مغل میدان علاقہ کے ہائی سکول کواٹھ میں250 طلاب کیلئے محض 5 اساتذہ

عاصف بٹ
کشتواڑ// سب ڈویژن چھاترو کی تحصیل مغل میدان کے دورافتادہ علاقہ کواٹھ میں قائم ہائی سکول میں زیر تعلیم طلباء اساتذہ کی عدم دستیابی سے پریشان ہیں۔علاقہ میں سکول 1972 میں قایم ہوا جسکے بعد اسے مڈل سکول کا درجہ 2004میں ملا اور سال 2018 میں سکول کو ہائی سکول کا درجہ ملا لیکن اسکے باوجود سکول میں عملہ ہنوز پورا نہ مل سکا جسکے سبب سکولی بچوں کو سخت پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سکول میں لایبریری دستیاب نہیں جبکہ سکول کی چاردیواری بھی موجودنہیں ہے۔سکول میں محض ایک بیت الخلاء دستیاب ہے جو اساتذہ و بچوں کیلئے بھی ہے ۔سکول میں پینے کا پانی دستیاب ہے نہ ہی بجلی ہے۔سکول میں جہاں عملے کی14 اسامیاں موجود ہیںجن میں محض5 ہی اسوقت دستیاب ہیں جبکہ دیگر عملہ موجود ہی نہیں ہے۔دسویں جماعت کی طالبہ فاطمہ بانو نے بتایا کہ جہاں سرکار بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کے نعرے لگاتی یے لیکن افسوس کہ بیٹوں کو پڑھانے کیلئے کوئی نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہاسکول میں عملے کی کمی سخت پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے جو ہماری تعلیم کو اثر انداز کررہی ہے،اگرچہ ہم پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں کوئی پڑھانے والا نہیں ہے اورپورے سکول کو محض پانچ اساتذہ چلارہے ہیں۔نویں جماعت کے طالب علم آفتاب نے بتایا کہ اگرچہ ہمیں تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا اور اپنے اس علاقے کا نام روشن کرنا چاہتے تھے لیکن ہمیں کوئی تعلیم سے آراستہ کرنے والا نہیں ہے۔علاقہ کے لوگوں نے بتایا کہ دورافتادہ علاقہ جات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔امتیاز احمد نامی شہری نے بتایا کہ سکول کا درجہ چار سال قبل بڑھالیکن آج تک  عملے کی تعداد نہ بڑھ سکی ،جو عملہ مڈل سکول میں تھا وہی آج ہائی سکول ہونے کے باوجود بھی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چند ماسٹر گزشتہ کئی سال سے اپنی تنخواہیں اس سکول سے نکالتے ہیں اور ڈیوٹی کسی اور سکول میں انجام دے رہے ہیں جن پر آج تک کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔انھوں نے انتظامیہ سے انکے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔انہوںنے کہا کہ کئی سکولوں کے اندر محض سو طلباء کیلئے 20 اساتذہ ہیں وہیں ہمارے سکول میں جو اساتذہ تھے انھیں بھی دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔اسکول کے انچارج ہیڈماسٹر ستیش کمار نے بتایا کہ محض چار اساتذہ ہیں جنھیں دس سبجیکٹ پڑھانے پڑرہے ہیں،سکول میں سبجیکٹ ٹیچر بھی دستیاب نہیں ہے جسکے سبب ہمیں سخت مشکلات کاسامناہے،سکولی عمارت کی کمی ہے جبکہ دفتر بھی دستیاب نہیںہے،اگرچہ بچوں کی تعداد زون میں سب سے زیادہ اسی سکول میں ہے لیکن باجوداسکے عملہ ہی دستیاب نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ اگرچہ ہم نے کئی مرتبہ زیڈ ای او اور سی ای او کی نوٹس میں معاملے کو لایا لیکن آج تک کوئی بات نہ بن سکی،سکولی عمارت میں چند کمروں کی انتہائی خستہ حالت ہے جنکی مرمت کی ضرورت ہے،سکولی عمارت کیلئے ا یک کروڈ روپے بلڈنگ کی تعمیر کیلئے واگزار ہوئے ہیں لیکن شروع نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہناتھا کہ سکول میں زیر تعلیم طلباء کی بڑی تعداد بی پی ایل زمرے سے تعلق رکھتی ہے اور فوری طور عملہ فراہم کرکے تعلیم کا نظام درست کیاجانا چاہئے۔