مومن آباد بٹہ مالو میں جے کے سٹیٹ جوڈیشل اکیڈیمی خصوصی تربیتی پروگرام منعقد

سرینگر//جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ جوڈیشل اکیڈیمی نے جوڈیشل اکیڈیمی مومن آباد بٹہ مالو میں ’’ سنٹنسنگ اینڈ وکٹمز کمپنسیشن سکیم ، رائٹس آف وکٹم اینڈ اکیوزڈ رلیٹنگ ٹو سنٹنسنگ اینڈ چوزنگ اپراپریٹ سنٹنس کے موضوع پر ایک روزہ خصوصی تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا۔تربیتی پروگرام کا افتتاح جسٹس راما لنگم سدھا کر قائمقام چیف جسٹس ہائی کورٹ آف جے اینڈ کے نے کیا۔ اس موقعہ پر جسٹس مظفر حسین عطار اور جسٹس حسنین مسعودی سابق جج صاحبان ہائی کورٹ جے اینڈ کے بھی موجود تھے۔ افتتاحی خطاب میںجسٹس راما لنگم نے کہا کہ ٹرائل جج کے فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے احترام کیا جارہا ہے اگر یہ عدلیہ کے اصولوں اور جواز کے تحت ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک جج کو یہ بات یقینی بنانی چاہیئے کہ جرم سے متاثرہ شخص کو معاوضے کی ادائیگی ہو۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایک جج کی طرف سے فیصلہ سناتے وقت قلب و روح کا استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ پارٹیوں کے لئے مکمل انصاف کی فراہمی یقینی بن سکے۔قائمقام چیف جسٹس ہائی کورٹ جے اینڈ کے نے ججوں کو عظیم منصفوں ، ججوں اور ماہرین قانون کی کتابوں اور تخلیقات کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اُن کی قانونی جانکاری میں اضافہ ہو کیونکہ سماج کو اُن سے معلومات کے خزانے اور اعلیٰ ترین کار کردگی کی توقع ہوتی ہے۔اس سے قبل پروگرام کے موضوع کو متعارف کرتے ہوئے ڈائریکٹر جو ڈیشل اکیڈیمی عبدالرشید ملک نے کہا کہ ( سنٹنسنگ ) دراصل سماجی انصاف کا ایک پہلو ہے کیونکہ ایک جج کو متاثرہ کی پریشانی کے علاوہ انصاف کے لئے سماج کی آواز کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے ۔ اس موقعہ پر ریسورس پرسنز جسٹس مظفر حسین عطار ، سابق جج ہائی کورٹ جے اینڈ کے جسٹس حسنین مسعودی اور عبدلرشید ملک ڈائریکٹر جے اینڈکے سٹیٹ جوڈیشل اکیڈیمی نے بھی خطاب کیا۔پروگرام کا اہتمام وادی کے مختلف اضلاع کے جوڈیشل افسران کے لئے کیا گیاتھا۔شرکأ نے جج صاحبان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا او رسنٹنسنگ اور وکٹم کمپنسیشن ایکٹ 2013 کے تعلق سے کئی معاملات اُبھارے ، جن کا ریسورس پرسنز نے اطمینان بخش جواب دیا۔