نفرت کی ہوائیں آپہنچی ہیں گاؤں کے چوپالوں تک

شہاب حمزہ
ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ فرقہ پرستی اور نفرت کی بنیاد پر ہی ہندوستان کی آزادی کے پروانے پر آخری مہر ثبت کی گئی۔ نفرت کی سیاست کی زیر سائے عظیم ہندوستان کی سرزمین پر آزادی کے ساتھ ساتھ بٹوارے کے نام پر سرحد کی لکیریں کھینچ دی گئی ۔ فرقہ پرستی کی بنیاد پر جن ممالک کی نو تشکیل عمل میں آئی ہو اور وہاں انگریزوں کے شاطر حربوں کی بیج بو دی گئی ہو ۔نفرت کے اس  بیج کو کبھی نہ کبھی تناور درخت تو ہونا ہی تھا۔ اور یہ لازم تھا کیونکہ وقفہ وقفہ سے فرقہ پرستی کے سائے میں معصوم انسانی لہو سے انگریزوں کی بوئی ہوئی اس بیج کی آب پاشی جو کی جاتی رہی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تحریک آزادی میں شہری باشندوں کے ساتھ ساتھ گاؤں اور قصبوں کے جانبازوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ آزادی کے بے شمار متوالے دیہی حلقوں سے بھی جانثاری کی داستانیں اپنے لہو سے لکھ گئے ۔ ان سب کے باوجود نفرت کی سیاست سے ہمارے گاؤں کئی دہائی تک محفوظ رہے ۔ ہمارے عظیم ملک میں بے شمار ایسے بھی گاؤں ہیں جہاں مختلف مذہبوں کے ماننے والے لوگ ایک ساتھ زندگی کے لمحے بسر کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں برابر کے ساتھی ہوتے ہیں۔ سارے تہوار، چاہے جس مذہب سے متعلق ہو، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خوشی سے مناتے چلے آرہے ہیں۔ گاؤں اور قصبوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ہر شخص ایک دوسرے کو کسی نہ کسی رشتے سے پکارتا ہے ۔گاؤں میں بلاتفریق مذہب رشتے کی ڈور میری نظر میں ہمارے ملک کی سب سے شاندار اور عظیم خوبصورتی ہے ۔ مذہبی فرق کئے بغیر بچوں کے نزدیک بڑوں کے لیے عزت کا رشتہ ہے، تو بڑوں کے برتاؤ سے اپنے چھوٹوں کے لیے محبت کے نایاب رشتے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ گاؤں کی عورتیں اور بہوئیں رشتوں کی پاسداری کے ساتھ مرد حضرات سے جو پردے کا اہتمام کرتی ہیں اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں مل نہیں سکتی ۔محبت کے رشتوں میں بندھے ہے ہمارے گاؤں کی روایت صدیوں کی میراث ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کے حالات سے آشنا ہیں ۔اجتماعی کوششوں سے حسب ضرورت، ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہمارے ملک کے گاؤں کی سب سے اعلی روایت ہے ۔ جذبوں اور رشتوں کی یہ تصویریں ہمارے عظیم ملک کی سب سے عظیم خوبی اور خوبصورتی بھی ہیں ۔ ان عظیم جذبوں اور رشتوں میں نفرت کے سوداگروں نے آزادی کی پہلی صبح سے ہی زہر گھولنے میں مصروف رہی ہیں ۔ آزادی کے بعد سے سب سے بڑا المیہ اور حیران کن بات  یہی رہی ہے کہ انگریزوں کی نفرت کی سیاست کو عظیم ملک کے ہوش مند سپوتوں نے جاری رکھا ۔جس Divide and rule کے فارمولے عمل کرتے ہوئے برطانیہ حکومت دو سو سال تک ہمارے مادر وطن کو غلام بنائے رکھا۔ افسوس انگریزوں کے اسی وراثت کو ہمارے ملک کے فرقہ پسند ذہنوں نے سنبھالے رکھا اور نفرت کی اس پرچم کو ہاتھوں میں تھامے آگے بڑھتے رہے ۔ پچھتر برسوں میں نفرت کے سوداگر یقینی طور پر اپنی کامیابی کی ایک نئی منزل سے آشنا ہو گئے ہیں ۔جب سے انگریزوں نے ہمارے ملک میں اپنے اقتدار کو خطرے میں دیکھا فرقہ پرستی اور مذہب کے نام پر ہمیں لڑاتے رہیں۔ آزادی کے بعد بھی ملک کے بے شمار دنگے انگریزوں کے اسی سیاست کا حصہ بنا رہا ۔ عام طور پر ملک میں ہونے والے فسادات شہروں کی سرزمین تک محدود رہے کیوں کہ گاؤں کی معصومیت اور عظیم رشتوں میں نفرت کی سیاست کے لیے کئی دہائی تک کوئی جگہ نہ تھی۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں ۔ فرقہ پرستی اور نفرت کے تاجروں نے 75 برسوں تک جو محنت گاؤں کی سر زمین پر کی ہے، اب اس کے اثرات نظر آنے لگے ہیں ۔ گاؤں کے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی حاوی ہونے لگی ہے ۔اب گاوں کی تصویریں بدل رہیں ہیں۔ دیہی علاقوں کے صاف اور کھلی ہواوں میں نفرت کی نہریں بہنے لگی ہیں ۔ مذہبی تفریق گاؤں کی علامت بن رہی ہے۔ آپسی بھائی چارگی اور صدیوں سے چلی آ رہی ہے محبت کی روایت کی تفسیریں بدل رہی ہیں ۔ گاؤں کی چوپالوں میں بھی نفرت کی شہنائیاں بجنے لگی ہیں۔ یہ چوپالیں صرف گرام سبھا کی علامت نہیں بلکہ ہمارے ملک کی اولین عدالت بھی ہیں جہاں صدیوں سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے آرہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے عظیم ملک کے چوپال بھی فرقہ پرستی کے شکار ہوگئے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ خاص طور پر نئے ذہنوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان ذہنوں میں فرقہ پرستی کی بیج بو دی گئی ہے ۔اگر وقت رہتے عظیم ہندوستان کے قدیم روایات کی پاسداری نہ کی گئی تو آنے والے چند برسوں میں دیہی حلقوں سے نفرت کے شعلے سے پھوٹ پڑیں گے جہاں ملک کے بچے ہوئے تقریبا 75 فیصد آبادی متاثر ہوگی یہ یقینی طور پر ہمارے ملک کے مستقبل کے لئے خطرے کی سب سے بڑی علامت ہے ۔

(رابطہ۔8340349807)

 [email protected]>