ملی ٹینٹ بننا اب ’گلیمرس‘ نہیں رہا | نوجوان سمجھ چکے، تشدد کی کوئی منزل نہیںلیفٹیننٹ جنرل پانڈے

نیوز ڈیسک
سرینگر// آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میںملی ٹینسی ایک تبدیلی کے دہانے پر ہے کیونکہ اس نے وہ “گلیمر” کھو دیا ہے جو کبھی اس سے جڑا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ”سفید کالر ملی ٹینٹ” اب شدت سے ہیں، جو اپنی صفوں میں ایسے نوجوانوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو شاید ابھی تک صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی پختگی نہیں رکھتے ہیں۔15ویںکور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ 20 سے 25 سال کی عمر کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ’’تشدد کہیں نہیں پہنچتا‘‘ اور اس طرح نئے ملی ٹینٹ بھرتی ہونے والوں کی تعداد ایک نچلی سطح کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ گزشتہ سال جنوری سے اب تک 330 ملی ٹینٹ مارے گئے یا انہوں نے ہتھیار ڈال دیے گئے۔فوجی کمانڈر نے کہا کہ عام طور پر لوگ ملی ٹینسی سے تنگ آچکے ہیں اور امید ظاہر کی کہ وہ دن دور نہیں جب وادی کشمیر میں دہشت گردوں کی باقی ماندہ حمایت بھی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ملی ٹینسی کے خیال سے کچھ الرجی پیدا ہونے لگی ہے اور ملی ٹینٹ بننا اب دلکش نہیں رہا۔لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا”سیکورٹی فورسز دو جہتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں – مقامی نوجوانوں کی بھرتی کو کم کرنا اور دہشت گرد کیڈرز میں کمی کو یقینی بنانا۔ ہم 2021 کے دوران مقامی بھرتیوں کو ایک تہائی تک کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جنوری سے اب تک 330 جنگجو مارے گئے یا ہتھیار ڈال دیے گئے، جو ڈیڑھ دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔جب پچھلے چار سالوں میں سرحد پار سے بھرتی اور دراندازی میں کمی کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ اہم تعداد ہیں۔ 2021 میں صرف 142 لوگ دہشت گرد صفوں میں شامل ہوئے۔2021 میں 171 ملی ٹینٹ ، 151 مقامی اور 20 پاکستانی مارے گئے، جب کہ اس سال اب تک 10 پاکستانی سمیت 45 ہلاک کئے گئے۔2021 میں 87 ملی ٹینٹوں کو پکڑا گیا اور اس سال 27 نے ہتھیار ڈال دیے۔لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے 27 مارچ کو وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کے چٹہ بگ گاؤں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ایس پی او اشفاق احمد اور ان کے بھائی عمر جان کی ہلاکت کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’ان کے جنازے میں لوگوں کا ایک سمندر شریک تھا‘‘۔’’ایس پی او اور ان کے بھائی کے جنازے میں لوگوں کی بھر پور شرکت تبدیلی ہے۔ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگ ’’اخیر کب تک‘‘ پوچھنے لگے ہیں۔ آج کل آوازیں کم ہو سکتی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی تحریک میں بدل جائے گی،‘‘۔