میرحفیظ اللہ کی بگڑتی صحت پر صحرائی متفکر

سرینگر//تحریک حریت کے نظربند چیرمین محمد اشرف صحرائی نے محبوس لیڈر میر حفیظ اللہ کی اسلام آباد تھانے میں بگڑی ہوئی صحت کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر محبوس لیڈر کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ لواحقین کے مطابق میر حفیظ اللہ کی صحت بری طرح بگڑ چکی ہے اور موصوف 2016؁ء کی عوامی تحریک میں نمایاں رول ادا کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے اور پھر کٹھوعہ اور سرینگر کے جیلوں میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایامِ اسیری کاٹ رہے ہیں۔ اس دوران اُن کی صحت بگڑ گئی، مگر جیل حکام یا سرکاری انتظامیہ نے اُن کا خاطر خواہ علاج ومعالجہ نہیں کرایا، جس وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ عدالت نے اُن پر لگائے گئے سرکاری الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم دے دیا، مگر پولیس اسٹیٹ میں قانون اور انصاف نام کی کوئی چیز موجود نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے اُن کی رہائی میں رُکاوٹیں ڈالیں جس وجہ سے ان کی بلاجواز گرفتاری کو طول دیا جارہا ہے۔ موصوف اس وقت پولیس اسٹیشن اسلام آباد میں نظربند ہیں، لواحقین کے مطابق ڈاکٹروں نے اُن کے طبی معائینے کے دوران اُن کے گردے میں ایک Cystپایا جس کا جلد سے جلد آپریشن ہونا چاہیے ورنہ موصوف کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جبکہ موصوف شوکر، پراسٹیٹ اور دوسرے کئی مہلک امراض میں بھی مبتلا ہیں۔ اس طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر ان کا علاج کیا جاتا ہے اور نہ اُن کی رہائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ صحرائی صاحب نے میر حفیظ اللہ کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اُن کو رہا کیا جائے، تاکہ ان کا بروقت علاج ومعالجہ کروایا جاسکے۔