پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے منکوٹ کے تاریخی مقام رام کنڈ کی سڑک خستہ حالی کا شکار ہو گئی ہے جس کی وجہ سے وہاں جانے والے سینکڑوں عقدتمندوں کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہیومن رائٹ فورم کے صدر ایڈوکیٹ سنجے رائنا نے فوری طور پر اس سڑک کی مرمتی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کے لئے رام کنڈ ایک تاریخی مقام ہے جس کی تاریخ دس ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے لیکن مذکورہ مقام پر جانے کیلئے راستہ ہی معیاری نہیں ہے ۔انہوں نے کہا یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بھگوان رام نے ماتا سیتا اور بھائی لکشمن کے ہمراہ اس جگہ کا دورہ کیا اور اپنے جلاوطنی کے دور میں کچھ عرصہ یہاں بھی قیام کیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں تین چشمے ہیں جن میں ایک کو رام کنڈ ، دوسرے کو سیتا کنڈ اور تیسرے کو لکشمن کنڈ کہا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چشموں کے ایک طرف ہنومان جی کا ایک تاریخی مندر بھی ہے۔ یہاںسالانہ تہوار کے دوران ایک میلہ لگتا ہے جس میں جموں کشمیر کے علاوہ پورے ملک سے عقیدت مند جمع ہوتے ہیں یہ لوگ ہنومان مندر میں پوجا کرتے ہیں اور مقامی ہندوؤں کے زیر اہتمام ایک بڑے بنڈارے سے پرساد لیتے ہیں۔انہوں نے سابقہ حکومتوں کی بے حسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی مندر کو جانے والی اہم سڑک کی خستہ حالت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ رام کنڈ کی کئی سو کنال اراضی پر آس پاس کے مقامی لوگوں نے غیر قانونی قبضہ کیا ہے اسے جلد از جلد خالی کرایا جائے تاکہ اس تاریخی مقام کی قدیم شان بحال ہوسکے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ رام کنڈ کو مذہبی سیاحت کے نقشے پر لایا جا ئے تاکہ خطے کی معیشت کو تقویت ملے۔ انہوںنے لیفٹیننٹ گورنر سے رام کنڈ کو جانے والی سڑک کی مرمت ، رہائشی ڈھانچوںکی تعمیر اور اس تاریخی مقام کو فروغ دینے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرکا مطالبہ کیا۔