مزید خبریں

پونچھ کی شاہپور اپرپنچایت میں بینکرکی تعمیرنا مکمل

ڈھانچوں کی تعمیر میں خرد برد کا الزام ،تحقیقات کا مطالبہ 

حسین محتشم
پ±ونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ شاہپور اپر میں حد متارکہ پر بنائے جا رہے اکثر بنکروں کی تعمیرات نا مکمل رکھے جانے پر مقامی لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں نے الزام لگایاکہ ڈھانچوں کی تعمیر میں بھاری پیمانے پر خرد برد کر کے سرکاری رقومات کا غلط استعمال کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی مکینوں کو فائرنگ کے دوران محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کی غرض سے مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے سینکڑوں بنکر منظور کئے گئے ہیں لیکن اِن کی تعمیر کے لئے جاری رہنما خطوط کی دھجیاں ا±ڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنکروں کی تعمیر اگر چہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی ہے اس کے باوجود پونچھ ضلع کے شاہپور اپر میں تعمیری رفتار بھی انتہائی سست ہے۔ شاپور کے مقامی لوگوں کے مطابق شاہ پور اپر میں ایک بنکرجو کہ کاغذوں میں مکمل دکھایاگیاہے وہ ابھی تک ادھورا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بنکرمحکمہ تعمیرات عامہِ کے زیر انتظام ایک ٹھیکیدار نے بنانا شروع کیا اور پھر ادھورا ہی چھوڑ دیا ۔لوگوں نے کہا کہ اگر محکمہ تعمیرات عامہ نے ٹھیکیدار کو بنکرالاٹ کیا ہے، ٹینڈرنگ بھی ہوئی تو پھر مکمل کیوں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا شاہپور اپر میں تعمیر بنکرایک تو نامکمل ہے دوسرا تعمیر میں غیر معیاری میٹریل کا استعمال کیاگیا مگر کاغذی خانہ پوری کرکے ٹھیکیدار نے پے منٹ نکلوا لیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ دوسرے جگہوں پر بھی بنکروں کی یہی حالت ہے، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی انہوں نے کئی بنکروںکی تعمیر میں ہورہی دھاندلیوں کے خلاف آواز ا±ٹھائی ہے لیکن ضلع انتظامیہ پونچھ کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں خصوصی ٹیم روانہ کر کے بنکروں کے تیار ڈھانچوں کا جائزہ لیاجائے اور خرد برد کی جانچ کر کے قصور واروں کےخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
 
 

اومیکرون: راجوری میں حکام پیشگی انتظامات کےلئے کمر بستہ

غیر ملکی مسافروں کےلئے ایس او پی پر عمل جاری ،آئی سی یو تیار :سی ایم او 

سمت بھارگو 
راجوری//کورونا وائرس کی ایک نئی قسم اومیکرون کے بڑھتے ہوئے خطرے کودیکھتے ہوئے راجوری میں محکمہ صحت اور سیول انتظامیہ نے کمر کس لی ہے ۔حالانکہ راجوری ضلع میں کووڈ مثبت کیسوں کی تعداد 16ہے اور صحت یابی کی شرح بھی کافی بہتر ہے اورگزشتہ کئی دنوں سے روزانہ نئے کیسز کی تعداد تین سے پانچ کے درمیان ہے۔عہدیداروں نے کہا کہ اعلیٰ حکام کی ہدایات کے بعدضلع میں اومکرون کے کیس رپورٹ ہونے کی صورت میں صورتحال کی تیاری کر رہے ہیں۔چیف میڈیکل آفیسر راجوری ڈاکٹر شمیم بھٹی نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے اومیکرون کیسوں سے نمٹنے کےلئے معیاری ایس او پیز جاری کئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ تمام غیر ملکی مسافروں کی ہوائی اڈوں اور دیگر سرکاری اداروں پر مناسب طریقے سے اسکریننگ کی جاتی ہے لیکن پھر بھی انتظامیہ کے جاری کردہ حکم نامے پر مکمل عمل کیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی مسافروں کے ضلع پہنچنے کے فوراً بعد اسے ایک ہفتہ ہوم آئسولیشن میں رکھا جائے گا جس کے بعد نمونے لئے جائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ اگر کسی بھی شخص میں اومیکرون وائرس پایا جاتا ہے تو اس کو علیحدہ رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے ۔گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمود ایچ بجاڑ نے بتایا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی صورت میں ہسپتال میں آکسیجن کی مناسب سہولیات دستیاب ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں تین آکسیجن پلانٹس سے آکسیجن کی پیداوار 4250 لیٹر فی منٹ ہے جبکہ ان کے پاس آکسیجن سلنڈروں کی بھی مناسب تعداد ہے جو اس وقت 600 سے 700 کے درمیان اسٹاک میں ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 20 بستروں پر مشتمل کورونا مخصوص انتہائی نگہداشت یونٹ تیار ہے جبکہ ہسپتال میں مختلف شعبہ جات میں 24 بستروں والے جنرل انتہائی نگہداشت کے یونٹ بھی ہیں۔آفیسر موصوف نے بتایا کہ عملہ کورونا کیسز سے نمٹنے کےلئے اچھی طرح سے تربیت یافتہ ہے۔انہوں نے مزید تصدیق کی کہ کورونا وائرس کے نمونوں کی جینوم سیکوینسنگ جو کسی مریض میں اومیکرون ویرینٹ کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے ابھی تک ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے اور ہمیں جینوم کی ترتیب کےلئے نمونے اعلیٰ سہولت کو بھیجنے ہوں گے۔
 
 
 

کمیونٹی ہیلتھ سنٹرکنڈی کی بجلی سپلائی متاثر

بنیادی سہولیت نہ ہونے سے صحت خدمات متاثر 

سمت بھارگو 
راجوری //کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کنڈی میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو فراہم کی جارہی طبی خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔جمعہ کی شام سے ہی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کو بجلی سپلائی فراہم کرنے والے ٹرانسفارمر میں آئی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہسپتال کی سپلائی ہی متاثر ہوگئی ہے لیکن ابھی تک مذکورہ مشینری کی مرمت کی ہی نہیں گئی ۔محکمہ صحت کی جانب سے اس معاملہ کو متعلقہ شعبہ اور سیول انتظامیہ کےساتھ اٹھایا گیا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ٹرانسفارمر میں آئی خرابی کی وجہ سے کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کی بجلی سپلائی بھی متاثر ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں بجلی کی مددسے کام کرنے والی کئی مشینیں بند پڑی ہوئی ہیں جبکہ مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی ویکسین جیسی اہم ویکسین کا اسٹاک ہسپتال میں موجود ہے اور اس کےلئے مطلوبہ درجہ حرارت برقرار رکھنے کےلئے ویکسین کو کسی متبادل جگہ منتقل کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ کو سیول انتظامیہ کےساتھ ساتھ متعلقہ محکمہ کےساتھ اٹھایا گیا ہے تاکہ سپلائی کو بحال کیا جاسکے ۔
 
 
   

۔590گرام چرس سمیت 2سمگلر گرفتار 

راجوری //جموں وکشمیر پولیس نے راجوری ضلع میں منشیات مخالف اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے دو منشیات سمگلروں کو 590گرام چرس سمیت گرفتار کرلیا ۔پولیس نے بتایا کہ ایس ایچ او راجوری سمیر جیلانی کی زیر نگرانی پولیس سٹیشن راجوری اور پولیس پوسٹ چنگس کی ایک ٹیم نے کوٹ دھڑہ پل پر ایک ناکہ لگا کر گاڑیوں کی تلاشی کا عمل شروع کیا تاہم اس دوران پل کی جانب آنے والے دو افراد نے پولیس کو دیکھ کر مشکوک حالت میں فرار ہونے کی کوشش کی تاہم مستعد پولیس اہلکاروں کی بر وقت کارروائی کی وجہ سے ان دنوں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ دنوں کی تلاشی کے دوران ان کے قبضہ سے چرس نما منشیات برآمد کرلی گئی ۔منشیات سمگلروں کی شناخت ابراد احمد ولد محمد افضل سکنہ کوٹ دھڑہ اور محمد قاسم ولد عبدالقدید سکنہ کوٹ دھڑہ کے طورپر ہوئی ہے ۔اس سلسلہ میں پولیس نے ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر 721/21درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔
 
 

بجلی کا شارٹ سرکٹ 

۔2دکانیں جل کر راکھ ہو گئی 

جاوید اقبال 
مینڈھر //مینڈھر قصبہ میں آگ کی ایک وار دات کی وجہ سے دو دکانیں جل کر راکھ ہوگئی ۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز شام کے وقت بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دو دکانیں مکمل جل کر راکھ ہوگئی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ خاکستر ہونے والی دکانوں میں ایک جوتوں اور ایک ریڈی میڈ ساز و سامان کی دکان شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ آگ اس قدر شدید تھی کہ دونوں دکانیں کچھ ہی مدت میں جل کر راکھ ہوگئی ۔فائر اینڈ ایمر جنسی سروس اور پولیس کی ایک ٹیم مکینوں کے ہمراہ موقعہ پر پہنچی تاہم گور نمنٹ گرلز ہائر سکینڈری سکول کے سامنے دونوں دکانیں جل گئی تاہم مزید نقصان کو بچا لیا گیا ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ نقصان کا تخمینہ لگا کر متاثر ین کو معاوضہ دیا جائے ۔
 
 
 
 

 کووڈ کے سبب سکول بند ،والدین نے پونچھ میں زبردست احتجاج کیا

بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے کےلئے تعلیمی اداروں کے تالے جلد کھولنے کی مانگ 

حسین محتشم
پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ کے صدر مقام پر سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کی جانب سے ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اس دوران سینکڑوں زن و مرد پر مشتمل ایک جلوس چیف ایجوکیشن افسر پونچھ کے دفتر پہنچا جہاں انھوں نے سکولوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ۔ والدین کا کہا تھا کہ اگر تمام ادارے کھلے ہیں تو سکولوں کو ہی کیوںبند رکھا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے وہ اس بات کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔انھوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا ایک سازش کے تحت بچوں کو ایک طویل عرصے سے سکولوں سے دور رکھا جارہاہے۔احتجاجی مظاہرے میں شامل اکثر والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سنیما ہال،شراب کھانے، دکانیں، پارکیں، تجارت، یہاں تک کہ لاکھوں افراد پر مشتمل سیاسی ریلیاں اور جلسوں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے ، مختلف ریاستوں میں الیکشن ہورہے ہیں صرف اسکولوں کو ہی کیوں بند رکھا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ کورونا کے سبب تعلیمی اداروں پر پڑے تالوں کی وجہ سے ان کے بچوں کا نہ صرف تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ نفسیات پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔والدین کا کہنا تھا کہ کورونا پروٹوکال اور احتیاطی تدابیر کے ساتھاگر اسکول کھولے جائیں گے تو بچوں کی مزید تعلیمی نقصان نہ ہو گا۔احتجاج میں شامل شاہین اختر نامی ایک خاتون نے کہا کہ ان کا یہ ماننا ہے کہ اسکول ضرور کھولنا چاہئے، کیوں کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، اس کی تلافی کرنا آسان نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اسکول کی تعلیم کو روکنے کے نقصانات زیادہ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام طرح کی ترقیاتی سرگرمیاں تعلیم سے جڑی ہوئی ہیں۔زیب النساءنامی ایک اور خاتون نے کہا کہ ظاہری طور پر تو کرونا سے بہت سے نقصانات ہوئے ہیں، مگر سب سے بڑا نقصان اسکول نہ کھولنے کی وجہ سے ہوا ہے۔انھوںنے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسکول کھول کر بچوں کوتعلیم دی جانی چاہئے۔انھوں نے کہا لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور انتظامیہ اس سے بے خبر ہے ۔انھوں نے کہا کہ اسکول بند ہونے سے لاکھوں بچوں کا مستقبل خراب ہوا، اس کی وجہ سے لاکھوں ملازمین جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کام کرتے ہیں بے روزگاری کے شکار ہیں،کرایہ پر چلنے والے اکثر تعلیمی ادارے بند ہونے سے اسکول مالکان قرض میں ڈوب چکے ہیں۔احتجاج میں شامل تمام لوگوں نے کہا وہ اس کے حق میں ہیں کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکول کھولے جائیں اور کورونا سے پہلے جس طرح سے تعلیم دی جاتی 
تھی،اسی طرح سے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ ذہنی اور جسمانی دونوں اعتبار سے بچے، جو قوم اور ملک کے مستقبل ہیں، وہ تیار ہوسکیں۔
 
 

پی ڈی پی نے مینڈھر کےلئے اپنے عہدےداروں کا اعلان کیا 

جاوید اقبال 
مینڈھر //پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے تنظیم کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے کےلئے مینڈھر کے اپنے پارٹی عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کیا ۔پارٹی کی صوبائی اکائی کی جانب سے جاری کردہ ایک ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع اکائی کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات کی بنیاد پر مینڈھر سے راجہ وسیم خان کو پارٹی کے یوتھ وینگ کا زونل صدر منتخب کرلیا گیا ہے جبکہ ان کےساتھ ساتھ حاجی محمد حسین کو پارٹی کے ایس ٹی سیل کا صدر ،چوہدری نصیر احمد جٹ کو زونل نائب صدر مینڈھر اور سعید صفیر حسین شاہ کو زونل جنرل سیکریٹری مینڈھر منتخب کیا گیا ہے ۔منتخب نمائندوں نے پارٹی اعلیٰ کمان کےساتھ ساتھ پی ڈی پی ضلع صدر پونچھ اور پارٹی سنیئر لیڈر ایڈوکیٹ ندیم خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وہ پارٹی کی امیدوں پر پورا اترنے کی پوری کوشش کریں گے ۔
 
 
 

پونچھ میں’ کمپیوٹر خواندگی‘ دن منایا گیا 

پونچھ //سرحدی ضلع پونچھ کے گور نمنٹ مڈل سکول سیکلو میں ’کمپیوٹر کی خواندگی ‘کا دن منایا گیا ۔اس سلسلہ میں سرکاری سکول میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں سکول کے بچوں کےساتھ ساتھ سٹاف ممبران و فوجی آفیسران نے بھی شرکت کی ۔اس بیداری پروگرام میں سرکاری سکول کے بچوں کو کمپیوٹر اور جدید ایجادات کے سلسلہ میں جانکاری فراہم کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ موجود دور میں کمپیوٹر انسان کا بہتر دوست و مدد گار ہے تاہم اس کو اگر مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو انسان دنوں کا کام منٹوں میں کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس جدید دور میں نوجوانوں بالخصوص طلباءکےلئے عام تعلیم کےساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیمات بھی انتہائی اہم ہیں ۔