معروف شاعر اشرف عادل کے شعری مجموعہ

سرینگر//ارشاد احمد//کشمیر یونیورسٹی کے ابن خلدون آڈیٹوریم میں جمعرات کو ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کشمیر کے معروف معاصر اردو شاعراشرف عادل کی شعری میں تحریر کردہ کتاب’’الہام سے پہلے‘‘کی رسم رونمائی انجام پائی ۔تقریب کی صدارت کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر نے کی جبکہ کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر ماجد زماں بحیثیت مہمان خصوصی محفل میں شامل رہے۔اس موقع پر اپنے استقبالیہ کلمات میں صدر شعبہ اردو پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے کہا کہ شعبہ اردو اپنی اپنی ذمہ داریاں تصور کرتا ہے کہ اپنے سماج سے وابستہ ادبا و شعرا کی عزت افزائی کی جائے اور ان کے تحریر کردہ کام کو سراہا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئندہ بھی ایسی تقریبات کا سلسلہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس موقع پر شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق حیدر اور نوجوان تبصرہ نگار سہیل سالم نے اشرف عادل کے شعری مجموعہ پر تبصرے پیش کئے۔ڈاکٹر ماجد زما کنٹرولر امتحانات نے اشرف عادل کو ایک ذمہ دار افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قابل قدر اور تخلیق کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ گہرائی کے ساتھ سوچتے بھی اور سمجھتے بھی ہیں۔رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر نے اپنے صدارتی خطبے میں شعبہ اردو کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پھر سے شعبہ میں ادبی مجالس کا سلسلہ قائم کیا۔انہوں نے شعبہ اردو کی شان رفتہ بحال کرنے کی خاطر کیے جا رہے ہیں کئی اقدامات کا بھی ذکر کیا اردو زبان کی مٹھاس اور شیرینی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے متعدد خوبصورت یادیں سامعین کے روبرو دہرائیں۔کتاب کی رسم رونمائی کے بعد مشہور گائک کفایت فہیم نے سامعین کے روبرو اشرف عادل کی تحریر کردہ غزلیں پیش کر کے داد و تحسین حاصل کی۔تقریب میں شرکت کرنے والوں میں حسن انظر،ڈاکٹر شاہ فیصل ،سلیم سالک ،اقبال افروز ،عارض ارشاد،انعام روف،ڈاکٹر شہزادہ سلیم،ڈاکٹر الطاف انجم،ڈاکٹر نصرت جبیں،شیخ بشیر ،عبدا لرشید راہگیر،نثار نسیم ،ڈاکٹر رافد اویس ،ڈاکٹر ذاکر حسین ،ڈاکٹر روحی سلطانہ،ڈاکٹر عرفان رشید، شبیر ماٹجی کے علاوہ ریسرچ اسکالر قابل ذکر ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔نوجوان نقاد و فکشن نگار ڈاکٹر رافد اویس نے تقریب کے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔