مینڈھر کے نڑول علاقے میں پانی کا بحران ، لفٹ سکیم 6ماہ سے ناکارہ

مینڈھر//مینڈھر کے نڑول علاقے میں پانی کی اس قدر قلت پائی جارہی ہے کہ مقامی عوام کو ایک برتن بھرنے کیلئے گھنٹوں چشمے پر انتظار کرناپڑتاہے اور وہ دن بھر ہی نہیں بلکہ رات کو بھی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں ۔نڑول میں واقع پانی کے چشمے پر صبح سویرے ہی سے ہی قطاریں لگنا شروع ہوجاتی ہیں جو شام تک بھی ختم نہیں ہوتی اور لوگ اپنے برتنوں کو بھی قطار میں رکھ کر اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق پانی حاصل کرنے کیلئے قطاروں کا ایسا منظر ہوتاہے جیسے کسی ریل گاڑی کی ٹکٹ لینے کیلئے قطار لگی ہوتی ہے ۔ان کاکہناہے کہ وہ سردی کے باوجود صبح سویرے ہی چشمے پر پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن وہاں پہلے سے ہی رش ہوتاہے ۔انہوں نے بتایاکہ انہیں لفٹ سکیم کے ذریعہ پانی سپلائی کیاجاتاتھا تاہم یہ سکیم اگست2018سے بند پڑی ہوئی ہے ۔ان کاکہناہے کہ اس سلسلے میں انہوں نے بارہا حکام سے بات کی اور سکیم کو چالو کرانے کی اپیلیں کی گئیں مگر کسی نے کوئی دھیان نہیں دیا اور انہیں پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترسناپڑرہاہے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ اے ای ای محکمہ پی ایچ ای مینڈھر کو ٹس سے مس نہیں اور ان کی بات سن کر ان سنی کردی جاتی ہے ۔ ان کاکہناہے کہ حکام یہ بہانہ بنارہے ہیں کہ ان کے پاس ملازم نہیں کیونکہ عارضی ملازمین ہڑتال پر ہیں ۔مقامی شخص ذوالفقار علی کٹھانہ کاکہناہے کہ یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ ان کی خواتین کو پانی کا ایک برتن بھرنے کیلئے کئی گھنٹے چشمے کے پاس قطاروں میں کھڑے رہ کر انتظار کرناپڑتاہے ۔انہوں نے کہاکہ کئی کلو میٹر پر محیط آبادی کا پانی کیلئے انحصار اسی ایک چشمے پر ہے اور پہلے تو انہیں پانی بھرنے کیلئے انتظار کرناپڑتاہے اور پھر اسے گھر تک پہنچانے کیلئے کئی کلو میٹر کا سفر طے کرناپڑتاہے ۔ ان کاکہناہے کہ یہ سب کچھ محکمہ کی لاپرواہی کے باعث ہے کیونکہ محکمہ لفٹ سکیم کو ٹھیک کرکے سپلائی بحال نہیں کررہا۔ مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ اور ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ نڑول میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں اور اگر لفٹ سکیم ٹھیک نہ ہوئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔