مڈل سکول ناڑ سلواہ میں تعلیمی ماحول کا فقدان،عمارت نہ بیت الخلاء

مینڈھر// تعلیمی زون مینڈھر کے گورنمنٹ مڈل سکول ناڑ سلواہ کی حالت خستہ ہونے کیساتھ ساتھ بچوں کے بیٹھنے کیلئے صرف ایک ہی کمرہ موجود ہے ۔محکمہ ایجوکیشن کی ناقص کارکر دگی کی وجہ سے دیہی علا قوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل تاریک ہو تا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مڈل سکول ناڑ سلواہ1977میں پرائمری سکول کے طور پر قائم کیا گیا تھا جس کے بعد 2004میں اس کا درجہ بڑھا کر مڈل سکول بنایا گیا لیکن عمارت اس وقت تک تعمیر نہیں ہو سکی جس میں بچے بیٹھ کر اپنی تعلیم حاصل کریں۔مقامی لوگوں کے مطابق 3کمروں پر مشتمل عمارت کی تعمیر کا کام 2012میں شروع کیا گیا تھا جس کی تعمیر پر 5لاکھ روپے خرچ کردئیے گئے لیکن اس کی تخمینہ لاگت 9لاکھ روپے تھی لیکن چھت ڈال کر عمارت کو چھوڑ دیا گیا تاہم کافی عرصہ گزر جانے کے بعد اب عمارت میں بارشوں کے دنوں میں پانی ٹپکتا رہتا ہے جس کی وجہ سے بچے اب مذکورہ عمارت کو استعمال بھی نہیں کر سکتے ۔اس سلسلہ میں اپر سلواہ پنچائت کے سرپنچ محمد یوسف چوہدری نے محکمہ تعلیم کے اعلی آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دور دراز علا قہ ہو نے کی وجہ سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ سکول میں 50سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ ان کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے کاغذی ریکارڈ میں 5ٹیچر تعینات کئے گئے ہیں لیکن ان میں سے دو ٹیچروں کو کسی اور سکول میں اٹیچ کیا گیا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ عمارت کیساتھ ساتھ انتظامیہ کی جانب سے 1لاکھ 9ہزار روپے بیت الخلاء کی تعمیر کیلئے وگزار کئے گئے ہیں تاہم نہ تو سکول کی عمارت اور نہ ہی بیت الخلاء کی عمارت مکمل کی جاسکی ہے ۔مقامی سرپنچ نے کہاکہ سکول کی خستہ حالی اور انتظامیہ کی غفلت شعاری کو دیکھتے ہو ئے اب لوگ اب اپنے بچے مذکورہ سکول میں داخل نہیں کروا رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دے جو سکول کی عمارت کے معیار کا جائزہ لے اور اس سکول کی عمارت کو جلداز جلد مکمل کرتے ہوئے بچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو ۔