نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پرانتظامیہ کی قدغن

 ڈوڈہ//ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈوڈہ نے حکومت کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کے لئے جاری ہونے والے ضابطہ اخلاق کی حمایت کرتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے کی جانے والی احتجاجی ہڑتال کی مذمت کرتے ہوئے حکومتی فیصلہ کو درست ٹھہرایا ہے اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدل کر حکومت کے عوام دوست و طلبہ دوست فیصلوں کا خیر مقدم کرنے کی صلح دی ہے ضلع کورٹ کمپلیکس ڈوڈہ میں بار صدر ایڈوکیٹ غلام حسن پاٹیگڑو کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کے دوران مقررین نے کہا کہ تعلیم کو کاروبار میں بدلنے اور من مانی مرضی سے نام نہادداخلہ فیس و ماہانہ فیس میں اپنی مرضی سے اضافہ کرنے اور طالب علموں کو سکول سے وردی، کتابیں خریدنے پر مجبور کرنا سراسر غیر قانونی و ضابطہ اخلاق کو کھلم کھلا خلاف ورزی ہے وہیں ان سکولوں میں تعینات محنت کش اساتذہ کو اُس فیس کی رقم میں عشر و عشیر بھی نہ ملتا ہے جوایک اور انسانی حقوق کی پامالی ہے مقررین نے ریاستی وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا مشن جاری رکھیں اور نجی تعلیمی اداروں کی جاگیر انہ سوچ اور عمل کے خلاف پوری سیول سوسائٹی اُن کے ساتھ ہے تاکہ غریب لوگوں کو راحت ملے اُنہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت صاف واضح انصاف پر مبنی ضابطہ اخلاق تیار کرکے اُس کو مشتہر کرے تاکہ عام آدمی اس سے مستفید ہو۔ اور یہ بھی کہا کہ آئندہ سکولوں نے ہڑتال کی تو وہ سکولوں سے اُس روز کی فیس واپس لینے کے لئے قانونی کارروائی بھی کریں گے اجلاس سے نائب صدر ایڈوکیٹ رمن پردیپ ، ایڈوکیٹ راجیو رانا، ایڈوکیٹ ونے آنند ، ایڈوکیٹ مرزا کبیر جاوید بیگ، ایڈوکیٹ شیخ محراج خالد، ایڈوکیٹ اجے کمار ٹھاکور، ایڈوکیٹ کیول کرشن منہاس، ایڈوکیٹ ارشد حفیظ سلاریہ و دیگران نے بھی خطاب کیا۔