نئی دہلی کشمیریوں کے خلاف برسرجنگ :انجینئر

کپوارہ//مرکزی حکومت پر کشمیر کو ایک جیل خانے میں تبدیل کرنے کاالزام عائد کرتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور کپوارہ بارہمولہ پارلیمانی نشست کے اُمیدوار انجینئررشید نے کپوارہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران لوک سبھامیں کشمیرکا سچ سامنے لانے کا یقین دلاتے ہوئے عوام سے ووٹ طلب کئے۔انجینئر رشید کہا کشمیریوں کو دبانے کیلئے دلی کے سبھی اقدامات ناکام ہوئے ہیںاور اب سرینگر جمو ں شاہراہ پر دو دن کے لئے گاڑیو ں کی نقل و حمل بند کرنے کا ایک نیاحکم جاری کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ دلی نے ابھی بھی کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چایئے کہ اس بار کشمیری ان کے بہکاوے میں نہیں آنے والے ہیں ۔ انجینئر رشید نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگ ڈوگرہ راج سے ہی دبائے جاتے رہے ہیں اور ابھی بھی نئی دلی نے کشمیریوں کے خلاف ہرمحاذپراعلان جنگ کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا’’جموں سرینگر شاہراہ کو عام لوگوں کیلئے بند کئے جانے کا معاملہ ہو یا سرینگر سنٹرل جیل کے اندر قیدیوں پر بدترین تشدد کرنا،نئی دلی اور ریاست میں اسکے گماشتوں کی ذہنیت بے نقاب ہورہی ہے‘‘۔گورنر انتظامیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ اس نے کیوں اور کس کے کہنے پر سنٹرل جیل کے اندر تشدد کیا اور بے بس قیدیوںپر شلنگ کرنے کے علاوہ ان کے مذہبی جذبات کی بدترین حد تک دھجیاں اڑادیں۔جموں کشمیر کی اقتصادی،اخلاقی،آئینی اور سیاسی اعتباریت پر ہورہے حملوں کیلئے عمر عبداللہ،محبوبہ مفتی،سجاد لون اور دیگر کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ ان لوگوں کی غیر سنجیدگی نے نئی دلی کو کشمیریوں کوحقیر سمجھنے کا حوصلہ دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’جموں کشمیر کو بچانے اور 70 سال سے لٹکتے آرہے مسئلہ کشمیر کے معیاد بند فیصلے کی خاطر نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس جیسی پارٹیوں کا جڑ سے اکھاڑ پھینکنا لازمی ہوگیا ہے کیونکہ یہی پارٹیاں جموں کشمیر میں نئی دلی کے دھونس دباؤ کا چہرہ بنی ہوئی ہیں اور یہی دلی کے دست و بازو ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ سیول اور پولیس انتظامیہ کو کسی جانبداری کے بغیر کام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہر ووٹر مجبور کئے بغیر اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دیتا ہے۔انجینئر رشید نے لوگوں سے پارٹی وابستگیوں سے بالا  ترہوکر انہیں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا’’میں بھارتی عوام کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو کشمیر کا سچ سنانے کیلئے پارلیمنٹ میں داخلہ چاہتا ہوں اورمیری شمالی کشمیر کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پارٹی،علاقائی اور دیگر ہر قسم کی عصبیت اور وابستگی کو چھوڑ کر میرے لئے ووٹ کریں‘‘۔انہو ں نے کہا کہ اگر میں نے لوک سبھا انتخاب جیت لیا تو پارلیمنٹ میں جاکر نریندی مودی کی آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر کہوں گا کہ مسئلہ کشمیر کا لوگو ں کی امنگو ں کے مطابق حل نکالیں ۔