نوجوانوں کیخلاف کیسوں کی واپسی جراتمندانہ اقدام:سرتاج مدنی

 سرینگر//نوجوانوں کے خلاف کیسوں کی واپسی کو جراتمندانہ قدم قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی نے اس عمل کو مفہامت کی راہ میں ایک اور قدم قرار دیا۔پارٹی کے نائب صدر سرتاج مدنی نے کہا کہ اس عمل سے ریاست میں امن کی بحالی میں مدد ملے گی۔ جموں میں پارٹی کے سنیئر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کے نائب صدر سرتاج مدنی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی خواہش ہے کہ جموں کشمیر طویل غیر یقینیت کے ماحول سے باہر نکلے،اور اب اس کی عکاسی ہو رہی ہے،برعکس اس کے مخالفین کے منفی پروپگنڈہ،زائل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا’’کچھ عرصے کی بے چینی سرکار کیلئے پرتنائو جبکہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کیلئے کربناک تھا‘‘۔سرتاج مدنی نے کہا کہ2016میں پیدا شدہ صورتحال سے مفہامت،مذاکرات اور ترقی کیلئے بدقسمتی تھی،اور اپوزیشن میں سے کئی لوگ حتمی نتیجہ پر پہنچ گئے اور پارٹی کی استقامت پر سوال کھڑے کرنے لگے،تاہم انہوں نے کہا کہ فلمی طرز اور منفی پروپگنڈہ اب ایک کے بعد ایک عوام دوست اقدمات اٹھا کرپگھلرہا ہے۔ مدنی نے کہا کہ ریاستی نواجونوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہیں اور پی ڈی پی نے ہمیشہ سماج کے اس اہم جز کو ریاست کے خوشحال مستقبل کیلئے ایک طاقتور قوت سمجھاہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی خواہش ہے کہ وہ مختلف صورتحال کی شکار نہ بنیں اور انکی صلاحت ضائع نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نوجوانوں کو مکانیت دینے کی پیشکش میں پیش پیش ہے،اور ریاست کی ترقی میں انکی شراکت چاہتی ہے،برعکس اس کے وہ تشدد کا ایندھن بنے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے خلاف کیسوں کی واپسی،جن میں بیشتر سنگبازی میں ملوث تھے،وہ اس قوم کا حصہ ہے۔ انہوں نے ماضی کے اوراق کو الٹتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سر نو ،بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کرنے میں3 ماہ کا وقفہ لیا،اور مرکزی حکومت و بی جے پی سے حساس معاملوں پر انکی مزید یقین دہانی حاصل کی۔سرتاج مدنی نے کہا کہ سخت صورتحال کے دوران بھی انہوں نے اپنے مقصد پر نظر مرکوز رکھی،تاکہ ان مسائل کا حل برآمد ہو۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے عوامی عدم اطمنانی اور بے چینی کیلئے خود کو اقتصادی معاونت اور ترقیاتی پروجیکٹوں کے حصولیابی تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ انکا نظریہ ہے کہ سیاسی مسائل،جس میں عوامی جذبات مضمر ہے،کو ترجیجی بنیادوں پر افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ مدنی نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس کی بنیاد اسی سمت میں ہے اور چار نکاتی فارمولہ کا یہ تصور ایک نہ ایک دن صحت مند تبدیلی کا موجز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں مذاکراتی عمل کیلئے نمائندے کو نامز کرنے سے نتائج برآمد ہو رہے ہیں،جس کی وجہ سے کشمیر سے متعلق صورتحال پر معقول توجہ مرکوسز  ہو رہی ہے اور فلاحی فیصلے آسان ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس عمل میں مزید وسعت پیدا ہوگی جبکہ انہوں نے اپیل کی کہ وہ قیام امن کو مستحکم کرنے میں اپنا تعاون دیں،تاکہ وہ وقت بھی آئے کہ ہندوستان اور پاکستان دوستی اور باہمی افہام و تفہیم کی قیمت سمجھے،اور تمام برصغیر میں امن اور ترقی کا دور شروع ہو۔