نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا رجحان | والدین کا ناخواندہ ہونا بڑی وجہ قرار،حقوق کمیشن کی رپورٹ میں خلاصہ

سرینگر//انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی طرف سے کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ منشیات کیلت میں مبتلا نوجوانوں میں سے30.5فیصد کے والداور55فیصد مائیں بھی نا خواندہ ہیں۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 19.5فیصد نوجوانوں کے والد میٹرک پاس،جبکہ14.5فیصد مائیں میٹرک پاس ہیں۔اس زمرے میں11.5فیصد منشیات کے عادی نوجوانوں کے والد گریجویٹ، جبکہ5.5 فیصد  کی مائیں بھی گریجویٹ ہے۔ تحقیق کے مطابق منشیات میں گرفتار نوجوانوں کے6.5 فیصد والد پوسٹ گریجویٹ،جبکہ8.5فیصد مائوں نے ہائر اسکینڈری تک تعلیم حاصل کی ہے۔انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی طرف سے’’کشمیر میں منشیات کی لت پر مبنی علمی تجزیہ‘‘ نامی رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس زہر میں مبتلا نوجوانوں میں سے37.5فیصد نوجوانوں کے والد سرکاری ملازمین ہیں،جبکہ35.5فیصد نوجوانوں کے والد یا تو تجارت کرتے ہیں،یا نجی روزگار کے مالک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان نوجوانوں میں سے9.5فیصد نوجوانوں کے والد پرائیوٹ ملازمت میں ہے،جبکہ9فیصد نوجوانوں کے والد زراعت کے شعبے سے منسلک ہیں اور8.5فیصد نوجوانوں کے والد کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی طرف سے منظر عام پر لائی گئی رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ وادی میں منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کی85.5فیصد مائیں گھریلوں کام میں مصروف رہتی ہے،جبکہ10.5فیصد مائیں سرکاری ملازمت کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق3فیصد مائیں بے روزگار اور ایک فیصد سے بھی کم پرائیوٹ نوکری،نجی روزگار اور تجارت پیشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق69فیصد نشہ کرنے والے لوگ12ویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہے،جبکہ20فیصد گریجویٹ ہے۔تحقیق کے مطابق41فیصد کود روزگار یا تاجر ہیں،جبکہ35فیصد طلاب ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر منشیات کے عادی لوگوں میں98.5فیصد مرد اور1.5فیصد خواتین منشیات کی لت میں مبتلا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق71فیصد غیر شادی شدہ اور29فیصد شادی شدہ مجموعی تعداد کا حصہ ہے