مزید خبریں

قالین بافی شعبے کی بحالی کیلئے لائحہ عمل پر غور و خوض  | کمشنر سیکرٹری محکمہ صنعت و حرفت کی سربراہی میں اجلاس منعقد 

 
سرینگر //جموں وکشمیر میں قالین بافی شعبے کو درپیش مشکلات پر قابو پانے کیلئے کمشنر سیکرٹری محکمہ صنعت و حرفت منوج کمار دویدی نے جمعہ کو ایک میٹنگ کی صدارت کے دوران شعبے کی بحالی کیلئے کئی اقدامات پر غور و خوض کیا ۔ سپیشل سیکرٹری صنعت و حرفت، منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ہینڈ لوم اینڈ ہینڈی کرافٹس کارپوریشن ، ڈائریکٹرہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم کشمیر ، ڈائریکٹر آئی آئی سی ٹی ، ڈپٹی سیکرٹری کے علاوہ دیگر متعلقہ اعلیٰ افسران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔روایتی صنعتوں جنہوں نے غیر ملکی بازاروں میں اپنے لئے ایک خاص مقام پیدا کیا۔ ان کے فروغ پر زور دیتے ہوئے سیکرٹری صنعت وحرفت نے قالین بافی شعبے کی بحالی کیلئے مستقبل کے منصوبے کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈ لوم کو درج شدہ قالین بافوں کو مختلف اقسام کا خام مواد کی فراہمی کیلئے یارن سپلائی سکیم کی عمل آور ی سے متعلق مفصل تجویز پیش کرنے کیلئے کہا۔انہوں نے ڈائریکٹر آئی آئی سی ٹی کو قالین بافی کے ارتکازی علاقوں میں کم از کم دو خام مواد بینک قائم کرنے کے لئے منصوبہ مرتب کرنے کے لئے کہااور ایسا ہی ایک بینک شمالی کشمیر میں بھی قائم کرنے کے لئے کہا گیا ،جسے معیاری خام مواد ترتیب یقینی بنے گی۔ دِویدی نے دس ہزار پرانے اور بوسیدہ قالین لوموں کامتبادل کی فراہمی کے بارے میں کہا کہ رواں مالی سال کے دوران دو ہزار لوموں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور متعلقہ حکام کو معاملہ مرکزی وزارت برائے پرچہ جات کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت دی ۔انہوں نے ڈائریکٹر آئی آئی سی ٹی کو مختلف قالین لوموں کے لئے نمونہ ماہرین تکنیکی معاونت سے تجویز کرنے کے لئے کہا تاکہ تیار مصنوعات عالمی معیار کے مطابق ہوں ۔یارن ڈائینگ ہاوس آئی آئی سی ٹی کمیپس میں قائم کرنے کی فوری ضرورت کے معاملے میں سیکرٹری صنعت نے ڈائریکٹر دستکاری و ہینڈ لوم کو ترمیم شدہ کیپکس بجٹ 2020-21ء کے تحت اس ضمن میں لازمی رقومات مختص رکھنے کے لئے کہا۔ انہوں نے سلک قالینوں کی برینڈنگ کے لئے جی آئی لیبلنگ کی خاطر آئی آئی سی ٹی کی موجودہ لیبارٹریوں کی فوری توسیع کے احکامات بھی جاری کئے۔
 
 
 
 

محرم الحرام کے اختتام کے سلسلے میں پُروقار تقریبات | مولانا ریاض ہمدانی کی پانپور میںمجلس وعظ

 
سرینگر// مرحوم الحرام کے اختتام کی مناسبت کے سلسلے میں نمازِ جمعہ پر وادی بھر کی مساجد، زیارت گاہوں اور خانقاہوں پر علمائے کرام، ایمائے مسجد نے محرم الحرام، روز آشورہ اور اہل بیت رسولؐ کی عظمت اور مقام کے علاوہ شہدائے کربلا کی مقدس شہادت پر وعظ و تبلیغ فرمایا۔ علمائے کرام نے کہا کہ حضرت امام عالی مقامؓ نواسہ رسول ؐنے کربلا کے میدان میں باطل کے خلاف جو جہاد محض رضا اللہ اور آنحضورؐ کے پاک مشن کو تاقیامت زندہ رکھنے کیلئے لڑا وہ پوری عالم انسانیت کی بقا کیلئے مشعل راہ ہے۔ ادھر خانقاہِ جامعہ پانپور میں میرواعظ کشمیر مولانا ریاض احمد ہمدانی نے وعظ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ عدل وانصاف ، مساوات اور انسانیت کے عظیم اصولوں خاص کر دین اسلام کے خاطر جو عظیم شہادت حضرت امام عالی مقامؓ نے کربلا میں راہ خدا پیش کی رہتی دنیا تک انسانیت اُس پر عش عش کرتی رہے گی۔ اہلبیت کا محبت ہمارے ایمان کی نشانی ہے۔ادھر خانقاہِ حضرت مرزا اکمل الدین بدخشیؒ میں نمازِ جمعہ پر عالم الدین مولانا مولوی خورشید احمد قانونگو نے حضرت امام حسینؓ کی پاک شہادت کے مختلف گوشوں پر خطبہ دیا اور حضرت زین العابدین کی عظمت بیان کی۔ جبکہ زیارت نقشبند صاحب میں صب سویرے عرس مبارک خلیفہ حضرت نقشبندؒ کے سلسلے میں خطمات المعظمات، دورد وازکار اور قرآن خوانی کی مجلس آراستہ ہوئی۔ جس کی پیشوائی ڈاکٹر محمد طیوب کاملی نے کی ۔ان مجالس میں عالم گیر وبائی کورونا وائرس سے نجات کیلئے اللہ کے دربار میں خصوصی دعائوں کا اہتمام کیا گیا ۔ زیارت نقشبند صاحبؒ کی مجلس میں علامہ مولانا شوکت حسین کینگ جبکہ دربارِ اکملیہ میں سجادہ نشین الحاج ڈاکٹر مقتدر کاملی نے خطمات المعظمات اور درود و ازکار کی پیشوائی ۔
 
 
 
 
 

 فاروق خان نے جے ای ای امتحان میں اوّل پوزیشن  | حاصل کرنے والے اُمیدوار وںکے ساتھ تبادلہ خیا ل کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے جمعہ کو حمیرا رشید ، دانش حمید اور عاقب جاوید کے ساتھ تبادلہ خیال کیا، جنہوں نے حال ہی میں جے ای ای امتحان میں کامیابی حاصل کی۔اس موقعہ پر مشیر خان نے کہا کہ جموںوکشمیر کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور وہ کسی بھی میدان میں اپنا لوہا منواسکتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ ان کے کیئریر کوآگے برھانے کی وعدہ بند ہے۔مشیر موصوف نے اُنہیں کہا کہ آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے او ران کی کامیابی مزید نوجوانوں کو قومی او ربین الاقوامی سطح پر امتحانات میں حصہ لینے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی جانب راغب کرے گی ۔مشیر نے اُنہیں حکومت ہند کی سکالر شپ اور دیگر سکیموں سے اِستفادہ کرنے کے لئے کہا اور انہیں مستقبل کی کاوشوں میں کامیابی کی تمنّا ظاہر کی۔واضح رہے حمیرا رشید،دانش حمیداور عاقب جاوید نے حالی میں منعقدہ جے ای ای امتحان میں بالترتیب 99.3فیصد، 99.29فیصداور 98.64  فیصد نمبرات حاصل کئے۔  
 
 
 

ترچھل میںحضرت سید سکندر اندرابی ؒ کا عرس 

سرینگر// معروف صوفی بزرگ حضرت سید سکندر اندرابیؒ کا عرس شریف جمعہ کو ترچھل پلوامہ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔جس دوران کویڈ ۔19 کو مد نظر رکھ کر ایک مختصر مجلس کا انعقاد ہوا جس میں تلاوت قران مجید' ختما ت المعظمات اور درود واذکار کااہتمام کیا گیا۔مجلس کا اختتام دعایہ کلمات کے ساتھ ہوا۔جس میں کویڈ۔ 19 کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ریاست میں امن و امان اور خیر و فلاح کیلئے دعایں مانگی گئیں۔اس سال روایتی لنگر کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ البتہ تہری تقسیم کی گئی۔ عرس مبارک پر  حقانی میموریل ٹرسٹ کے سر پرست اعلی سید حمید اللہ حقانی نے مبارک باد پیش کی اور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سید سکندر اندرابیؒ  عظیم اولیاء کرام میں شامل ہیں اور ان کی نیک سیرت پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔
 
 

آغا حسن کا اظہار رنج و غم

سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے تنظیم کے دیرینہ کارکن ماسٹر غلام رسول ساکن وولنہ اچھہ گام کے سانحہ ارتحال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین و پسماندگان بالخصوص مرحوم کے فرزند میر شہنواز حسین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ تنظیم کے ساتھ گہری وابستگی اور خیرخواہی کو سراہتے ہوئے آغا حسن نے مرحوم کے بلند درجات اور جنت نشینی کی دعا کی۔
 
 
 

 ٹنگمرگ کا جواں سال تاجر حرکت قلب بندسے فوت

ٹنگمرگ /مشتاق الحسن / ٹنگمرگ میں ایک جوان سال تاجر حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہو گیا ہے ۔ٹنگمرگ کا ایک جواں سال تاجر ظہور احمدبٹ ولد عبدالرشید بٹ ساکن شمس کالونی فیروزپورہ صدر اسپتال سرینگر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگیا۔ مرحوم کے انتقال کی خبر پھلتے ہی علاقے میں کہرام مچ گیا ۔ مرحوم کے نماز جنازہ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ،بعد میں مرحوم کو اشک بار انکھوں سے آبائی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیا۔مرحوم کے انتقال پر ٹریڈرس اسیوسی ایشن ٹنگمرگ، ٹورسٹ گائید ایسوسی ایشن گلمرگ ،ٹرانسپورٹ یونین ٹنگمرگ، ٹیچرس فورم، رہبر تعلیم فورم ٹنگمرگ، لیکچرار فورم ٹنگمرگ، کے علاوہ اپنی پارٹی کے نایب صدر اور سابق وزیر غلام حسن میر، سابق ممبر اسمبلی گلمرگ محمد عباس وانی ،نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال ،فاروق احمد شاہ، سیویل سوسائٹی کے عبدل قیوم وانی اور ٹنگمرگ ورکنگ جرنلسٹ اسیوسی ایشن نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے تعزیت کی ہے ۔
 
 
 
 
 
 
 

ایل جی کافوجی ہسپتال کا دورہ | زخمی سی آر پی ایف ڈپٹی کمانڈنٹ کی عیادت کی

سرینگر //لفٹینٹ گورنر منوج سنہا 92   بیس ہسپتال گئے اور سی آر پی ایف کے ڈپٹی کمانڈنٹ ، کوئیک ایکشن ٹیم راہول ماتھر کی عیادت کی ۔ ڈپٹی کمانڈنٹ راہول ماتھر جمعرات کے بٹہ مالو فردوس آباد انکاؤنٹر کا حصہ تھے جس کے دوران انہیں دو گولیاں لگیں ۔ راہول ماتھر نے بعد میں ایک جنگجو کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ میں ڈپٹی کمانڈنٹ راہول ماتھر کی مثالی ہمت اور شجاعت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے دو گولیاں لگنے کے باوجود ہمت کا مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اُن کی بہادری حب الوطنی اور اپنے فرایض کے تئیں لگن پر فخر ہے ۔ لفٹینٹ گورنر کے مشیر آر آر بٹھناگر ، جی او سی چنار کارپس لفٹینٹ جنرل بی ایس راجو ، آئی جی پی کشمیر اور آئی جی پی سی آر ایف اُن کے ہمراہ تھے ۔ 
 
 

بلدیاتی اداروں کے منتخب اراکین کی حفاظت کو یقینی بنایاجائیگا | صدور کی کارڈنیشن کمیٹی نے مشیر کو مطالبات پیش کئے

سرینگر//لیفٹینٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے بلدیاتی اداروں  کے صدورکی کارڈنیشن کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ان کی حفاظت کیلئے ہرممکن اقدام اُٹھائے گی اور ان کی دیگرضرورریات کو بھی پورا کیاجائے گاایک سرکاری بیان کے مطابق بلدیاتی اِداروں کے صدور کی کاڈی نیشن کمیٹی کا ایک وفد یہاں سول سیکرٹریٹ میں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان سے ملا۔وفد کی قیادت کاڈی نیشن کمیٹی کے چیئرپرسن محمد اقبال آہنگر کر رہے تھے جبکہ صدر ایم سی حاجن ارشاد احمد ، صدر ایم سی چرارِ شریف زاہد حسین جان، صدر ایم سی گاندربل ایڈوکیٹ الطاف حسین، صدر ایم سی کنزر عبدالکریم ، صدر ایم سی بارہمولہ عمر ککرو ، صدر ایم سی دیو سر مشتاق احمد اور صدر ایم سی کولگام ببلو گوسومی وفد میں شامل تھے۔وفد نے بلدیاتی اِداروں کو بااختیار بنانے، اداروں کے ارکان کی حفاظت اور رہائش سے متعلق مانگیں پیش کیں۔ وفد نے ان کے علاقوں میں مختلف ترقیاتی معاملات سے نمٹنے کے لئے ضلع انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کا تعاون طلب کیا۔وفد نے پی ایل پرائس دکانیں قائم کرنے، جِم سہولیات کی فراہمی ، ان کے علاقوں میں کھیل کود اور دیگر بنیادی ترقیاتی ڈھانچے کا قیام ، عمل میں لانے کی مانگیں پیش کیں۔وفد نے چرارِ شریف سپورٹس سٹیڈیم دیکھ ریکھ ، فتح پورہ گاندربل میں کرکٹ گرائونڈ کو ترقی دینے، دلنہ بارہمولہ میں ہاکی ٹرف قائم کرنے اور دیگر ترقیاتی بنیادی ڈھانچہ کا قیام عمل میں لانے کامطالبہ کیا۔وفد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے مشیر خان نے کہا کہ جموںوکشمیر میں کھیل کودکا بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی معیار کے مطابق قائم کیا جارہا ہے جو ملک کا بہترین کھیل کود ڈھانچہ ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر ملک میں کھیل کود کا مرکز بنایا جائے گا۔مشیر خان نے منتخبہ اَرکان کی بے مثال ہمت و حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اُن کی حفاظت کے لئے ہرممکن حکومت قدم اُٹھائے گی اور اُن کی دیگر ضروریات بھی پورا کرے گی تاکہ وہ زمینی سطح پر بے خوف ہو کر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔اُنہوں نے وفد کے اَرکان کو تن دہی اور لگن سے کام کر کے لوگوں کی ترقیاتی ضروریات و آرزوئیں پوری ہوسکیں۔
 
 
 
 

نیوزچینلیں بھارت کیلئے سب سے بڑا خطرہ :سجادلون

سرینگر//  پیپلزکانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے ٹی وی نیوز چینلوں سے بھارت کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا بھارت کو کو دس چین اور بیس پاکستان اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں جتنا ایک نیوز چینل صرف دس منٹوں میں پہنچا سکتی ہے۔سی این ایس کے مطابق لون نے ایک مصنفہ تولین سنگھ کے ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ ہم بیرونی جارحیت، خطرات و جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو دس چین اور بیس پاکستان اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں جتنا ایک نیوز چینل صرف دس منٹوں میں پہنچا سکتی ہے۔سجاد لون نے اپنے ایک دوسرے ٹوئٹ میں کہا، ’’اور ٹی وی نیوز سے سب سے زیادہ خطرہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ہے، کیونکہ ٹی وی نیوز بھی فلم کی مانند ہی تخلیقی ہے، بلا شبہ بدصورت کریٹیویٹی (تخلیق)، یہاں تک کہ جس طرح کے وہ پوز بناتے ہیں اور جس انداز وہ بات کرتے ہیں! تاہم ایک اور صنعت ہے جو اس سب کا فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہے اور وہ ہے طب نفسیات (سائیکیٹری) ہے۔
 
 

 حریت (ع) کی بٹہ مالوہلاکت کی مذمت

سرینگر//کل جماعتی حریت کانفرنس(ع)بٹہ مالوہ میں ایک خاتون کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ایک بیان میں حریت (ع)نے کہا کہ پولیس کی تحویل میں سوپور کے ایک نوجوان کے قتم کے بعدبٹہ مالوہ کی ایک خاتون کوثر صوفی فورسزکی بلاشتعال گولیوں سے موقعہ پر ہی ہلاک ہوگئی۔بیان میں میڈیارپورٹس کے حوالے سے بتایاگیا کہ کوثر کے اہلخانہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخرکس گناہ کی پاداش میں کوثر کوبے دردی سے ہلاک کیاگیا۔حریت(ع) نے کہا کہ ایسے واقعات حددرجہ افسوسناک اورتشویشناک ہے۔حریت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوترس کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کیااور کہا کہ جموں کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کوروکنے کیلئے اس دیرینہ مسئلہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اقوام متحدہ کی آئینی ،اخلاقی اورقانونی ذمہ د اری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اب وقت آچکا ہے کہ بھارت اور پاکستان جموںوکشمیر کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کو مدنظر رکھ کر اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ جموںوکشمیر  میں قتل عام بند ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام عدم تحفظ کے ماحول سے باہر نکل کر وقار اور شائستگی کی زندگی گذار سکیں۔
 

 وزیر داخلہ کاپارلیمنٹ میں دیاگیا بیان غلط:سوز | گزشتہ برس 5اگست سے میں گھرمیں نظربند ہوں

سرینگر//سابق مرکزی وزیر اورکانگریس رہنما پروفیسر سیف الدین سوز نے مرکزی وزیرداخلہ کے پارلیمنٹ میں دیئے گئے اُس بیان جس میں کہاگیا ہے کہ جموں وکشمیرمیں کوئی بھی سیاسی رہنما خانہ نظربند نہیں ہے،کوغلط اور گمراہ کن قراردیا ہے ۔ایک بیان میں پروفیسر سوزنے کہا کہ 5اگست2019کوجب سابق ریاست جموں کشمیرکاخصوصی درجہ دفعہ370ختم کیاگیا،سے وہ اپنے ہی گھر میں نظربند ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران وہ صحت کے سلسلے میں دو دن کیلئے دہلی گیااور دوبار سری نگر میں اپنی بہن کی عیادت کیلئے گیا۔سوزنے کہا کہ اس موقعہ پرپولیس نے مجھے اجازت دی اور اپنے ساتھ گاڑی میں گارڈ کے ہمراہ لیااور بعدمیں واپس اپنے گھر پرچھوڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ میری طرح اور بھی سیاسی شخصیتیں اپنے ہی گھروں میں بند ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس نے بھی پارلیمنٹ کو اطلاع دی،اُس نے قانون کااحترام نہیں کیا کیوں کہ آئین ہند کے تحت شخصی آزادی کوتحفظ حاصل ہے ۔سوزنے کہاکہ جو لوگ میرے لئے گارڈ کے طور مقرر ہیں، اُن کو اپنے افسر لوگ زبانی احکامات صادر کرتے ہیں اور اُن پر عمل کرواتے ہیں۔ اب سب کچھ زبانی احکامات پر ہی منحصر ہے۔ جیسا کہ گارڈ سے وابستہ پولیس اہلکار بتاتے رہتے ہیں ،’’اوپر سے آرڈر ملا ہے‘‘۔
 
 

نجی اسکولوں کو جوابدہ بنانے کی پہل | فیس کے ڈھانچے اور طلاب کے اندراج کی تفاصیل طلب  | اساتذہ کے ساتھ ناانصافیوں کاازالہ کیا جائے گا:سامون

سری نگر//نجی اسکولوںکے مالکان ومنتظمین کوجوابدہ بنانے کی شروعات کرتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت نجی اسکولوں میں فیس کے ڈھانچے اور طلباء کے اندراج کے بارے میں ’آڈٹ شدہ رپورٹس‘ طلب کرے گی۔ جے کے این ایس کے مطابق یہ اقدام ان اداروں (نجی اسکولوں)میں اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق شکایات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کو نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ان کی تنخواہوں کو پچھلے کئی ماہ سے روکا گیا ہے یا اس میں 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔ پرنسپل سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ، ڈاکٹراصغرحسن سامون نے کہا کہ اس طرح کی شکایات کثرت سے سامنے آتی رہتی ہیں،یہاں تک کہ کچھ نجی اسکولوں نے وبائی امراض(کوروناوائرس) کے باوجود اپنے تدریسی عملے کو بغیر کسی اطلاع کے معطل کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت فیس کے ڈھانچے سے متعلق آڈٹ رپورٹس طلب کرے گی ، طلباء کے اندراج اور اساتذہ کو اگست2019 سے لے کر آج تک کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق تمام تفصیلات طلب کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتی ہدایات کے باوجود بیشتر نجی اسکولوں نے اپنے اساتذہ کی تنخواہ روکی ہے یااُن کوملازمت سے نکال باہرکردیا ہے۔  ڈاکٹراصغرحسن سامون نے کہا کہ استحصال یاناانصافی کا شکار ایسے اساتذہ نے ہم سے رجوع کرکے اپیل کی کہ ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔انہوں نے شکایت کی کہ جو بھی استاد یا عملہ کا رکن تنخواہ مانگتا ہے یا اس کیلئے آواز اٹھاتا ہے، اُسے باہر کاراستہ دکھایا جاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ایک دن میں 6 سے7 کلاس لینے کے باوجود ہمیں ماہانہ صرف 7ہزارسے8ہزار تک اُجرت یاتنخواہ دی جاتی ہے ۔نجی اسکولوں کے اساتذہ نے حکام کوبتایاکہ صرف چند ایسے اسکول جو کل پرائیویٹ اسکولوں میں2 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں، وہاں ایک ٹیچر کوماہانہ 20سے30ہزار روپے سے زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے ۔ ڈاکٹراصغرحسن سامون نے کہا کہ محکمہ کو پہلے ہی شکایات موصول ہو چکی ہیں اور نجی اسکول کے اساتذہ کی حقیقی شکایات کو دور کرنے کیلئے کارروائی کی جائے گی۔
 
 

دودھ کی پیداوار اور فروخت سے وابستہ سیکٹر|  نوجوانوں کیلئے روزگار کے وافر مواقع:منیجنگ ڈائریکٹراَمول

سرینگر//گجرات کوآپریٹیو مِلک مارکیٹنگ فیڈریشن لمٹیڈ ( اے ایم یو ایل )کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر آر ایس سوڈھی نے کہاکہ دودھ کے شعبہ میں جموں وکشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے کاروبارکے وافر مواقع میسر ہیں۔ ڈاکٹر سوڈھی نے یہ بھی کہا کہ دودھ کاشعبہ کا ایک تہائی حصہ منظم ہے۔جے اینڈ کے ایف آئی سی سی آئی ریاستی کونسل کے زیر اہتمام’ ایف آئی سی سی آئی یوتھ انٹرپرینیورشپ اینڈ انڈسٹری کنیکٹ‘ کے موضوع پر ایک ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سوڈھی نے کہا کہ اِس شعبے کی صلاحیت سے فائدہ اُٹھانے کے لئے تعلیم یافتہ نوجوان کاروبار کا انتخاب کرسکتے ہیں کیوں کہ کراس نسل والی گائیوں کی بہت بڑی مارکیٹنگ ہوتی ہے ، مویشیوں کے کھانے کے فارم قائم کرسکتے ہیں اور یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی مشینیں تیار کریں۔ فوڈ اور ڈیری سیکٹر کے اِن مواقع کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے ڈاکٹر سوڈھی نے کہا کہ صارفین اس کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جو مقامی طور پرتیار کیا جاتا ہے اور مقامی برانڈ کے طور پر فروخت ہوتا ہے ۔ تاہم یہ معیار اور برانڈ کے تاثرات کو پورا کرنے کے ساتھ مشروط ہے۔ ڈاکٹر سوڈھی نے نوجوان کاروباری اَفراد کو جدید ٹیکنالوجی ، مقامی طور پر حاصل شدہ اجزأ، اچھی پیکیجنگ اور سستی قیمتوں پر اچھے معیار کی تلاش کرنے کی تلقین کی۔ ڈاکٹر سوڈھی کے مطابق جموں و کشمیر زیادہ تر دودھ اور دودھ کی مصنوعات کے لئے دوسری ریاستوں پر منحصر ہے۔ جموں و کشمیرکے دیہی علاقوں میں جو بھی دودھ پیدا ہوتا ہے وہ اس کے شہری ہم منصبوں تک نہیں پہنچتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ سے رابطے کا فقدان اور قیمتوں کا تعین درست نہیں ہونا ،یہ اہم معاملات ہیں۔ڈائریکٹر انڈسٹریز کشمیر محمود احمد شاہ نے ویب نار میں کہاکہ متعدد مقامات پر لینڈ بینکوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر لینڈ بینک میں ایک ایک کولنگ پلانٹ بنایا جائے۔  ڈائریکٹر جے کے ای ڈی آئی سری نگر جی ایم دھر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ڈیری سیکٹر کو جدید خطوط اور تراکیب پر اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ پلوامہ ضلع کو’ ’جے اینڈ کے آنند ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم لوگوں کی پریشانی دودھ کا معیار ہے جو انہیں دستیاب ہے۔ جی ایم دھر نے کہا کہ ریاست کے تعلیم یافتہ نوجوان آہستہ آہستہ اس شعبے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تکنیکی ماہرین کو جموں وکشمیر آنے کی دعوت دی۔ پروفیسر آئی آئی ایم جموںڈاکٹر جابر علی نے کہاکہ سرکاری سکیموں کو بروئے کار لایا جانا چاہیئے اور ہمیں ڈیری  شعبے میں حکومت ہند کے فراہم کردہ وسائل کو تلاش کرنا ہوگا۔  ایچ آر اینڈ ایڈمن ہیڈجے اینڈ کے ایم پی سی ایل (مِلک فیڈریشن) فاروق احمد نجار نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج گاؤں سے دودھ کو بحفاظت مارکیٹ میں لے جانا تھا لیکن ہم نے اسے امول( اے ایم یو ایل) اور حکومت کی مدد سے حل کیا۔
 
 
 

آنگن واڑی سپروائزروں کا تنخواہیں واگزار کرنے کا مطالبہ

سرینگر//وادی کشمیر میں محکمہ سماجی بہبود کے’ آئی سی ڈی ایس‘ میں کام کر رہے سپر وائزر س چار ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ ان کی واجب الاد اتنخواہوں کو فوری طور واگزار کیا جائے ۔ادھر محکمہ نے بتایا کہ دو ماہ کی تنخواہ چند ایک روز میں واگزار کی جا رہی ہے ۔ کے این ایس کے مطابق جمعہ کو محکمہ آئی سی ڈی ایس میں کام کر رہے سپر وائزرس نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ ان کی 4 ماہ سے رُکی پڑی تنخواہیں واگزار کی جائیں ۔مذکورہ ملازمین نے بتایا کہ اُن کی تنخواہیںواگزار نہ کرنے کی وجہ سے وہ  شدیدمشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ملازمین نے الزام عائد کیا کہ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ انکی تنخواہ کو وقت پر واگزار نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا اب یہ محکمے میں ایک روایت بن چکی ہے کہ ملازمین کو تنخواہ کے حوالے سے پریشان کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی واجب الاد اتنخواہیں فوری طور واگزار کی جائے۔اس حوالے سے ڈائر ایکٹر آئی سی ڈی ایس طارق علی نے یقین دلایا کہ وہ مسئلے کو دیکھ لیں گے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ادھر متعلقہ محکمے کے اکانٹس افسر ویشو کانت نے بتایا کہ ملازمین کی دو ماہ کی تنخواہ دو تین روز میں واگزار کی جائے گی ۔
 
 

نمتہ ہال چاڈورہ میں خاتون کا انتہائی اقدام

بڈگام//ارشاداحمد//نمتہ ہال چاڈورہ میں ایک خاتون نے مبینہ طور گھرمیں کوئی زہریلی شے کھاکر زندگی کاخاتمہ کیا۔نمتہ ہال گائوں چاڈورہ میں ایک37برس کی ایک خاتون نے کوئی زہریلی شے کھالی جس کی وجہ سے اُس کی حالت بگڑ گئی۔اگرچہ مذکورہ خاتون کو فوری طور سب ضلع اسپتال چاڈورہ لایاگیا تاہم وہاں موجودڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خاتون نے یہ انتہائی قدم کیوں اُٹھایا۔پولیس نے معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قانونی اور طبی لوازمات پورا کئے جانے کے بعد لاش کو لواحقین کے سپرد کیاگیا۔اس سلسلے میں پولیس نے کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہے۔
 
 

بارہمولہ میں گرنیڈ دھماکہ ہونے کی خبر غلط:پولیس

سرینگر// بارہمولہ میں گرنیڈ دھماکہ ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے بارہمولہ پولیس نے کہا ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک اور صحیح ہے ۔سی این آئی کے مطابق بارہمولہ میں جمعہ کے روز نامعلوم افراد کی جانب سے ہتھ گولہ پھینکنے کی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد بارہمولہ پولیس نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں کسی بھی جگہ آج گرنیڈ دھماکہ نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی بارہمولہ عبدالقیوم نے بتایا کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور اس طرح کی بے بنیاد خبریں پھیلانے اور منفی پروپگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں میں تذبذب پیدا کرنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کارروائی کے پیچھے جن عناصر کا ہاتھ ہوگا ،اس کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔