مزید خبریں

جموں صوبہ میںکورونا کے صرف14نئے معاملات

مزید29شفایاب،129افراد ہنوز انفیکشن میں مبتلا

نیوز ڈیسک
جموں//حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ جموں میں کورونا وائرس کے صرف14نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جبکہ29افرادشفایاب بھی ہوئے ہیں ۔اس دوران صوبہ میں اس وقت بھی 129 افراد اس مرض سے جوجھ رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ضلع وار کووِڈمثبت معاملات کی رِپورٹ فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع جموں میں13اورضلع رام بن01نئے معاملات سامنے آئے ہیں ۔ادھم پور ،راجوری ،ڈوڈہ ،کٹھوعہ ،سانبہ ،کشتواڑ، پونچھ اور رِیاسی اضلاع سے کسی مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں آئی ہے۔بلیٹن کے مطابق صوبہ جموں میں کورونا کی تین لہروں میں مجموعی طور2,326اموات ہوئی ہیں۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 2,36,94,944ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  10؍مارچ 2022کی شام تک2,32,41,562نمونوں کی رِپورٹ منفی اور 4,53,382 نمونوں کی رِپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔علاوہ ازیں اَب تک61,84,675افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ اِن میں32,754اَفراد کو گھریلو قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔293فراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ4,56,876اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطابق56,90,003اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔کووڈ ٹیکہ کاری کے بارے میں بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 16,867کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں جس سے ٹیکوں کی مجموعی تعداد 2,16,48,925تک پہنچ گئی ہے ۔اِس کے علاوہ جموں و کشمیر میںزائد اَز 18 برس عمر کی صد فیصد آبادی کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔
 

 جسمانی طور نا خیز افراد کا جموں میں غیرمعینہ احتجاجی دھرنا شروع 

۔12مارچ کو راج بھون گھیرائو کی کال ، کچھ نہ بنا تو جنتر منتر نئی دلی مارچ ہوگا:صدر 

جموں // مطالبات کو منوانے کیلئے جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن نے جموں میں بخشی نگر پلی نزدیک پاون آیس کریم کے غیر معینہ عرصہ کیلئے دھرنا شروع کیا ہے جس دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے مطالبات حل کئے جائیں۔ ادھر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرشید بٹ نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات حل ہونے تک جموں کے بخشی نگر پلی پر دھرنا جاری رہے گا تب تک جب تک سرکار ہمارے مسئلے حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہو جائے گا ۔جسمانی طور نا خیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈ ی کپیڈ ایسوسی ایشن نے مطالبات منوانے کیلئے جموں کے بخشی نگر پلی پر جمعرات کو زور دار احتجاج کیا۔ احتجاج میں شامل افراد نے جموں کشمیر و مرکزی سرکار کے خلاف نعرہ بازی کی اور الزام عائد کیا کہ سالوں سے ان کے مطالبات پڑے ہوئے ہیں اور انہیں حل کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں دی جا رہی ہے۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے کہا کہ جموں کشمیر اور مرکزی سرکار کی جانب سے جسمانی طور ناخیز افراد کے مسائل و مطالبات کو حل کرانے میں کوئی بھی سنجیدگی نہیں دکھا ئی جا رہی ہے جبکہ بار بار احتجاجی مظاہرو ں کے بعد انہیں صرف جھوٹی یقینی دہانی دی جا رہی ہے اور زمینی سطح پر ان کے مطالبات کو حل کرنے کیلئے کوئی بھی قدم اٹھایا نہیں جا رہا ہے۔ بٹ نے کہا کہ ہمیں با ربار جموں کشمیر کی لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے یہ یقین دہانی کرائی کہ جسمانی طور نا خیز افراد کے جتنے بھی مسائل و مطالبات ہونگے ان کو حل کیا جائے لیکن آج تک کچھ بھی نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں ہم ایک بار پھر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ اب جب تک ہمارے مطالبات کو حل نہیں کیا جائے گا تب تک ہم بخشی نگر پلی نزدیک پون آئیس کریم میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھے رہے گے۔ انہوں نے بتایا کہ 12 مارچ تک انتظامیہ نے کوئی دلچسپی نہیں دیکھائی تو ہم راج بھون جاکر دھرنا دے گے اگر پھر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی تب دبارہ سول سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دے گے اگر اس سے بھی کچھ نہیں ہوا تو پھر صوبائی کمشنر اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ دفتر کے کے سامنے دھرنا دینے کے بعد دہلی کے جنتر منتر پر جائے گے اگر پھر کوئی دھیان نہیں دیا گیا تو آخر پر پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے گے تو اگر پھر مسلہ حل نہیں کیا جائے گا تو ہم ہمارے جسمانی طور معذور افراد پارلیمنٹ کے سامنے خود سوزی کریں جس کی تمام تر زمداری لیفٹیننٹ گورنر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور مرکزی حکومت پر عائد ہوں گی ۔ 
 

شمالی کمان سربراہ کا دورہ لائن آف کنٹرول 

کہا جموںکشمیر میں فوج داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کی اہل 

جموں//فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اپیندر دویدی نے راجوری اور پونچھ سیکٹروں میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایس آف سپیڈس ڈویژن کا دورہ کیا۔اس موقعے پر انہیںدراندازی کو روکنے کیلئے اُٹھائے گئے حفاظتی اقدامات کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ۔ اس موقعے پر انہوںنے بتایاکہ جموںکشمیر میںفوج کسی بھی خارجی اور داخلہ چلینج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل اپیندر دویدی نے راجوری، بھمبر گلی اور پونچھ سیکٹروں کے مختلف آگے والے علاقوں کا دورہ کیا۔آرمی کمانڈر کو فیلڈ کمانڈرز نے لائن آف کنٹرول پر سیکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے میں چیلنجنگ خطوں اور موسمی حالات کے باوجود دفاعی ڈھانچے کی ترقی اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق شمالی فوج کے کمانڈر نے راجوری اور پونچھ سیکٹرز میں لائن آف کنٹرول کے اپنے دورہ کے دوران وہاں تعینات فوجی اہلکاروں کے ساتھ بات کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ آرمی کمانڈر نے تمام رینکس کو ان کی لگن کی تعریف کی اور مقامی آبادی کی مدد کے ساتھ ساتھ امن و استحکام کے حصول میں ان کی انتھک کوششوں پر فوجیوں کی تعریف کی۔اس موقعے پر دویدی نے بتایاکہ جموں کشمیر میں فوج خارجی اور داخلہ چلینجوں سے بخوبی نپٹ لینے کی اہل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جموں کشمیر میں جنگجوئوں مخالف آپریشن کے دوران فوج انسانی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنارہی ہے جبکہ فوج سرحدوں پر ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے داخلہ خطرات سے نپٹ رہی ہے ۔
 
 
 

پینتھرس پارٹی ادھم پوردھماکہ ہلاکت پر مغموم

جموں// ینتھرس پارٹی کے پروفیسر بھیم سنگھ نے ادھم پور دھماکہ میں جگانو گاؤں کے ایک نوجوان جوگل کی اچانک موت پر تعزیت کا اظہار کیا، جو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے شہر آیا ہوگا اور اچانک ایک دھماکے میں مارا گیا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر سمیت سینئر حکام نے جموں و کشمیر میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت پر تعزیت کرتے ہیں، لیکن 'جوگل' کے لیے ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔