موسم کا جارحانہ رُخ

  معمر خاتون لقمہ اجل،املاک، میوہ باغات اورفصلوں کو شدید نقصان، بجلی سپلائی بھی متاثر

 
سرینگر //چند روز سے گرمی کی شدت بڑھ جانے کے ساتھ ہی وادی میں موسم نے اچانک کروٹ بدلی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیز آندھی اور بارشوں نے سرینگر سمیت شمال و جنوب میں تباہی مچادی ۔بارہمولہ میں ایک خاتون درخت کی زد میں آکر لقمہ اجل بن گئی جبکہ سرینگر اور بڈگام میں کئی مکانات کی چھتیں اڑ گئیں جبکہ قہر انگیز ژالہ باری اور تین آندھی کے نتیجے میں میوہ باغات اور فصلوں کو نقصان پہنچا ۔تفصیلات کے مطابق وادی کے شمال وجنوب میں تیز ہوائوں، طوفانی آندھی ،ژالہ باری اور شدید بارشوں کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں درخت جڑوں سے اکھڑگئے، چھتیں اڑ گئیں، سڑک رابطہ منقطع ہو گئے جبکہ میوہ کی فصلوں سمیت دھان کی پنیری اور درختوں پر موجود شگوفے بھی تباہ ہوگئے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی سپلائی بھی منقطع ہو کر رہ گئی ۔منگل کی دوپہر کو سخت ترین گرمی کے بیچ آسمان پر کالے بادل چھاگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمانی بر ق گرنے کے ساتھ ساتھ موسلادار بارشیں اورشدید ژالہ باری شروع ہوئی ۔ گلشن محلہ حول سرینگر میں 4مکانات کو تیز ہوائوں کی وجہ سے نقصان ہوا،اور انکی چھتیں اڑ گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق بشیر احمد بٹ،فاروق احمد بٹ،محمد شفیع شیخ اور محمد شفیع بٹ کی مکانات کو نقصان پہنچا۔ ادھرضلع بارہمولہ کے کئی علاقوں میں قہر انگیز اندھی اور  ژالہ باری نے تباہی مچائی جس کے نتیجے میںکئی مکانات کے علاوہ  میوہ باغات ،فصلوں ،سبزیوں اوربجلی نظام کوسخت نقصان پہنچا۔ادھر واگورہ علاقے میں ایک 55 سالہ خاتون درخت کے نیچے دب کر لقمہ اجل بن گئی ۔ ضلع بارہمولہ کے پٹن ، ما گام ،ہانجی ویرہ ،مرگنڈ ، کاوسہ ،دلنہ کانسپورہ ،رفیع آباد ،سوپور اور قصبہ کے مین بازار،اولڈٹائون ،دیوان باغ ،نورباغ ،محلہ جدید،خانپورہ ،کانلی باغ اوردیگرکچھ علاقوں میں میں منگل کو بعد دپہر اچانک تیز آندھی ،بارشیں اور قہر انگیز ژالہ باری شروع ہوئی جس کے  نتیجے میںدرجنوں دکانات اورمکانات کے چھت ہوامیں اُڑتے نظرآئے ،دکانات کے باہراورریڈوں وچھاپڑیوں پرموجودسامان آندھی کی لپیٹ میں آکرادھراُدھر بکھرگیا۔ کچھو مقام واگورہ بارہمولہ میں ایک 55 سالہ خاتون حاجرہ بیگم زوجہ غلام رسول میر نزدیکی کھیت میں موجود تھی کہ اس دوران تیز آندھی کی وجہ سے ایک درخت گر آیا جس کے نتیجے میں مذکورہ خاتون شدید زخمی ہوئی ۔مقامی لوگوں کے مطابق اگر چہ اُسے سب ضلع اسپتال کریری پہنچا یاگیا تاہم ڈاکٹروں نے مذکورہ خاتون کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال منتقل کیا ۔جہاں وہ زخمیوں کے تاب نہ لاکر دم تورڑ بیٹھی۔ اس دوران ضلع کورٹ بارہمولہ واقع محلہ دیوان باغ میں دوبڑے بوسیدہ سفیدے کے درخت اکھڑ گئے  تاہم اسے کوئی جانی یامالی نقصان نہیں پہنچا۔نزدیک ہی ڈی آئی جی آفس کے قریب ایک بڑادرخت محکمہ جنگلات کی ایک عمارت پرجاگراجسکے نتیجے میں عمارت کونقصان پہنچا۔برق رفتارہوائوں سے دہشت زدہ بارہمولہ قصبہ کے لوگوں نے بتایاکہ اچانک تیزہوائیں چلنے سے درجنوں درخت اورمتعددبجلی کھمبے بھی ٹوٹ گئے جسکے باعث بجلی ومواصلاتی نظام درہم برہم ہوکررہ گیا۔تیزہوائوں کی زد میں سفیدے کے بوسید ہ درخت گرآنے کے اندیشے کے پیش نظرکانٹھ باغ کراسنگ سے قصبہ بارہمولہ تک سینکڑوں کی تعداد میں مسافراورمال بردارگاڑیاں درماندہ ہوکرہ گئیں ۔ادھر سوپورکے کئی دیہات میں بھی تیزہوائوں کے ساتھ ساتھ ژالہ باری بھی ہوئی ،جسکے نتیجے میں میوہ جات ،فصلوں ،سبزیوں اوربجلی نظام کوسخت نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔متاثرہ دیہات وعلاقہ جات کے لوگوں نے بتایاکہ تیزہوائیں چلنے اورژالہ باری کی وجہ سے درجنوں درخت گرگئے جسکے نتیجے میں کئی تعمیرات اورگاڑیوں کونقصان پہنچا۔جگہ جگہ درخت گرجانے اوربجلی کے کھمبے ٹوٹ جانے کی وجہ سے بجلی سپلائی کاٹ د ی گئی اورمنگل کوشام دیرگئے تک کئی دیہات میں بجلی سپلائی منقطع تھی جبکہ سرینگر مظفر آباد شاہرہ پر بھی کئی جگہوں پر درخت جھڑ سے اکھڑ گئے جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر رہی۔اس دوران  شوپیاں اور بڈگام میں بھی شدید ژالہ باری اور تیز ہواؤں کے نتیجے میں میوہ باغات ،کھڑی فصلوں اور دھان کی پنیری کے علاوہ سبزیوں کو شدید نقصان پہنچاہے،جبکہ کئی جگہوں پر مکانات کے چھت اڈ جانے کے علاوہ درجنوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے ۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تیز ہوائوں کے بعد لوگ بارشوں کے انتظار میں تھے تو اچانک آسمان سے ژالہ باری کے گولے برسنے لگے اور زمین پر موٹی تہہ بچھ گئی یہ ژالہ باری کئی منٹوں تک جاری رہی جس کی وجہ سے علاقے میں موجودمیوہ باغات کے علاوہ دیگر فصلوں کو زبردست نقصان پہنچا۔سرحدی علاقہ کرناہ میں بھی قہر انگیر ژالہ باری اور آندھی نے ہجترہ ، دھنی ، سعدپورہ ، کونہ گبرہ باردرکوٹ ، ہیبکوٹ اور دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے ان علاقوں میں نہ صرف دھان کی پنیری اور دیگر فصلوں کو نقصان پہنچا بلکہ ان علاقوں کا رابطہ تحصیل ہیڈکواٹر سے منقطع ہو کر رہ گیا ہے بتایا جاتا ہے کہ پانی کے ایک ریرے میں ہجترہ اور کرناہ کے دیگر گائوں میں متعدد مال مویشی بھی پانی میں بہہ گئے جبکہ ان علاقوں میں سیلابی پانی لوگوں کے گھروں میں بھی داخل ہو گیا ہے جبکہ نالہ بت موجی اور کاجی ناگ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور نالوں پر لوگوں کی آمد وفت کیلئے بنائے گے عارضی پل بھی بہہ گے ہیں ۔محکمہ مو سمیات نے سو موار کو کشمیر میں گر می کی لہر کا اعلان کرتے ہو ئے کہا تھا کہ سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.4ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 8.1ڈگریزیادہ بتایا گیاتاہم محکمہ کے دپٹی ڈائریکٹر مختار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اچانک بارشوں کی وجہ سے اگلے کچھ روز تک گر می کی شدت میں 2سے 3ڈگری کی کمی محسوس کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو سرینگر شہر میں 3.4ملی میٹر بارش ہوئی ،قاضی گنڈ میں 1.4پہلگام میں 3.2کپواڑہ میں 1.0ملی میٹر بارش ہوئی ہے ۔