ڈوڈہ//مسئلہ کشمیر کے حال میں تاخیر کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے بی جے پی ہر محاذ پر ناکام ہونے کے بعد لوگوں کو ڈرا کر پھر سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے تعلیم یافتہ اور باروز گارنوجوانوں کا عسکری صفوں میں شامل ہونا انتہائی تشویش ناک ہے اور سیاحوں یا بچوں کی گاڑیوں پر پتھر مار نے کے پیچھے کوئی اور ہاتھ بھی ہوسکتا ہے ان خیالات کا اظہار سابق وزیر مملکت برائے امور داخلہ جموں کشمیر و نیشنل کانفرنس کے صدر ضلع ڈوڈہ خالد نجیب سہروردی نے ڈوڈہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران اُنہوں نے کہا کہ جس بے شرمی سے صورت حال سے نپٹنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ مسئلہ کشمیر کو اور زیادہ الجھا رہا ہے اس قدر خون خرابہ ماضی میں کبھی نہ ہوا ہے حتیٰ کہ خود مفتی محمد سعید کے بطور وزیر داخلہ حکومت ہند کے دور میں بھی ایسا نہ تھا جس کا ریکارڈ محبوبہ مفتی نے توڑ دیا ہے اور مسئلہ کشمیر کو جس طرح طاقت سے خون ریزی نوجوان کی نسل کشی دبھنگ انداز ظلم بربریت قتل غارت گری، پیلٹ استعمال کرکے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے مسئلہ حل نہ ہوگا اور دُنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اب تک جب بھی کوئی مسئلہ ابھرا ہے خونریزی جنگوں قتل غارت گری کے بعد بات چیت کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں اور موجودہ قتل و غارت گری پر بین الا قوامی برادری کی خاموشی بھی افسوس ناک ہے اُنہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر نہ اقتصادی مسئلہ ہے ناہی روز گار یا اور کوئی یہ تاریخی حقیقت ہے اور حالیہ دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باروزگار نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت اُن لوگوں کے سوالات کا جواب ہے جو اس تحریک کو بیروزگاری کی وجہ کہتے ہیں پی ڈی پی اور بی جے پی پر برستے ہوئے سہروردی نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس و کم از کم مشترکہ پروگرام پر تین برسوں میں ایک قدم بھی پیش رفت نہ ہوئی ہے اور اب بی جے پی پھرسے پورے ملک میں نفرت فرقہ واریت ڈر و خوف کی فضا قائم کرکے پارلیمانی الیکشن کی تیاری کررہی ہے کیونکہ یہ لوگ ملک میں کشمیر کو بیچتے ہیں اور یہاں پر بھی ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جو تیس سالہ عسکری دور میں کبھی پیدا نہ ہوئے اور آج ہم محسوس کررہے ہیں جس کا اثر چناب ویلی میں بھی نظر آرہا ہے حالانکہ نیشنل کانفرنس کے دور میں کبھی ایسا نہ ہوا نہ ہی آئندہ ہوگا ہم نے ہندو مسلم سکھ اتحاد کا نعرہ دیا تھا آج بھی دیتے ہیں آئندہ بھی دیتے رہیں گے اور ہم کسی بھی طرح ریاست کو مذہبی لسانی ، علاقائی بینادوں پر تقسیم نہ ہونے دیں گے اور ریاست کی وحدت ہماری پہلی ترجیحی ہے اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہمارا صاف واضح موقف ہے جو آئینی ہے کہ ہماری کھوئی ہوئی یا چھینی گئی اندرونی خود مختیاری اصل صورت میں بحال ہو تاہم اگر کسی کو اس سے بہتر کوئی حل ہے جو تمام عوام کو قابل قبول و قابل عمل ہو تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے البتہ مسئلہ کے حتمی حل کے لئے مذاکرات اولین راستہ ہے اور تمام فریقوں کو اس میں شامل کیا جانا ضروری ہے جس کا اظہار ہندو پاکستان کے فوجی سربراہوں نے بھی کہا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ نگ لڑنے والے ایسی بات کریں ۔ کٹھوعہ واقعہ پر خالد نجیب سہروردی نے کہا کہ ہم عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور حقیقت میں کٹھوعہ کے اندر اس کی آزاد سماعت ممکن نہ تھی کیونکہ جہاں ملزمان کے حق میں ترنگا لہرا کر حکومت کے وزیر ایم ایل اے جلسے جلوس کریں البتہ ریاسرتی کابینہ میں دروبدل لعل سنگھ کو باہرنکالنا اور اب ڈوگرہ سوبھیمان یاترہ نکالنا و بی جے پی کے ریاستی صدر ست شرما و ایم ایل اے جسروٹیہ کو کابینہ میں شامل کرنے سے سب کچھ صاف کردیا ہے ایک جُرم میں ایک شخص کو سزا کے طور وزارت سے نکالنا دوسرے کو وزارت دینا بہت کچھ صاف کرتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اٹوٹ انگ و شہہ رگ سیاسی جملہ ہے اگر ریاست کے لوگ اپنے ہیں تو پھر ہٹلر کی تاریخ کیوں دہرائی جارہی ہے محض ہندوستان میں اپنی کانسچونسی کو ایڈرس کرنے کے لئے جموں کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم رکھا گیا ہے اور کٹھوعہ اس کی نرسری کے طور تیار کی گئی ہے ورنہ AK47رائفل اُٹھانے اور گرینیڈ پھینکنے کی دھمکی دینے والوں کے خلاف کیوں ایف آئی آر درج نہ ہوئی۔ اور بھارتی میڈیا زہر اُگلنا بند کردے و سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی کی اُس بات کو بنیاد بنایا جائے کہ دوست بدلائے جاسکتے ہیں پڑوسی بدلائے نہیں جاسکتے۔ VDCکو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر یہاں ملی ٹنسی ختم ہوئی ہے تو پھر VDCکی کیا ضرورت ہے اور ہم تمام طرح کی VDCختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں چاہے بندوق ہندو کے ہاتھ میں ہے یا مسلمان کے ہاتھ میں خطرناک ہے اور ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ بی جے پی حسب سابقہ پھر سے VDCکو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرسکتی ہے کیونکہ VDCنے بطور BJPکے عسکری بازو کے طور کام کیا ہے جس کی کئی مثالیں سامنے ہیں اُنہوں نے کہا کہ سابق فوجی سربراہ موجودہ مرکزی وزیر کا یہ کہنا کہ ہم کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے پیسہ دیتے ہیں شرم کی بات ہے اگر ایسا ہے تو اٹوٹ انگ کیسا ہے جبکہ وزیر اعظم کا نام لئے بغیر اُنہوں نے کہا کہ خود کو چوکیدار کہنے والا شخص جو بار بار کہتا تھا کہ اوروں کو ساٹھ سال دئے مجھے ساٹھ ماہ دو میں تمہاری تقدیربدل دوں گا اب وہ کہاں ہے اور کس کی چوکیداری کرتا ہے جو کہیں نظر ہی نہیں آرہا ہے۔ مرکزی و ریاستی سطح پر لوگوں سے کئے گئے وعدے پور ا نہ ہونے پر عوامی غضب سے بچنے کے لئے اب وہ کبھی ایک تو کبھی دوسرا معاملہ سامنے لاتے ہیں اور وہ لوگ یاد رکھیں کہ آئندہ اُن کو اب کچھ نہیں ملے گا اور نہ ہی ریاست یا چناب ویلی میں اُن کے لئے کچھ ہے کیوںکہ لوگ اب ان کی چالوں سے با خبر ہیں اور سب کچھ عیاں ہے۔