مہلوک حاملہ خاتون کے حق میں ایک لاکھ روپے واگذار،انسانی حقوق کمیشن کے سامنے ڈی سی پلوامہ کی رپورٹ پیش

سرینگر// پلوامہ کے شادی مرگ میں19اکتوبر شام کو فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوئی ایک حاملہ خاتون فردوسہ کے حق میں ضلع انتظامیہ نے ایک لاکھ روپے معاوضہ منظور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ نے ریاستی حقوق کے مقامی کمیشن میں نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی سے کہا کہ فردوسہ کے حق میں ایک لاکھ روپے کا ایکس گریشا ریلیف منظور کیا گیا ہے،اور اس کو واگذار بھی کیا گیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر کی طرف سے یہ جواب انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات سے متعلق عرضی زیر نمبر  SHRC 367/Pul/2018محرر25اکتوبر دائر کرنے کے بعد آیا۔ڈپٹی کمشنر پلوامہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر92/2018زیر دفعہ307آرپی سی کے تحت پولیس تھانہ راجپورہ میں درج کر کے تحقیقات شروع کی گئی ۔رپورٹ میں کہا گیا’’ زخمی خاتون کو ضلع اسپتال پلوامہ پہنچایا گیا،جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی‘‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہے۔ اونتو نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ 19اکتوبر کو فورسز نے اندھادھند فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں فردوسہ زوجہ خورشید احمد شیخ،جو کہ5ماہ کی حاملہ تھی،شدید زخمی ہوئی اور انہیں فوری طور پر ضلع اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔درخواست میں کہا گیا’’چونکہ علاقے میں سرکاری فورسز کی طرف سے کوئی بھی آپریشن نہیں چل رہا تھا۔فورسز نے اندھادھند فائرئنگ کی جس کے نتیجے میں مذکورہ خاتون جان بحق ہوئی‘‘۔ اس دوران عرضی گزار کا کہنا ہے کہ ایکس گریشا ریلیف انصاف نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے’’یہ دو جانوں کا سوال ہے،کیونکہ خاتون حاملہ تھی،اور ایک لاکھ روپے کا معاوضہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،جبکہ44آر آر سے وابستہ ان اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جانی چاہے،جو اس میں ملوث تھے‘‘ْ۔