نیوزی لینڈحملوں سے ثابت ہواکہ دہشت گردی کاکوئی مذہب نہیں‘

  سیاسی ،سماجی اورمذہبی تنظیموں کامہلوکین کے لواحقین کے ساتھ اظہارہمدردی 

 
پونچھ//پونچھ ضلع کی سیاسی ،سماجی اوردینی تنظیموں کے عہدیداران نے نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گردانہ حملوں کی شدیدالفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ نیوزی لینڈمیں مساجدکے اندرہوئے دہشت گردانہ حملوں سے ثابت ہواہے کہ دہشت گردی کاکوئی مذہب نہیں ۔سیاسی وسماجی تنظیموں نے مہلوکین کے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کااظہارکیا۔ علاوہ ازیں بس سٹینڈمینڈھرمیںلوگوں نے  کینڈل مارچ نکال کر نیوزی لینڈدہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اورمہلوک افرادکے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہرکی۔اس دوران کینڈل مارچ کی قیادت کررہے محمددلشاد نے کہاکہ مسلمان دہشت گردنہیں بلکہ دہشت گردی کاشکارہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف سرگرم علیحدہ مذہب ہے ۔انہوں نے کہاکہ تمام مذاہب کے لوگ اس وقت دہشت گردی کاشکارہیں اورضرورت اس بات کی ہے کہ مل کر دہشت گردی کے خلاف صف آراہوں۔اس دوران مقررین نے سرنکوٹ میں گرفتارکیے گئے ہندونوجوان راجندرسنگھ کے معاملہ میں ہندوستانی میڈیاکی خاموشی پرسوال اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی میڈیاکی خاموشی ظاہرکرتی ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی پروپیگنڈہ چلاتاہے اورجب کوئی دوسرے مذہب کاشخص دہشت گردی میں ملوث پایاجاتاہے تواس کے خلاف ایک بھی لفظ نشرنہیں کیا۔دریں اثنا پریس کے نام جاری بیان شیعہ فیڈریشن صوبہ جموں کے نائب صدر الحاج محمد بشیر میر نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر الگ الگ دہشت گردانہ حملے کیے گئے جن میں 49افراد شہیدجبکہ 27زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ آسٹریلیاکے جس شہری نے حملہ کیا اس کا نام برینٹین نارنٹ ہے۔انہوں نے کہاکہ صہیونی طاقتیں مسلم دشمنی اور وحشی پن کی انتہا کررہی ہیں جوکہ عالم انسانیت کیلئے تشویشناک ہے۔انہوں نے کہاکہ حملہ آورنے کیمرہ لگاکرویڈیوبناکرلائیوحملہ دکھاکرمسلمانوں کاقتل عام کرکے انسانیت کوشرمسارکیا۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردانہ حملوں کی جس قدرمذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے اسے سیاہ دن سے تعبیر کیالیکن ان سیاسی جملہ بازی سے متاثرہ کنبوں کوانصاف نہیں ملے گا۔
انہوں نے حملہ آوراوراس کے سرپرستوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کامطالبہ کیا۔ مولانا سعید حبیب مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ نے کہا ہے کہ کسی بھی مسلک میں تکثیری اور جمہوری معاشرے میں نفرت اور تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوزیلینڈ میں درجنوں نمازی جو کہ مساجد میں نماز ادا کر رہے تھے کو کسی درندہ صفت انسان نے گولیوں کا نشانہ صرف رنگ و نسل کی بنیاد پر بنایا۔ انہوں نے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے کنبوں کیساتھ گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سانحہ کے شہداء کے لئے دعاگوہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے اور زخمیوں کو جلدصحت یاب فرمائے۔ انجمن جعفریہ پونچھ کے صدر ماسٹر انور حسین ونتو نے بھی اس سانحہ پرگہرے رنج کااظہار کرتے ہوئے حملوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردانہ حملوں میں مساجد میں سفاکانہ قتل عام سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ درد دل رکھنے والے انسانوں کو کافی تکلیف پہنچی ہے۔صدر تنظیم المومنین منڈی نجم جعفری نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردانہ حملے ہورہے ہیں اور اس سب کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ دنیا میں امن رہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں بدامنی پھیلے اور وہ سکون سے رہے۔ انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی پر قابوپانے کے لیے امریکا پر دباؤ بنائیں۔ انہوں نے سانحہ پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کی سخت مذمت کی ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہ حملے اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔ احساس فاؤنڈیشن کے چیئرمین پرویز احمد آفریدی نے بھی نیوزی لینڈمیں دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی نے پوری دنیا میں کہرام مچا رکھا ہے جس پر قدغن تب تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک تمام ممالک آپسی رنجشوں کودور کرکے اس کا مقابلہ نہیں کرتے۔ انہوں نے بھی نیوزی لینڈ میں دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہوئے افراد کے لئے دعائے مغفرت کی اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ پوری دنیا میں امن و امان قائم ہو۔ علاوہ ازیں ماہر تعلیم ڈاکٹر شیزاد ملک نے بھی نیوزی لینڈمیں مساجدمیں حملوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے اورکہاکہ دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کیلئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ۔انہوں نے نیوزی لینڈکی حکومت سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لاتے ہوئے ان کوپھانسی کے تختے پرلٹائے ۔