نئی دہلی ریاست کے تئیں اپنی نوآبادیاتی سوچ بدلے

جموں//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے نئی دلی سے جموں کشمیر کے تئیں اپنی نو آبادیاتی سوچ کو بدلنے کیلئے کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی جموں کشمیر کو مختلف ناموں پر تقسیم کرنا چاہتی ہے اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کو نظرانداز کرکے یہاں کے لوگوں کو بنیادی ضروریات تک سے محروم رکھا جارہا ہے۔چناب ویلی کے نیل، بانہال، کھڈی، چریل اور دیگر مقامات پر انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ نام نہاد قومی شاہراہ پر عام لوگوں کی نقل و حمل پر پابندی لگاکر حکومت ہند نے پوری ریاست بالخصوص بانہال اور رم بن کے لوگوں کی زندگی جہنم بنادی ہے۔انجینئر رشید نے کہا’’سکیورٹی ایجنسیوں کی نقل و حرکت کیلئے شاہراہ پر عام لوگوں کیلئے پابندی لگانے سے پوری ریاست کے لوگوں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا ہے کیونکہ بہتر سڑک رابطوں کی عدم موجودگی میں یہ شاہراہ ایک سپلائی لائن بنے ہوئے ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ چناب ویلی کے قدرتی وسائل کو غیر ریاستی افراد کو عملاََ اونے پونے داموں بیچا جارہا ہے،شاہراہ کو چار گلیاروں والی بنانے کا منصوبہ کچھوے کی چال چل رہا ہے اور یہ(منصوبہ) چند ایک تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ارباب اقتدار کے منظورِ نظر بابوؤں کیلئے سونے کی کان بن گیا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ جہاں چناب ویلی کے بے پناہ قدرتی وسائل سے غیر ریاستی کمپنیاں اور افراد اپنی تقدیر سنوار رہے ہیں وہیں خود اس علاقہ کے لوگوں کی حالت دوسرے درجہ کے شہریوں کے جیسی ہوکے رہ گئی ہے جو نانِ شبینہ تک کیلئے پریشان ہیں۔انجینئر رشید نے کانگریس،بی جے پی،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹیاں ووٹ بٹورنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے تک آزما رہی ہیں۔انہوں نے کہا’’حالانکہ وادیٔ کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی ایک دوسرے کے ساتھ راست ٹکر ہورہی ہے لیکن جموں میں ان دونوں کی پالیسی پُراسرار اور مضحکہ خیز ہے۔ان دونوں پارٹیوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ یہ کانگریس کے امیدوار کے والد کرن سنگھ ہیں کہ جنہوں نے چند دن قبل بڑے فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ کانگریس پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کا اعزاز رکھتی ہے۔حالانکہ نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور کانگریس اپنے آپ کو سکیولر بتاکر مسلمانوں اور دلتوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن کرن سنگھ اور ان پارٹیوں کے دیگر لیڈر،یہ تاثر دیکرکہ یہ جماعتیں کچھ کم قوم پرست اور بنیاد پرست نہیں ہیں،ہندو ووٹروں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سکیولر دکھائی دینے والی یہ پارٹیاں کم قوم پرست اور کم بنیاد پرست نہیں ہیں‘‘۔بی جے پی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ وہ جموں میں استحصال اور مذہبی جذبات کو ابھارنے کی سیاست کرکے اس پورے خطہ کو زعفرانی رنگ میں رنگنا چاہتی ہے اور اس مقصد کیلئے مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات کس قدر شرمناک ہے کہ کانگریس اور بی جے پی نے جموں کی دو نشستوں میں سے ایک کیلئے بھی کسی مسلمان کو منڈیٹ نہیں دیا جبکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس بھاجپا کے دست و بازو کے بطور ایک خوف بٹھاکر یہاں کے مسلمانوں کو بھاجپا کے سامنے سرخم کرنے پر مجبور کرچکی ہیں‘‘۔انجینئر رشید نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی اتحاد پارٹی سیاست کو فرقہ واریت کا شکار بنانے میں یقین نہیں رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایماندارانہ سیاست،بہترین اور صاف و شفاف انتظامیہ کی فراہمی اور مسئلہ کشمیر کے حل کی سنجیدہ کوششوں کیلئے عوامی اتحاد پارٹی کے امیدوار شبیر مغل کو ووٹ دینا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ لوگ شبیر مغل کو ایک اچھے اور معتبر سماجی کارکن کے بطور جانتے ہیں لہٰذا انہیں مذکورہ کو ووٹ دیکر کامیاب بنانا چاہیئے تاہم لوگوں کی صحیح پلیٹ فارموں پر صحیح اور سچے انداز میں ترجمانی ہوسکے۔اس دوران انجینئر رشید نے شمالی کشمیر کے مندی گام میں فورسز کے ہاتھوں ایک 13سالہ بچے کے مارے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔