مزید خبریں

 کسانوں کے احتجاج نے مرکز ی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکردیا:محبوبہ مفتی

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی صدر اور جموں وکشمیرکی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ کسانوں کے احتجاجوں نے حکومت ہند کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی عوام کی طاقت سے خوفزدہ ہے اوریہی وجہ ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا،’’ کسانوں کے احتجاجوں نے حکومت ہند کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بی جے پی عوام کے طاقت سے مرعوب ہے اور یہی وجہ ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا گیا۔ پرامن اختلاف رائے پر پابندی لگانا ان کے تمام محاذوں پر ناکام ہونے اور گھبراہٹ کا ثبوت ہے‘‘۔بتادیں دلی کی سرحد پر کسانوں کی طرف سے تین زراعتی اصلاحات کے قوانین کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ مرکزی حکومت اور کسان لیڈروں کے درمیان جمعرات کو ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کے بعد کسان تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے تینوں زرعی اصلاحات کے قوانین میں ترمیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
 
 
 

کپوارہ میں حدمتارکہ پر گولہ باری

سری نگر//یواین آئی// جموں و کشمیر کے ضلع کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں حدمتارکہ پر جمعہ کے روز ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا تاہم فی الوقت کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔سری نگر میں قائم فوج کی چنار کور کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ضلع کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں حدمتارکہ پر جمعہ کے روز پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری شروع کر دی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے کے علاوہ مارٹر گولوں کا بھی استعمال کیا۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی جموں و کشمیر کے سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

روشنی ایکٹ:ہائی کورٹ ہدایات کی عدم تعمیل |  جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کیخلاف سی بی آئی میں کیس درج

سرینگر// جموں و کشمیر میں روشنی گھوٹالہ کے معاملات کی تحقیقات کو وسیع کرتے ہوئے سی بی آئی نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کی جانب سے ہائی کورٹ کی ہدایتوں کی مبینہ عدم تعمیل کی پاداش میں چار ابتدائی تحقیقات درج کیں۔ سی بی آئی کے ذریعہ درج پہلی تفتیش کا تعلق تحصیل جموں کے گوئل میں 784 کنال ، 17 مرلہ اراضی پر تجاوزات سے متعلق ہے ،جو جے ڈی اے کو منتقل کیا گیا تھا۔ابتدائی تحقیقات سی بی آئی کی طرف سے شکایت کنندہ کے ذریعہ لگائے گئے پہلے لزامات میں جرائم کا اندازہ لگانے کے لئے شروع کیا گیا پہلا قدم ہے۔ اگر الزامات کافی سنجیدہ معلوم ثابت ہوئے تو  ایجنسی ایف آئی آر میں پیش رفت کرے گی، ورنہ  ابتدائی تحقیقات کو بند کردیا جائے گا۔24 اپریل ، 2014 کو ، جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے جموں ، سامبا ، ادھمپور ، سرینگر ، بڈگام اور پلوامہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروںکو ہدایت کی تھی کہ وہ موجودہ کیس کا متعلقہ ریکارڈ ویجلنس ڈائریکٹر کے حوالے کرنے کی تعمیلی رپورٹ پیش کریں۔ ہا ئی کورٹ کی بار بار ہدایت کے باوجود مجاز حکام کی جانب سے کوئی کاروائی شروع نہیں کی گئی۔حکام نے بتایا کہ سی بی آئی کے ذریعہ درج دوسری ابتدائی تفتیش میں ’’جے ڈی اے‘‘ کے نامعلوم  افسراں کی نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے بنسی لال گپتا نامی ایک تاجر کے ذریعہ 154 کنال اراضی پر مبینہ تجاوزات اور اس کے تجارتی استعمال میں تبدیلی سے متعلق ہے۔گپتا نے مبینہ طور پر جے ڈی اے کی اراضی کو چار دیواری سے ڈھانپ لیا ہے لیکن وہ روشنی ایکٹ کے تحت حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ر ہیں۔اگست میں جموں کے صوبائی کمشنر نے جواب داخل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ہائی کورٹ نے نوٹ کیا تھا’’ہمیں سخت خدشات ہیں کہ جے ڈی اے اور محصولات کے حکام نے اب چھپانے کی مشق شروع کردی ہے۔‘‘سی بی آئی نے حکومت کی طرف سے اس کو منتقل کی جانے والی 66436 کنال اراضی کی حد بندی کرنے کے عدالتی احکامات کی تعمیل کرنے کے لئے جے ڈی اے کے انکار کی تیسری ابتدائی تفتیش درج کی ہے۔ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ جے ڈی اے کے اپنے احکامات کی عدم تعمیل ’’تجاوزات کے ساتھ سرکاری مشینری کا استعمال اس کی گہرائی کی عکاسی کرتی ہے‘‘۔عدالت نے 12 نومبر 2014 کو محکمہ ریونیو کے ساتھ ساتھ جے ڈی اے کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اس  اراضی کی حد بندی کے سلسلے میں  موجودہ  ہیت کی رپورٹ درج کرے جس کی تعمیل 6 سال بعد بھی نہیں کی گئی ہے۔
 
 
 

سو ل سوسائٹی فورم | 5اگست کے فیصلوں کیخلاف آواز بلند کرتا رہیگا

سرینگر//جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم غیرسیاسی بنیاد پرجموں کشمیرکی اصل شناخت ،تشخص ،آبادی کے تناسب کوبگاڑنے کے 5اگست2019کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کے خلاف پرامن طوراپنی آوازبلندکرتارہے گااورجموں کشمیرکے عوام کواِس فیصلے کے منفی اثرات سے آگاہ کرتا رہے گااورحسب روایت ہرسطح پرمقامی وسائل کاتحفظ ،علمی،ثقافتی،لسانی شناخت اورتمام فیصلوں جوریاستی عوام کے جذبات اوراحساسات کے خلاف ہوں گے،ان پرپرامن احتجاج درج کرتارہے گا۔اس بات کافیصلہ یہاں فورم کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کی۔ایک بیان کے مطابق اجلاس میں سماجی بدعات شراب نوشی،کورپشن اورمنشیات کوایک وباء قراردیاگیااوراس بات پرتشویش کااظہار کیاگیا کہ شراب نوشی،منشیات اور کورپشن نے وبائی شکل اختیار کی ہے جوہمارے مستقبل کے سرمایہ کو دھیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔اجلاس میں جموں کشمیر کے شہرودیہات میں ایسے تمام مقامات کی نشاندہی کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جہاں سے ایسے غیرقانونی ،غیرانسانی اور غیرمذہبی دھندے چلائے جارہے ہواوراسمگلروں کی جانب سے ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہو۔بیان کے مطابق اجلاس میں عہدکیاگیاکہ سول سوسائٹی فورم اس وباء کوروکنے کیلئے عملی اقدام کرے گا۔اجلاس میں تنظیم کوصوبائی اور ضلع سطح پرتوسیع دینے کابھی فیصلہ کیا گیا۔
 
 

اپنی پارٹی کی چال ڈھال بھاجپا کی ’بی‘ ٹیم ہونے کی عکاس:نیشنل کانفرنس

سرینگر//آر ایس ایس کی اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری خود کو بی جے پی سے الگ جتلانے کیلئے کتنے ہی جتن کیوں نہ کریں لیکن وہ ہر بار ایسا کر پانے میں ناکام ہی ہوںگے کیونکہ جموں وکشمیر کا بچہ بچہ اس بات سے باخبر ہے کہ کس طرح سے ناگپور والوں نے جموں وکشمیر میں اپنے آلہ کاروں کو جمع کرکے اپنی پارٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔ الطاف بخاری کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ موصوف جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے پہلے ایسے سیاست دان ہیں، جو دفعہ370اور 35اے کی منسوخی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقی ہوئے اور جموں وکشمیر میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے ناگپور سے لیکر نئی دلی تک دروازے کھٹکھٹائے۔ انہوں نے کہاکہ الطاف بخاری اور اُس کے ٹولے نے اپنے آقائوں کے کہنے پر 5اگست2019کے فیصلوں کو جواز بخشنے کی بہت کوشش کی لیکن عوام نے ان کے موقف کو یکسر مسترد کردیا اور آج الیکشن کے وقت اچانک موصوف کو دفعہ370اور 35اے کی یاد آگئی ہے۔ 8جنوری 2020کو ایک بیان میں موصوف نے کہا تھا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ ہم 370اور35اے کو پیچھے چھوڑ دیں‘‘ اور ڈی ڈی سی الیکشن قریب آتے ہی موصوف کی بولی میں تبدیلی آگئی اور اب دفعہ370کی واپسی کیلئے بیانات دے رہے ہیں۔ این سی ترجمان نے کہا کہ الطاف بخاری لوگوں کے استحصال کی بات کرتے ہیں لیکن شائد یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ سابق عوامی حکومت میں ایک سینئر وزیر تھے۔ اگر سابق حکومتوں میں استحصال ہوا تو پھر آپ اس میں برابر شریک ہیں۔ موصوف کی احسان فراموشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ڈی پی نے موصوف کو دو بار سینئر وزیر کا قلمدان سونپا اور ایک وقت پر محبوبہ مفتی نے موصوف کو وزیر اعلیٰ بنانے پر بھی آمادہ ہوگئی تھی لیکن آج موصوف اپنے آقائوں کے کہنے پر جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں بشمول پی ڈی پی کیخلاف زہرافشائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ الطاف بخاری کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے لیکن اُن کی پارٹی کی چال، ڈھال اور بولی خود اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم کشمیر میں بھاجپا کی بی ٹیم ہے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ الطاف بخاری کا کشمیریوں کے مفادات کیخلاف کام کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ 1983میں بھی موصوف نے نئی دلی کے ساتھ مل کر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی عوامی حکومت کیخلاف سازش رچائی تھی اور آج بھی موصوف 5اگست2019کو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر لگائے گئے کاری ضرب کو جواز بخشنے کیلئے بھاجپا کے پیادے کے طور پر کام کررہے ہیں۔ 
 
 

پنڈتوں کے مسائل نظر اندازکئے جارہے ہیں:بقایا

جموں//اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری اور سابق ممبرقانون ساز کونسل وجے بقایا نے اِس بات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ یوٹی انتظامیہ کشمیری پنڈتوں کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی رہی  ہے جو جگٹی میں ایک ماہ کے زائد عرصہ سے ریلیف مطالبہ کے حق میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نان مائیگرینٹ کشمیری پنڈت جوکہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور ریلیف ونوکریوں کی مانگ کر رے ہیں، کو انتظامیہ نظر انداز کر رہی ہیں اور انہیں وادی چھوڑنے پر مجبور کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو چاہئے کہ مائیگرینٹوں کو قابل بھروسہ یقین دہانی کرائی جائے کہ اُن کے مطالبات حل کئے جائیں گے اور اِس فیصلے کو مقررہ مدت کے اندر حل کیاجائے۔ بقایا نے اُمیدظاہر کی ہے کہ دھرنے کو ختم کرنے کے لئے مطلوبہ اقدامات کرے گی۔
 
 

نیشنل کانفرنس اب سیاسی تماشہ کررہی ہے:درخشان 

سرینگر//بھارتیہ جنتاپارٹی کی ترجمان اور سینئر رہنما ڈاکٹر درخشان اندرابی نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے روشنی قانون کو جوازیت بخشنے پر شدیددرعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی چالوں کے بجائے اب وہ تماشہ کررہے ہیں اوراب نیشنل کانفرنس کی قیادت نے سیاست میں تماشہ کرنے کو اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے سربراہ کاکہنا ہے کہ روشنی ایکٹ کیسے غلط ہوسکتا ہے جبکہ اُسے اسمبلی میں بھاری اکثریت سے پا س کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ غلط غلط ہی ہوگا اگر چہ سارے لوگ اس کی حمایت کریں ۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف روشنی ایکٹ بلکہ پورے جموں کشمیرمیں جنگلات اور ریاستی اراضی پر قبضہ روشنی سے بھی زیادہ بڑافراڈ ہے اوریہ سارے ’اتحاد‘ کے شراکت داراس کے مستفیدین تھے۔انہوں نے کہا کہ ناجائزتجاوزات کاگھپلہ سکے کاایک رُخ ہے جبکہ سکے کادوسرا رُخ ان ’اتحادی شراکت داروں‘ کی طرف سے آمدن سے زیادہ اثاثے جمع کرنا ہے.۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ان کے اَٹانومی اور سیلف رول کانظریہ تھاجسے چاک کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ جموں کشمیرکوہوئے نام نہاد نقصان پر نہیں روتے ہیں بلکہ وہ ان سے چھینی گئی راحتوں پرآنسو بہارہے ہیں۔درخشان نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ انہیں اب تفتیشی اداروں کاسامنا کرنا ہوگا۔اور اب وہ متاثرین کاکارڈ کھیلنے کیلئے میدان ہموارکررہے ہیں۔انہوں نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے ایک ٹی وی چنل کودیئے گئے بیان پر بھی اپنے ردعمل کااظہار کیا۔ڈاکٹر درخشان نے کہا کہ پی ڈی پی صدر نے ایک ٹی وی چینل پر یہ کہہ کرغلط بیان دیاکہ دونوں جماعتوں کے کم سے کم مشترکہ پروگرام میں ہندپاک تعلقات کیلئے نقش راہ اور سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں کو عام معافی دینا شامل تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کم سے کم مشترکہ پروگرام کی ایک کاپی ہوگی اورمیں ان سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس کا دوبارہ مطالعہ کریں۔ 
 
 
 

آمدن سے زیادہ اثاثے،نائب تحصیلدار گرفتار

سرینگر// انسداد رشوت ستانی ادارے انٹی کورپشن بیورو نے محکمہ مال کے نائب تحصیلدار کو حیثیت سے زیادہ اثاثے جمع کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا۔ اس معاملے میں انٹی کورپشن بیورو نے ایک کیس زیر نمبر 23/2020 زیر دفعات5(10)انسداد رشوت ستانی قانون مجریہ2006کے تحت پولیس تھانہ انٹی کورپشن بیورو میں17نومبر 2020 کو نائب تحصیلدار راولپورہ سرینگر کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ آمدنی اور اثاثوں سے متعلق درج کیا۔ یہ کیس انٹی کورپشن بیورو کی جانب سے متعلقہ نائب تحصیلدار راولپورہ کے خلاف موصول شکایتوں کی تحقیقات کرنے کے بعد درج کیا گیا تھا۔مذکورہ نائب تحصیلدار کے خلاف یہ شکایتیں موصول ہوئی تھیں کہ ان کے پاس کافی شاپنگ کمپلکس اور شاندار رہائشی مکان کی صورت میں کافی اثاثے موجودہیں۔اے سی بی کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مشتبہ شخص نے2008سے لیکر2019تک قریب45لاکھ روپے بطور تنخواہ حاصل کی،تاہم اس عرصے کے دوران  مذکورہ شخص نے کروڑوں روپے کے اثاثے جمع کئے،جو کہ انکے معلوم ذرائع آمدن سے میل نہیں کھاتے۔ انٹی کورپشن بیورو نے کہا کہ کیس کے اندراج کے بعد با اختیار عدالت سے تلاشیوں کی وارنٹ حاصل کی گئی اور18نومبر کو بہ یک وقت سرینگر اور بڈگام میں کئی مقامات پر تلاشیاں لی گئی،جس کے دوران اہم دستاویزات ہاتھ لگے۔انہوں نے بتایا کہ ثبوت جمع کرنے کے بعد اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ  مذکورہ نائب تحصیلدار نے جرم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے سرینگر اور بڈگام میں مختلف جائیدادیں جمع کی ہیں،اور اس سلسلے میں ان کی گرفتاری لازمی ہے تاکہ وہ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ اس دوران جمعہ کو  نائب تحصیلدار کو حراست میں لیاگیا ۔