مسئلہ کشمیر ایک مُسلمہ حقیقت:گیلانی

سرینگر//حریت (گ )چیرمین سید علی گیلانی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر نہ تو کوئی سرحدی تنازعہ ہے اور ناہی دوممالک کے درمیان کوئی آپسی جھکڑا ہے، بلکہ یہ 15ملین جیتے جاگتے انسانوں کی زندگی اور ان کے مستقبل کا مسئلہ ہے، جو اگر جلد حل نہ ہوا تو ہولناک تباہی اور قتل وغارت گری کی ایک بھیانک داستان انسانیت کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔۔8؍دسمبر کو اسلام آباد پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ پر بحث کرنے کے لیے بلائی گئی ایک کانفرنس کے دوران سید علی گیلانی ٹیلی فونک خطاب کررہے تھے ۔ شرکاء کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے جنم سے لے کر آج تک اس کی تاریخی اور سیاسی اُتار چڑھاؤ کے بارے میں تفصیلات میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت سے ہمارے حکمرانوں سمیت پوری دنیا واقف ہے۔ ریاست جموں کشمیر میں جاری کشت وخون کی تفصیل شرکاء کے سامنے رکھتے ہوئے آزادی پسند رہنما نے کہا کہ پچھلے 71سال سے ہماری گردنوں پر زبردستی سوار ہونے والی طاقت ہماری نہتی اور مجبور ومحکوم قوم پر ہر وہ ظلم اور جبر آزما رہی ہے جس سے یہاں کے لوگ خوف وہراس کے ایک ایسے ماحول میں گُٹھ گُٹھ کر اور مرمر کر جینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس جبروقہر میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اور شدت لاتا ہے، تاکہ یہاں کے امن پسند عوام تھک ہاکر کر مایوسی اور غیر یقینیت کے دلدل میں دھنس کر اپنے جائز مطالبات اور بنیادی حقوق کے لیے آواز نہ اُٹھا سکیں۔ حریت چیرمین نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی آنکھ بہت دیر سے کھلی اور انہوں نے پہلی بار اس بدنصیب ریاست میں ہورہی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے متعلق جو رپورٹ پیش کی وہ ہمارے لیے حوصلہ فزا اور ہمت افزا بھی ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ کو بھارت کے ذرائع ابلاغ اور یہاں کے حکمرانوں نے  Discreditکرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لیکن انہیں شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے شرکاء پر واضح کردیا کہ اول یہاں کی زمینی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی مسلسل نظر رہنی چاہیے اور دوم اس خوفناک اور تشویش ناک صورتحال پر روک لگانے کے لیے عملی اقدامات کی بھی اہم ضرورت ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ان رپورٹوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ان پر ہورہی بحث ومباحثہ سے کچھ حاصل ہوگا۔ گیلانی نے اس کانفرنس کے منتظمین، پاکستان ہاوس کے ڈائریکٹر جنرل عطار جاوید کا خصوصی طور شکریہ ادا کیا جن کی انتھک کوششوں سے اس کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوسکا۔ انہوں نے UNHRCکی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹوں کے منظرعام پر آنے کے بعد ان پامالیوں میں ملوث افراد اور حکمرانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔