معاملہ 35اے سے چھیڑ چھاڑ کا، عمر اور محبوبہ کا مرکز کو انتباہ

 سرینگر //نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر آرٹیکل 35 اے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو یہاں اروناچل پردیش سے بھی زیادہ حالات بدتر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں فوراً انتخابات کرائے جائیں تاکہ منتخب جماعت از خود اس دفعہ کا دفاع کرے اور ریاست کو پھر سے پٹری پر لانے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔  وہ نوائے صبح آفس میں سابق بیرو کریٹ فاروق احمد شاہ کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے کے موقعہ پر بات کررہے تھے۔ 

آرٹیکل 35اے 

عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر آرٹیکل 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو یہاں اروناچل پردیش سے بھی زیادہ بدترحالات ہوں گے ۔ عمر نے  کہا  ’’اروناچل پردیش میں کوئی ملی ٹنسی نہیں ، کوئی پتھرائو نہیں ہوتا ،جتنا امن اُس ریاست میں ہے شاید ہی اُتنا ملک کی کسی اور ریاست میں ہے، لیکن آج وہاں ان لوگوں نے آگ لگا دی ہے ،پشتینی باشندوں کی سرٹیفکیٹ جیسے یہاں ہے وہاں بھی ہے لیکن ان لوگوں نے اُس میں بھی کھلواڑ کی ،اُس میں بدلائو لایا جس کے نتیجے میں وہاں حالات خراب ہوئے اور ڈپٹی چیف منسٹر کے گھر تک کو لوگوں نے جلا ڈالا ۔عمر نے مرکزی سرکار سے مخاطب ہوکر کہا’’آپ جب جموں وکشمیر میں 35Aکے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو اُروناچل پردیش سے بھی زیادہ بدتر یہاں کے حالات ہوں گے، اور میں دھمکی دینے کی کوشش نہیں کرتا ،اور نہ ہی ڈرارہا ہوں ،میڈیا والے آج شام کو دکھائیں گے کہ عمر نے دھمکی دی ہے، میں کوئی دھمکی نہیں دے رہا ہوں ،میں حقیقت بیان کر رہا ہوں ،میں آپ کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کیونکہ میرا یہ فرض بنتا ہے آپ کو مطلع کرنا، باقی آپ کی مرضی ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ میں ایک ذمہ دار باشندہ ہونے کے ناطے دہلی کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ ٹھیک نہیں ہے‘‘ ۔عمر نے مرکزی سرکار سے کہا ’’ آپ ایسے حالات بنائیں کہ یہاں الیکشن ہوں، الیکشن کرانے کے بعد جو جموں ،لداخ اور کشمیر کے لوگوں کا فیصلہ ہو گا اُس پر چھوڑیں کہ آرٹیکل 35اے کا کیا کرنا ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم اچھی طرح سے یہ جانتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر کے حالات کس طرح ٹھیک اور سازگار رہ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن ہوں گے اور جو بھی منتخب سرکار بنے گی وہ خود اس دفعہ کے تحفظ کا کام انجام دے گی ۔

تھرڈفرنٹ 

عمر عبداللہ نے مرکزی سرکار سے سوال کیا کہ جب لوگوں کو بانٹنے کی بات آتی ہے تو وہ صرف کشمیر میں ہی کیوں ۔انہوں نے کہا ’’ جموں اور  لداخ میں کوئی تھرڈفرنٹ نہیں ِ،وہاں کوئی ووٹ کا بٹوارہ نہیں ہوتا ،لیکن جب پیسے دیکر کوئی تھرڈ فرنٹ قائم کئے جاتے ہیں تو وہ کشمیر میں کئے جاتے ہیں، ہماری آواز کو کمزور کرنے کیلئے ہوتا ہے‘‘ ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ شیر کشمیر نے کہا تھا کہ مرکز کی کوشش رہے گی کہ کشمیر میں گلی گلی لیڈر کھڑا ہو ،تاکہ یہاں ایک آواز میں کوئی بات نہ کر سکے، کوشش رہے گی کہ ہمیں اس طرح کمزور کیا جائے، دبایا جائے ،ہماری آواز بکھر جائے کمزور ہوں تاکہ پھر وہ ہمارے ساتھ سازشیں کریں ،چاہئے وہ 35اے کی سازش ہو یا پھر 370کی سازش ہو ‘‘۔انہوں نے کہا کہ آج اگر بی جے پی اور آر ایس ایس والے ہمارے سر پر بیٹھے ہیں وہ اس لئے کہ ہم نے اُن کو ووٹوں کے بٹوارے سے یہاں پہنچایا ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ آنے والے دنوں میں ہمارا ایک مشن ہونا چاہئے ہم ایک جماعت ایک تنظیم کو یہاں کامیاب کرائیں تاکہ ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے ۔

بیرون ریاستوں میں حالا ت 

 کشمیریوں سے کہا گیا تھا کہ گالی یا گولی نہیں بلکہ کشمیریوں کو گلے لگا کر نزدیک لایا جائے اور اُن ساری چیزوں کا استقبال ہم نے 14فروری کے بعد خوب دیکھا ،ہم نے سنا کہ جو لوگ بیرون ریاست چوکیداری کا کام کرنے گئے تھے وہ حالات کی وجہ سے مجبور ہو کر گھر لوٹ رہے تھے، انہیں ٹرین میں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔بیرون ریاستوںمیں کشمیریوں کو پکڑ کر اُن سے کہا گیا کہ وہ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائیں تب اُن کو چھوڑا جائے گا ۔انہوں نے کہا  کہ یہ وزیر اعظم کے بیان کے بعد کا حال ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم بھی آپ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن اُس میں دم اور وزن ہونا چاہئے ،کھلے عام نہ صحیح، بند کمرے میں آپ اُن بجرنگ دل اور باقیوں سے کہیں بہت ہو گیا بس ، کب تک ہم برداشت کریں ہمارا قصور کیا ہے ، ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم جنگ کی بات نہیں کرتے ،کیا ہمارا قصور اتنا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے مسلے کا حل اگر ہو گا تو وہ بات چیت کے ذریعے ہو گا ،اگر یہی ہمارا قصور ہے تو مجھے بتایا جائے کہ چار دن  پہلے سعودی عرب کے پرنس کے ساتھ بیٹھ کر جس کاغذ پر آپ نے دستخط کئے اورمشترکہ بیان جاری ہوا جس میں دونوں ممالک نے مانا کہ اس طرح حالات پیدا ہونے چاہئے کہ ہندوپاک کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو ، لیکن ہمارا قصور کیا ،انہوں نے کہا کہ جنگ ہو یا پھر بندوق، اُس کی تباہی ہم نے دیکھی، تباہی کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں ملا۔ 

افواہیں 

 عمر نے کہا ’’آج بھی ہم افواہوں کے شکار ہیں ،کئی راتوں سے ہم سوئے نہیں، کیونکہ پتہ ہی نہیں تھا کہ حالات کیا بنیں گے ،ہماری حکومتیں عجیب عجیب آرڈر جاری کر رہی تھیں، پہلے بولا کہ پٹرول پمپوں سے تیل بند کرو ، پھر کہا راشن گھاٹوں سے سارا راشن نکالو، تیسرا آڈر تھا جتنی دوائیاں سٹور میں ہیں حالات کو دیکھے ہوئے دکانوں اور ہسپتالوں تک پہنچائو ،ہمارے پولیس والے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ جتنا آپ کو ہو سکے سوموار تک کرو ،پتہ نہیں اس کے بعد یہاں کیا ہو گا ۔‘‘