مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت | وزیراعظم مودی کے بیان پر گیلانی کا رد عمل

سرینگر// وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر دئے گئے تازہ بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے حریت(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے کہاکہ حقیقت کو لاکھ پردوں میں بھی چھپایا نہیں جاسکتا، سچائی ایک سو تیس کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کے برسوں سے دہرائی گئی غلط بیانی سے بھی بدل نہیں سکتی اور ہمالیہ جیسی ٹھوس حقیقت لگاتار انکار کرنے والے دھانوں سے بھی چھن چھن کر سامنے آہی جاتی ہے۔ گیلانی نے کہاکہ وزیراعظم ہند نے غیر شعوری طور مسئلہ کشمیر کو ایک حل طلب مسئلہ قرار دے کر ہمارے دیرینہ موقف کی تائید کی ہے۔ گیلانی نے راجیہ سبھا میں شکریہ کی تحریک پر بھارت کے وزیر اعظم کے دئے گئے اس بیان ، جس میں موصوف نے کہا کہ ’’اگر پٹیل بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنتے تو مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہوتا‘‘، پر کہاکہ یعنی کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے۔حریت راہنما نے کہا کہ پوری کشمیری قوم کا مشترکہ اور متفقہ موقف یہی ہے کہ ریاست جموں کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ اس حقیقت کی گواہ پوری دنیا ہی نہیں، بلکہ خود اقوامِ متحدہ ہے جہاں اس دیرینہ مسئلہ کے حق میں دستاویزی شواہد اور ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی راگ الاپنے والے خود ہی یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے۔ بھرے ایوان میں اکثریتی منڈیٹ حاصل کرنے والوں کا اس حقیقت کا اعادہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حقائق اور سچائی کو چاہے کتنی ہی طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے یا اس کو کتنے ہی طویل عرصے تک جھٹلایا جائے وہ اپنے آپ کو منوائے بغیر نہیں رہ سکتی۔ حریت چیرمین نے کہا کہ بھارتی عوام کو اپنے حکمرانوں کے قول وفعل میں اس واضح تضاد پر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف کشمیر کو حل طلب قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف خود کشمیریوں کے اسی مطالبے کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے اور دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔گیلانی نے بھارتی وزیر اعظم سے مخاطب ہوکر کہا کہ ریاست جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا ہی نہیں، نہ ہی خود بھارت نے انہیں اپنا سمجھا اور نہ کشمیریوں کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے سے وہ ان کے ملک کا حصہ بنا۔ یہ پچھلے 71برس سے ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے ۔