ائو سی لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے سال گزشتہ فروری2018میں کمان سنبھالی تھی،اور انکی سربراہی میں وادی میں آپریشن آل ائوٹ کی دوسری اننگ میں سال بھر میں قریب235 عساکروں کو جاں بحق کیا گیا،جبکہ شمال وجنوب میں بڑے پیمانے پر تلاشیوں اور محاصروں کے آپریشن شروع کئے گئے۔ ایک اور فوجی افسر سے جب استفسار کیا گیا کہ موجودہ جی ائو سی لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ کی وادی میں تعیناتی میں کیا ایک سال کی کٹوتی کی گئی ہے،جیسا کہ کم از کم2برسوں تک تعیناتی ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ نئی دہلی نشین فوجی ہید کوارٹر اسکا مجاز ہے۔انہوں نے کہا’’ یہ صورتحال پر منحصر ہوتا ہے،اور کشمیر کی صورتحال کیلئے یہ بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ امریکی افوج کا انخلاء افغانستان سے ہونے جارہاہے‘‘۔مذکورہ فوجی افسر نے مزید کہا ’’ ایسی رپورٹیں موصول ہو رہی ہے کہ جیش محمد ممکنہ طور پر طالبان کمانڈروں کے ساتھ کشمیر میں جنگجوئوں کو تربیت فراہم کرنے کیلئے ملاپ کریں گی،اور جب سنیئر افسران کی تبدیلی عمل میں لائی جاتی ہے تو اس میں کئی ایک عوامل کارفرما ہوتے ہیں‘‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ نئے جنرل افسر کمانڈنگ کو کب کمان سونپی جائے گی تو انہوں نے کہا’’ فوج میں افسران کو نئی تعیناتی سے قبل وقت فراہم کیا جاتا ہے،اور فروری کے پہلے ہفتہ تک متوقع طور پر لیفٹنٹ جنرل کے جی ایس ڈھلون چنار کور کی کمان سنبھالیں گے،اور لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ اپنے جانشین کو کمان سونپنے کے بعد دہلی میں فوجی ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کریں گے۔ نئی دہلی نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ریاست میں انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے،تاہم اس کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہی لینا ہے۔اعلیٰ فوجی افسر کا کہنا تھا’’ فوج ریاست میں آئندہ2 انتخابات کے انعقاد کو پرامن طریقے سے منعقد کرانے کو یقینی بنانے اورمقامی جنگجوئوں کی بھرتی عمل کے علاوہ گزشتہ برس بچے عساکروں کی طرف سے دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں کو ناکام بنائے گی۔‘‘
 

ایل او سی پر فائرنگ 

پاکستانی شہری ہلاک

راولپنڈی// پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پرفائرنگ سے ایک شہری ہلاک اور خاتون زخمی ہوگئیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی کے بگسار سیکٹر میں شہر آبادی کو بلااشتعال نشانہ بنایا۔ دشمن فوج کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔ شہری کی شناخت 26 سالہ عظیم کے نام سے کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے دستوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کو موثر جواب دیا، پاک فوج کی جانب سے بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ شہری آبادی میں بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا اور ڈی جی ساؤتھ ایشیا وسارک ڈاکٹرمحمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ تھمایا۔