نوشہرہ کی سرحدی بستیوں میں ایمبولینس سروس ندارد لوگ نجی گاڑیوںمیں مریضوں کی منتقلی پر مجبور،داد رسی کی مانگ

 رمیش کیسر

نوشہرہ//سرحدی علاقے میں رہنے والے لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگڑھ کے لیے ایمبولینس کی منظوری دی جائےجو کہ جنگڑھ ہیلتھ سنٹر میں بیمارافرادکے لیے ہمہ وقت موجود رہے ۔جنگڑھ سریا شیر مکڑی جیسے سرحدی علاقوں میں بسنے والے عوام جس میں سابق سرپنچ پرشوتم لال، سابق سرپنچ رتن لال، سابق سرپنچ سنیتا شرما لیکھراج وغیرہ نے بتایا کہ ان کے پانچ گاؤں ہندوستان پاکستان لائن آف کنٹرول کے قریب ہیں، لیکن محکمہ صحت نے ابھی تک ہیلتھ سینٹر میں ایمبولینس سروس فراہم نہیں کی ہے جس کی وجہ سے بیمار لوگوں اور حاملہ خواتین کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ یوٹی حکومت کے افسران کی طرف سے منعقدہ جنتا دربار میں وہ کئی بار ان سے اپیل کر چکے ہیں، لیکن اب تک ایمبولینس نہیں پہنچ سکی ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر کوئی بیمار بھی ہو جائے تو اسے پرائیویٹ گاڑی میں نوشہرہ ہسپتال لے جایا جاتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں، سرحدوں پر رہنے والے زیادہ تر لوگ غریب ہیں، وہ پرائیویٹ گاڑی کا کرایہ ادا کر کے ہسپتالوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی گولہ باری کے دوران بھی وہ ایمبولینس کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اس وقت بھی انہیں یہ سہولت نہیں دی گئی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو ایمبولینس فراہم کی جائے۔