معروف تاجر گروپ’’پیراڈائز ایونیو‘‘ پر محکمہ انکم ٹیکس کا شکنجہ

جموں// محکمہ انکم ٹیکس نے جمعرات کو سرینگر اور جموں میںایک تجارتی گروپ کیساتھ منسلک مراکز پر چھاپے مار کارروائیاں انجام دیں ۔محکمہ کی طرف سے کشمیر میں 4جبکہ جموں میں 6مقامات پر چھاپے مارے گئے۔اس کے علاوہ لدھیانہ ،این سی آر اور جموں میں10 مز ید مقامات پر چھاپے مارے گئے جو اہم ٹیکس دہندہ کو ٹیکس کی ادائیگی میں مدد دے رہے تھے ۔اس گروپ پر غلط طریقہ سے جموں وکشمیر بنک سے بڑے پیمانے پر قرضہ لینے اور بعد میں اسے فراڈ طریقے سے منتقل کرنے کا الزام ہے ۔انکم ٹیکس کی طرف سے تلاشی کارروائی کے دوران یہ پایاگیاکہ ٹیکس سے بچنے والے نے جموں و کشمیر بنک سے غیر قانونی طور پر 60کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا اوراس کا واجب الادا 190کروڑروپیہ 130کروڑ میں ہی پورا کیاگیا ۔ جبکہ یہ گروپ کسی بھی طرح رعایت کا مستحق نہیں تھا۔یہ گروپ عمارات ، غیر منقولہ جائیداداور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تجارت سے منسلک ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کم کی گئی واجب الادا رقومات کی یا تو ادائیگی نہیں کی گئی یا رقومات کی واپسی میں جموں کشمیر بنک کے حکام نے انہیں متحرک سہولیت فراہم کی،جبکہ انہوں نے انکے قرضے کے کھاتے کو تیسرے فریق سے قرضے پر لیکر متحرک رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشیوں کے دوران اس بات کا انکشاف ہواا کہ اصل فروغ دینے والا شخص دبئی نشین ایک کمپنی کا ڈائریکٹر ہے،جو کہ غیر ملکی بنک کھاتہ چلاتا ہے،اور اس نے دبئی کمپنی میں نا ہی سود اور نا ہی غیر ملکی بنک کھاتے کو کھبی بھی ٹیکس کی ادائیگی کے دوران سامنے لایا۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر انکے خلاف رقومات کو روکنے(نامعلوم غیر ملکی آمدنی و اثاثوں) اور ٹیکس ایکٹ2015 کے اطلاق کے علاوہ دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ جانچ کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے والے شخص نے جموں میں اپنے ریل اسٹیٹ’’پیراڈائز ایونیو‘‘ کا کچھ حصہ فروخت کیا ،جبکہ یہ رقم نا ہی خریدنے والے نے ٹیکس ریٹرنس میںظاہر کی ہے،اور نہ ہی اپنے ٹیکس کھاتوں میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔’’پیراڈائز ایونیو‘‘ پروجیکٹ کے علاوہ مذکورہ شخص نے اپنے نام یا پھر اہل خانہ کے نام پر کروڑوں کا کاروبار عمارات اور غیر منقولہ جائیداد خریدنے کے دوران کیا، جس کے دوران 7کروڑ روپے کا لین دین ہوا ہے۔مزید بتایا گیا کہ نوٹ بندی کے دوران اس گروپ نے ایک کروڑ44لاکھ روپے تبدیل کئے ،جبکہ کارروائی کے دوران اس بات کی وضاحت کرنے میں وہ ناکام ہوئے ہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی تھی۔تحقیقات سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ٹیکس سے بچنے والے نے اپنی جموں جائیداد کو بغیر حساب والے پیسہ میں فروخت کردیا جس کا انکم ٹیکس ادائیگی میں ذکر نہیں ۔ کارروائی کے دوران متعلقہ شخص یہ بتانے سے قاصر رہاکہ اس کے پاس آنے والی رقم کا ذریعہ کیاہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پیراڈائز ایونیو اور اس کے ساتھ منسلک جن مراکز پر چھاپے ڈالے گئے وہ سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم کے بیٹے ہلال احمد راتھر کی ملکیت ہیں۔اس کے علاوہ کچھ مقامات سابق کانگریس لیڈر جنک راج گپتا کی ملکیت بھی ہیں۔