نماز جنازہ کی پیشوائی کرنے پر گرفتاری

 سرینگر//جماعت اسلامی نے تنظیم کے لیڈران اور کارکنان کی گرفتاری کو پولیس کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شدگان کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے۔ایک بیان میں جماعت اسلامی کے ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی نے کہاکہ گاندربل پولیس نے امیر ضلع جماعت اسلامی سرینگر بشیر احمد لون کو بدھ کو گھر جاتے ہوئے راستے میں ہی گرفتار کرکے تھانہ پولیس گاندربل میں کوئی وجہ بتائے بغیر ہی نظر بند کردیا۔ بظاہر اُن کا صرف یہ قصور ہے کہ انہوں نے حال ہی میں شوپیان معرکہ میں جان بحق ہوئے پروفیسر محمد رفیع بٹ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنازہ کے دوران گڑبڑ مچانے کی کوشش کرنے والوں کی سرزنش کی۔ چونکہ بشیر احمد لون‘ شہید محمد رفیع کے والد کے گہرے دوست ہیں اور انہی کے کہنے پر انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی جوکہ ایک بنیادی دینی فریضہ ہے اور جس کو ادا کرنا‘ ہر ایک مسلمان پر فرض کفایہ ہے۔ سرکاری انتظامیہ پروفیسر مرحوم  کے جنازے میںلوگوں کے اژدھام کو دیکھ کر بوکھلا گئی ہیں اور اس بوکھلاہٹ سے نجات پانے کی خاطر ہی موصوف کی بلاوجہ گرفتاری بہ عمل لائی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات کے دوران تھانہ پولیس بجبہاڑہ اسلام آباد سے پولیس کی ایک بھاری نفری نے امیر تحصیل جماعت اسلامی اسلام آباد گلزار احمد بٹ کے گھر واقع اُرن ہال پر چھاپہ ڈالا اور موصوف کے فرزند عاقب کو جرم بے گناہی کی پاداش میں گرفتار کرلیا اور تھانہ پولیس بجبہاڑہ میں نظر بند کرلیا۔ اگلے روز جب گلزار احمد اپنے بیٹے کی رہا ئی کے لیے ایک پولیس افسر سے ملے تو جماعت اسلامی سے وابستگی کا ذکرسنتے ہی وہ آگ بگولا ہوگیا اور بلاکسی قانونی یا اخلاقی جوا ز کے آمرانہ طریقے پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے‘ موصوف کو بھی حراست میں رکھنے کا حکم جاری کردیا۔ دونوں باپ بیٹے بلاکسی قانونی جواز کے تھانہ ھٰذا میں نظر بند ہیں اور اُن پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی ان گرفتاریوں کو سرکار اور پولیس کی انتقام گیری قرار دے کر ان کی کڑی مذمت کرتی ہے اور تینوں نظر بندوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی پر زور دیتی ہے۔