سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ افراد کا پروفیسر مرغوب بانہالی کی وفات پر اظہار تعزیت
سرینگر//سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ افراد اور تنظیموں نے جموں کشمیر کے سرکردہ ادیب ،دانشور ، اہل قلم اورکشمیر یونیورسٹی کے سابق پروفیسرڈاکٹر مرغوب بانہالی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انجمن نصرۃ الاسلام کے سربراہ میرواعظ محمد عمر فاروق نے ڈاکٹر مرغوب بانہالی کی کشمیری، اردو اور فارسی زبان و ادب کے تعلق سے گرانقدر خدمات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا۔انہوں نے سوگوار کنبے خاص طور پر مرحوم کے فرزنداورمعروف معالج ڈاکٹر مشتاق مرغوب اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے سوگوارکنبے کیلئے صبر جمیل اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔دائرہ ادب دلنہ کا ایک آن لائن تعزیتی اجلاس منعقد ہوا،جس کی صدارت تنظیم کے صدر اوراور شاعر شاہد دلنوی نے کی۔اجلاس میںمرغوب بانہالی کے انتقال کو کشمیری زبان و ادب کے لئے بہت بڑا نقصان قرار دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر مرغوب بانہالی کا شمارکشمیری ، اردو و فارسی زبانوں کے اعلیٰ دانشوروں میں کیا جاتا ہے۔عزیتی اجلاس میں مرحوم کے حق میں دُعائے مغرفت کی گئی اور لواحقین خصوصاً ڈاکٹر مشتاق مرغوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ آن لائن اجلاس میںشاہد دلنوی کے علاوہ ضمیر انصاری، شیر علی مشغول، اختر علی، تاثیر افضل، شوکت انصاری، علی محمد حسرت،حنان عدم اورصدف غزالہ نے شرکت کی ۔سینئر کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔موصوف کا انتقال خصوصی طور ادیبوں اور شاعروں کیلئے ایک بڑا نقصان ہے۔
سوپور میں ریچھ کے حملے میں شہری زخمی
سرینگر//شمالی قصبہ سوپورمیں بدھ کو ایک خونخوار ریچھ نے ایک40سالہ شہری پر حملہ کر کے اسے بری طرح زخمی کر دیا ۔ہسپتال ذرائع نے شہری کی شناخت عبد السلام ڈار ولد غلام محمد ڈار ساکن ہیب ڈانگر پورہ کے طور پرکی ہے ۔ ریچھ کے حملے کے بعد شہری نے شور مچایا اور لوگوں نے فوری طور اسے ہسپتال پہنچایا جہاں سے ڈاکٹروں نے انکی نازک حالت کو دیکھ کر سرینگر منتقل کیا۔
حضرت امام حسنؑ کا یوم ولادت باسعادت | انجمن شرعی شیعیان اورحقانی ٹرسٹ کا ہدیہ تہنیت
سرینگر//انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے حضرت امام حسنؑ کے یوم ولادت باسعادت کے موقعہ پر فرزندان اسلام کو ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے امام عالی مقامؑ کے سیرت و کردار اور حیات طیبہ کو اسلام کی سربلندی اور ملت سازی کا راہ عمل قرار دیا۔ آغا حسن نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ نہ صرف سیرت و کردار میں اپنے نانا رسول اکرمؐ کے آئینہ دار تھے بلکہ صورت میں بھی سب سے زیادہ مشابہ تھے ۔ حقانی میموریل ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے حضرت امام حسنؑ کو ان کے یوم ولادت پر گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اہل بیت کی فضیلت و شان احادیث سے واضح ہے۔
کورونا صورتحال | سوپور اور بڈگام میںپولیس کا مذہبی رہنماؤں کے ساتھ رابطہ
سرینگر//سوپوراور بڈگام پولیس نے مذہبی رہنماؤں اور ئمہ مساجد کے ساتھ ملاقاتوں کے تسلسل کے طور پر ایک اجلاس منعقد کیا۔ ایس ایس پی سوپور کی ہدایت پر ڈنگی وچھ تھانہ کے دائرہ اختیار میں ائمہ اوردیگر مذہبی رہنمائوںنے شرکت کی اوربڈگام میںخانصاحب علاقے کے دائرہ اختیار میں آنے والے مذہبی رہنمائوںنے ایس ڈی پی او دفتر خانصاحب میں شرکت کی۔ان میٹنگوں میں مذہبی رہنمائوںپر زور دیا گیا کہ مساجد میں بھیڑ جمع کرنے کی اجازت نہ دیں ۔ائمہ مساجد اور مذہبی رہنماؤں کو ایس او پیز پر دوبارہ نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا گیا اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نمازی ماسک اور سماجی دوری کو برقرار رکھیں۔
بڈگام میں پولیس دربار | ایس ایس پی کا اہلکاروں کے ساتھ بات چیت
بڈگام//ایس ایس پی بڈگام طاہر سلیم نے ضلع پولیس لائنز میںاہلکاروں کے ساتھ ایک دربار کا انعقاد کیا۔ دربار کا مقصد کووڈ 19وبائی بیماری پھیلانے کے نتیجے میں اہلکاروں اور افسروں کو جسمانی اور ذہنی طور پر تیار کرنا تھا۔میٹنگ میں شریک دیگر افسروں میں ایڈیشنل ایس پی بڈگام امت ورما ، ڈی وائی ایس پی ڈی اے آر بڈگام ، ڈی وائی ایس پی ہیڈکواٹر بڈگام اور ڈسٹرکٹ پولیس بڈگام کے دیگر افسران شامل تھے۔دربار سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی بڈگام نے کووڈ 19وبائی امراض کی صورتحال سے نمٹنے میں بڈگام پولیس کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ حکومت کی طرف سے جاری رہنما خطوط پر عمل کریں۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ پولیس عوامی اعتماد اور ہمیشہ ہمدردی اور ضرورت مند لوگوں کے لئے مددگار بنیں۔
بڈگام میں چرس سمیت فروش گرفتار
بڈگام//بڈگام پولیس نے ایک شہری کو گرفتارکرکے اس کے قبضے سے 35گرام چرس اور 120 نشیلی ٹیکیہ برآمد کیں۔گوپال پورہ چاڈورہ میںناکہ چیکنگ کے دوران چاڈورہ تھانہ کی پولیس پارٹی نے ایک مشتبہ شخص سے تلاشی کے دوران 35گرام چرس اور 120 نشیلی ٹیکیہ برآمد کیں۔ گرفتارکئے گئے شہری کی شناخت عارف احمد رہ ساکن عمر کالونی بمنہ سرینگر کے بطور ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں چاڈورہ تھانہ نے ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 49/2021 درج کیا ہے۔
کووِڈ معاملات میں اضافے پرحکیم یاسین کوتشویش | دیہات میں بھی کوروناکے علاج کیلئے مراکز قائم کئے جائیں
سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے کوروناوائرس معاملات میں روزافزوں اضافے پر زبردست فکرمندی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ شہروں اور قصبوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی اس مہلک بیماری کا علاج کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر مخصوص کووِڈ مراکز قائم کریں۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے جموں وکشمیر میں کورونا مریضوں کی تعدادروزافزوں اضافہ پر تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس مہلک بیماری کو قابو میں رکھنے کے لئے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہروں و قصبوں کے ساتھ ساتھ دور دراز دیہی علاقوں میں بھی مخصوص کووِڈ ہسپتال قائم کئے جانے چاہیے تاکہ دیہی عوام کو نزدیکی علاقوں میں کووِڈ کے علاج کی سہولیات میسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح دیہی آبادی کو علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہری ہسپتالوں اور میڈیکل سٹاف پر کووِڈ مریضوں کی اضافی تعداد کی وجہ سے دباو کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔حکیم یاسین نے ائمہ مساجد اور آسودہ حال شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ مخالف جنگ میں مصروف عمل افسروں اور طبی و نیم طبی عملے کو اپنا بھر پور تعاون فراہم کریں اور اپنے متعلقہ علاقوں میں ضرورت مند بیماروں کے لئے ادویات اور آکسیجن کا انتظام کریں۔پی ڈی ایف چیرمین نے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے کہا کہ وہ کووِڈ بیماری کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی زمینی سطح پر عمل آوری کی نگرانی کریں اور صحت وطبی تعلیم سے وابستہ افسران و ڈاکٹر وں کا قیمتی وقت روزانہ کووِڈ جائزہ میٹنگوں میں صرف نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کووِڈ ٹیسٹ کے بغیر کسی بھی شخص کو وادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور اس ضمن میں لاپرواہی برتنے کے میڈیا رپورٹوں کی جانچ کی جانی چاہیے۔
سڑکوں کی زبوں حالی انتظامیہ کی نااہلی کی عکاس:ڈاکٹر مصطفی کمال
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے شہرودیہات میں چھوٹی بڑی سڑکوں کی خستہ حالی کو حکومت اور انتظامی ناکامی کاعکاس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر تعمیر و ترقی سے متعلق بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں لیکن جب یہاں کی سڑکوں پر نظر ڈالی جاتی ہے تو نئی دلی سے لیکر سرینگر تک کئے جارہے دعوئوں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہر ودیہات کی سڑکوں پر جگہ جگہ گہرے گھڈے بنے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے لوگوں کا عبور و مرور مشکل بن گیا ہے ۔سڑکوں کی یہ بدحالی نہ صرف ٹریفک جام بلکہ حادثات کا بھی سبب بن رہی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں وکشمیر کو گذشتہ برسوں کے دوران جان بوجھ کر تعمیر و ترقی کے لحاظ سے پیچھے دھکیلا جارہا ہے ۔ گذشتہ دوبرسوں کے دوران یہاں کوئی بھی سڑک پروجیکٹ ہاتھ میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی پرانی سڑکوں کی کشادگی یا تجدید کاری کی گئی۔ اس کے علاوہ جن پروجیکٹوں پر پہلے سے ہی کام جاری تھا، اُن پر بھی کام ٹھپ ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہاکہ اس وقت یہاں براہ راست دلی والوں کی حکمرانی جاری ہے اور اُمید ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر کیساتھ روا رکھی گئی ناانصافی اور انتقام گیری کی پالیسی ترک کرے گی۔
وباء پر قابو پانے کیلئے سرکاری مشینری کو متحرک کیا جائے:چودھری رمضان
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان نے ضلع کپوارہ اور ملحقہ علاقوں میں کورونا وائرس کے پھیلائو پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی صحت وزارت ،محکمہ صحت خصوصاً ہسپتالوں کے سربراہوں، ڈاکٹر وں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اس وباء پر قابو پانے کیلئے سرکاری مشینری کو مزید متحرک کریں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام ہسپتالوں میں آکسیجن کی وافر مقدار کے ساتھ ساتھ وینٹی لیٹروں اور دیگر ضروری ادویات کی دستیابی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔ موجودہ وبائی صورتحال میں ڈاکٹروں کے علاوہ طبی و نیم طبی عملے کے کام کو سراہتے ہوئے چودھری محمد رمضان نے کہا کہ ان لوگوں کی ان تھک محنت لوگوں کی زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہورہی ہیں ، جس کیلئے یہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ اس دوران پارٹی کے شمالی زون صدر و رکن پارلیمان محمد اکبر لون نے بھی بارہمولہ، بانڈی پورہ، کپوارہ کے تمام ہسپتالوں میں افرادی قوت بڑھانے اور آکسیجن و دیگر سہولیات بہم رکھنے کی انتظامیہ سے تاکید کی۔ انہوں نے اس بارے میں متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کیساتھ رابطہ کیااور عوام کی راحت رسانی کیلئے بروقت اقدامات کرنے کی بھی ا پیل کی۔
شوپیان میں کورونامریضوں کی تعدادمیں پھراضافہ | ضلع میں اب تک66ہزار سے زائد افراد کو کووِڈمخالف ٹیکہ لگایا گیا؛چیف میڈیکل افسر
سری نگر//شوپیان ضلع میں ایک بار پھر کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے جبکہ دو روز قبل کورونا وائرس سے متاثرہ 32 سالہ نوجوان کی موت واقع ہونے کے ساتھ ہی پورے ضلع میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس دوران ضلع میں 66 ہزار سے زائد افراد کو کورونا ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک دی گئی ہے۔ایک سال قبل 29 مارچ کو شوپیان ضلع کے سیدھو اور رام نگری دیہات سے تعلق رکھنے والے کورونا بیماری میں مبتلا دو مریضوں کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد پورے ضلع میں 6 ماہ تک مسلسل کورونا مریضوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رہا جس دوران 231 دیہات میں سے 50 کے قریب علاقہ جات کورونا کے لپیٹ میں آگئے تھے اور اڑھائی سو افراد کورونا وائرس سے متاثرہوئے تھے جن میں سے 40 کے قریب کورونا مریضوں کی موت بھی واقع ہوئی۔ اگرچہ تاریخی مغل روڑ پر آباد ہرپورہ دیہات کورونا بیماری کے’’ہاٹ سپاٹ‘‘کے طوربھی سامنے آیا تھا جہاں 72سے زائد افراد کورونا بیماری میں مبتلا ہوئے تھے تاہم ضلع انتظامیہ کی جانب سے موثر اقدامات کئے جانے کے باعث ہی ہرپورہ دیہات ضلع کا پہلا کووِڈ – 19 سے پاک علاقہ بن گیا تھا۔پورے ضلع میں6 ماہ تک مکمل خاموشی رہنے کے بعد ایک بار پھر کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور جب دو روز قبل ضلع ہیڈکوارٹر سے 3کلو میٹر دور پادپاون گائوں سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ نوجوان کی کورونا سے موت واقع ہوئی ،تو پورے ضلع میں دوبارہ اضطرابی صورتحال پیدا ہوگئی۔اس دوران کورونا کی دوسری لہر کے پیش و نظر ضلع انتظامیہ نے مرحلہ وار دکانیں کھولنے اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی لوگوں کو سخت ہدایت دی ہے تاہم مختلف بازاروں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے وضع کردہ رہنما خطوط پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے جبکہ ضلع ہسپتال شوپیان میں بھی ہسپتال انتظامیہ ایس او پیز کو مکمل طور لاگو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔کے این ایس کوبلاک میڈیکل آفیسر شوپیان ڈاکٹر محمد یوسف نے ضلع میں ویکسینیشن کے حوالے بتایا کہ ابھی تک 45 سال سے زائد عمر کے 66 ہزار 700 افراد کو کووِڈ ویکسین دئے گئے ہیں جن میں سے 58 ہزار 700 افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک اور 7 ہزار 850 افراد کو دوسری خوراک دی گئی جبکہ7 ہزار 471 فرنٹ لائن ورکروں میں سے 4ہزار کو پہلی اور 2 ہزار 915کو دوسری خوراک دی گئی۔اسکے علاؤہ بی ایم او نے بتایا کہ 2ہزار 242 ہیلتھ ورکروں میں سے 1438 ملازمین کو پہلی اور 804 ملازمین کو ویکسین کی دوسری خوراک فراہم کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز ضلع میں کورونا کے 31 نئے کیسز سامنے آئے جس کے ساتھ ہی پورے ضلع میں کورونا مریضوں کی تعداد 2943 تک پہنچ گئی جن میں سے 2678 مریض صحت یاب ہوئے ہیں تاہم ابھی تک ضلع میں 42 افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ اس وقت 224کورونا مثبت کیسز موجود ہیں جن کو مختلف اسولیشن مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے لوگوں کی سہولت کے لئے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک نیا کنٹرول روم قائم کیا ہے۔
دفعہ144کے نفاذ کا مقصدکوروناکے پھیلائو کوروکنا ہے:ضلع پولیس سربراہ
سری نگر//سرینگرمیں چار یاچار سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر امتناعی احکامات صادر کرنے کامقصد کورونا وائرس کے پھیلائوکو روکنا ہے۔ا سبات کااظہار ضلع سرینگر کے پولیس سربراہ سندیپ چودھری نے کیا۔کے این ایس کے مطابق ایس ایس پی سرینگر سندیپ چودھری نے میڈیا کو بتایا کہ لوگوں کو ہر صورت میں حکومت کی جانب سے وضع کردہ رہنما خطوط پر عمل کرنا چاہے اور لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کرکے سماجی دوری کو ہر ممکن یقینی بنائیں جبکہ ہر شخص لازمی طور ماسک کا استعمال کریں، تاہم انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بڑے بڑے اجتماعات میں شرکت کرنے سے پرہیز کریں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ سرینگر شہر میں صبح سے ہی سیکورٹی فورسز کے دستوں کو دفعہ 144 نافذ کرنے کے لئے تعینات کیا گیا ہے جس کا مقصد اصل میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ 50 فیصد دکانیں آج بند ہیں اور مرحلے وار طریقے سے جمعرات کو بھی اسی طرح دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میں تمام تاجروں اور دکانداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وضع کردہ رہنما خطوط اور سرکاری احکامات پر عمل کریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے عوامی ، پولیس اور ایڈمنسٹریشن کا تعاون لازمی ہے اور ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا کیونکہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کا رش اب بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ لوگ ابھی بھی ان گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں اور چونکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے لہذا بہت جلد یہ معاملہ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
بڈگام میں مٹی کی غیر قانونی کھدائی | 9افراد گرفتار، 4 گاڑیاں ضبط،کیس درج
بڈگام//بڈگام میںمٹی کی غیرقانونی کھدائی اور اُسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کے الزام میں پولیس نے 9افراد کو گرفتار کرکے چار ٹپر بھی ضبط کئے۔جے کے این ایس کے مطابقپولیس اسٹیشن خانصاب اور پولیس اسٹیشن بیروہ کی پولیس پارٹی نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے بیروہ میں گنڈوہ علاقے اور خانصاب میں شالی گنگا علاقے میں ناکہ چیکنگ کے دوران 4 گاڑیاں زیر نمبر JK04E- 9999, JK04C- 0099, JK04F- 0999 اورJK04C -4697 کوروکااور 9 افراد کو غیر قانونی طور کھودی گئی مٹی کوایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کے الزام میں گرفتارکیا۔پولیس اسٹیشن خانصاب کے حدودمیں جو افراد گرفتار ہوئے ان کی شناخت فیاض احمد ملک ولد محمد یوسف، بشیر احمد بٹ ولد محمد اسماعیل بٹ، بشیر احمد میر ولد غلام نبی میر،محمد الطاف بٹ ولد فتح محمدبٹ اورمحمد اشرف ملک ولد خالق ملک کے طو ر ہوئی ہے اور پولیس اسٹیشن بیروہ کے حدودمیں گرفتار ہوئے افراد کی شناخت عبد المجید ڈار ولد محمد سلطان ڈار، فاروق احمد ڈار ولد غلام قادر ڈار، عبد المجید شیخ ولد غلام قادر شیخ اورعبد الرشید وانی ولد غلام محمدوانی کے طو ر ہوئی ہے۔ پولیس اسٹیشن خانصاب اور پولیس اسٹیشن بیروہ نے اس سلسلے میںکیس زیر ایف آئی آر نمبر61/2021 اور 53/2021 متعلقہ دفعات کے تحت درج کیاہے ۔
سیاحتی شعبے کے افراد کی ٹیکہ کاری کیلئے اقدام کئے جائیں:ناظم سیاحت
سرینگر//ناظم سیاحت کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے یہاں تمام ٹوراِزم ڈیولپمنٹ اَتھارٹیوں اور ریزاٹ اَفسران کے چیف ایگزیکٹیو آفیسروں کے ساتھ میراتھن میٹنگ طلب کی اور سیاحت کے شراکت داروں اور کووِڈ تخفیف کی کوششوں میں مختلف سیاحتی مقامات پرٹیکے لگانے کی رفتار کا جائزہ لیا ۔میٹنگ کے دوران ناظم سیاحت نے تمام سی ای اوز پر زور دیا کہ وہ ایک شیڈول وضع کرے اور تمام اَفراد اور فرنٹ لائن ورکروںکو ان کی منزل مقصود پر ٹیکہ لگانے کیلئے لائن لسٹنگ تیار کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ کووِڈ۔ 19 وبائی بیماری کے پس منظر میں مقامی مہمان نوازی کے شعبے کے ممبروں کے لئے اُبھرتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے صلاحیت سازی کے ورکشاپوں کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس کے لئے اُنہوں نے ورکشاپ کے بارے میں ان سے آراء اورتجاویز طلب کیں۔ڈاکٹر اِیتو نے سیاحتی مقامات پرحکومت کی طرف سے جاری کردہ کووِڈ پروٹوکول کی پابندی کے لئے سخت ہدایات دیں۔ناظم سیاحت نے سی ای اوزسے کہاکہ وہ اپنی اپنی منزل مقصود پر سہولیات اور خدمات کی مشق کے لئے کم آمدورفت کے موجودہ مرحلے کو بروئے کار لائیں۔ اُنہوں نے ان سے سیاحوں کے ہر مقام پر سیاحت کے اثاثوں اور اَفرادی قوت کی نقشہ سازی کی مشق کرنے کو کہا۔ سی ای اوز اور ریزاٹ افسران نے ان سیاحتی مقامات پر ان اثاثوں کی نگرانی اور وارڈ کے حوالے سے اپنی تشویش کا اِظہار کیا۔میٹنگ میں سیاحتی مقامات پر یکساں طریقہ کار اَپنانے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔ آؤٹ سورس اثاثوں کی دیکھ ریکھ کو جانچنے کے لئے ٹیمیں تشکیل دینے کا بھی فیصلہ لیا گیا اور ان مقامات پر پونی والا کی تعداد اور شرحوں کو بھی باقاعدہ بنایا جائے۔میٹنگ میں جوائنٹ ڈائریکٹر سیاحت تبسم شفاعت کاملی، مختلف سیاحتی ترقیاتی حکام کے سی ای اوز ، ڈپٹی ڈائریکٹروں ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیاحت ، گلمرگ اور پہلگام ریزاٹ افسران اور دیگر افسرانے شرکت کی۔
اسپتالوں میں اکسیجن کی کمی ، عمران انصاری فکرمند
سرینگر//سابق وزیراورپیپلزکانفرنس کے سینئررہنما عمران انصاری نے جموں کشمیرمیں کووِڈ- 19کی دوسری لہر کے نتیجے میں صحت عامہ کے شعبے کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے لیفٹینٹ گورنر انتظامیہ پرزوردیا کہ وہ جموں کشمیرمیں کورونا کی دوسری لہر کے بھیانک رُخ اختیار کرنے سے قبل ہی اقدامات کریں تاکہ لوگوں کی جانوں کو بچایا جائے۔انہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ حالات کی نزاکت کوسمجھ کراحتیاطی تدابیراختیار کریں ۔انہوں نے اکسیجن اور کووِڈ مخالف ٹیکوں کی کمی پربھی فکر مندی کااظہار کیا اور کہا کہ اگر اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے اقدام نہیں کئے جاتے تو اس سے تباہی مچ جائے گی۔