مزید خبریں

۔110 کلومیٹر کٹرہ بانہال ریلوے لائن کی بنکوٹ ٹنلوں کو ملایا گیا |  ایک اور سنگ میل عبور،آئندہ 2برسوں میں کشمیر ریل پروجیکٹ مکمل ہونے کی راہ ہموار

محمد تسکین  
بانہال//کشمیر ریل پروجیکٹ کا ایک اہم سنگ میل اتوار کو طے کرلیا گیا جب  110کلو میٹر کٹرہ اور بانہال ریلوے لائن میں شامل بنکوٹ میں قریب دو کلومیٹر لمبے ٹنل نمبر 77 اے اور ڈی کو آپس میں ملایا گیا۔اس ٹنل کے آر پار ہونے سے بانہال اور کھڑی کے درمیان ریلوے ٹنلوں کی کھدائی کا بیشتر کام مکمل ہوگیا ہے اور ریلوے حکام کو امید ہے کہ کٹرہ ۔ بانہال سیکٹر آئندہ 2برسوں میں مکمل ہوگا  اور 2023 میں کشمیر کو ہندوستانی ریلوے سے جوڑا جائیگا ۔ بانہال اور کھڑی کے درمیانی  حصے میں نئی سروے اور کچھ تبدیلیوں کے بعد 3 سو کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جارہے ٹنل نمبر 77  کو آر پار کیا گیا۔اس موقعہ پر ایک تقریب منعقد ہوئی جس میںIRCON انٹرنیشنل کے انجینئر ، بی سی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر عمران بیگ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بن ہربنس شرما موجود تھے۔  بانہال کے بنکوٹ علاقے میں ٹنل نمبر 77 دو حصوں میں بٹی ہے، اس کا ایک حصہ ABCI نامی کمپنی جبکہ باقی کام بیگ کنسٹرکشن کمپنی یا BCC کو سونپا گیا تھا ۔ تعمیراتی کمپنی کی طرف سے ٹنل کی کھدائی میں پہلی بار روڈ ہیڈر مشین کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔، جس کے باعث بلاسٹنگ کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ بریک تھرو تقریب کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بن ہربنس شرما نے  بتایا کہٹنلوں کے عالمی دن کے موقعہ پر بانہال اور کھڑی کے درمیان ہندوستانی ریلوے نے چیلنج سے بھرے ایک اور سنگ میل کو عبور کیا ہے اور آئندہ دو برسوںمیں کشمیر سے کنیا کماری تک ریل کے ذریعے سفر کو ممکن بنائے جانے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی ضلع رام بن سے گذرنے والی 53 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن کا 96 فیصد حصہ زیر زمین ٹنلوں پر مشتمل ہے اور اس کیلئے زائد از 11 ہزار کنال کی اراضی حاصل کر کے ریلوے کو سونپی گئی ہے ۔منیجنگ ڈائریکٹر بیگ کنسٹریکشن کمپنی عمران بیگ نے کہا کہ ریلوے پروجیکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ان کی کمپنی ریلوے ٹنل کی کھدائی کیلئے  روڈ ہیڈر road header مشین کا استعمال کر رہی ہے اور اس مشین کی مدد سے رہائشی بستیوں کو نقصان پہنچانے والی بلاسٹنگ کی ضرورت نہیں پڑتی ہے اور بنکوٹ گائوں کے نیچے سے زیر زمین ٹنل کی کھدائی اس مشین کی مدد سے ہی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ٹنل نمبر 77 کا بقایا کام مکمل کرنے کیلئے ارکان انٹرنیشنل نے دسمبر 2022 کی ڈیڈ لائن دی ہے اور بی سی سی اسے مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹنل میں 150 ورکر کام کرتے ہیں جن میں سے بیشتر مقامی ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر ریل پروجیکٹ پر کٹرہ اور بانہال کے درمیان 110 کلومیٹر کے آخری پڑا ئوپر کام جاری ہے اور اس سیکٹر کو آئندہ دو برسوں میں مکمل کرکے وادی کشمیر کو براہ راست ہندوستانی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑے جانے کی امید ہے،  جس سے ضلع ریاسی اور ضلع رام بن کے گول، سنگلدان ، سمبڑ اور کھڑی کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کیلئے ریل رابطہ ٹرانسپورٹ کا ایک اہم ذریعہ بن جائیگا ۔ 
 
 
 
 
 
 

 این آئی اے کی ایک اور چارج شیٹ داخل | پونچھ کے نوجوان پر اسلحہ پہنچانے کا الزام

نیوز ڈیسک
جموں //قومی تحقیقاتی ایجنسی( این آئی اے) نے تحریک المجاہدین کے ایک کارکن کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کیا۔این آئی اے نے اسلحہ اور گولہ بارود کی بازیابی سے متعلق محمد نقیم خان ولد محمد مشتاق ساکن سندوٹے، ضلع پونچھ کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کیا۔ان پر الزام ہے کہ اسکی قبضے سے اسلحہ، دھماکہ خیز مواد، ہیروئن بر آمد کیا گیا جو ملی ٹینٹ تنظیم تحریک المجاہدین  کیلئے استعمال کیا جارہا تھا۔این آئی اے نے مارچ میں کیس درج کیا تھا۔ تحقیقات میں ملزم محمد نقیم کے ساتھ دیگر چارج شیٹ والیملزمین اور انکے ہینڈلرز کے ساتھ رچی گئی سازش کا پردہ فاش کیا گیا جو سرحد پار سے آپریٹ کر رہے تھے اور لائن آف کنٹرول سے اسلحہ اور گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور منشیات کی نقل و حمل میںبالاکوٹ، پونچھ کے اندرونی علاقوں تک سہولت فراہم کرتے تھے۔ اس سے قبل NIA نے 07 ملزمین کے خلاف 24.06.2021 کو اور دو دیگر کے خلاف 04.10.2021 کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔5 کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔
 
 

 شیخ محمدعبداللہ کی سالگرہ کی تقریب

کسانوں کی طرز پر قربانیاں دینا ہونگی، لوگ تیار رہیں

جموں و کشمیر میں امن اور آزادی کے دعوے زمینی صورتحال کے برعکس: ڈاکٹر فاروق

نیوز ڈیسک
 سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کسانوں نے 11ماہ تک اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اس دوران 700سے زیادہ کی جانوں کا اتلاف ہوااور بالآخر متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لیا گیا، ہمیںبھی حقوق کی بحالی کیلئے ایسی ہی قربانیاں دینا پڑیں گی، لہٰذا لوگ تیار رہیں۔ شیخ محمد عبداللہ کی سالگرہ کے موقعے پر یوتھ نیشنل کانفرنس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جس طرح  مرکز نے 3 متنازعہ زرعی قوانین واپس لئے ویسے ہی انہیں جموں وکشمیر کے متعلق لئے گئے فیصلوں کی طرف بھی دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کبھی خونریزی کی حامی نہیں رہی ہے بلکہ عوام کے حقوق کی بحالی ہماری منزل ہے اور ہم اُسی جانب گامزن ہیں اور صحیح سمت میں جارہے ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’ ایسا کہا جارہا ہے کہ پتہ نہیں کب ہمارے حقوق واپس ملیں گے، لیکن اس کیلئے آپسی اتحاد و اتفاق کی بے حد ضرورت ہے‘‘۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے متعلق ملک کو نئی دلیلیں سنائی جارہی ہیں، دلی میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا کہ یہاں امن ہے اور ٹورازم بڑھ گیا ہے۔’’ کیا ٹورازم ہی سب کچھ ہے‘‘، آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ یہاںکے نوجوانوں کو 50ہزار سے زیادہ نوکریاں ملیںگی، لیکن پنجا ب اور ہریانہ کے اُمیدواروں کو یہاں کے بینکوںمیں ملازمتیں دیں اور یہاں کے ملازمین کو برخاست کرکے جبری طور پر ان کا روزگار چھین رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہا ں کے حالات کا اندازہ اخبار اور میڈیا پر دبائو سے ہی پتہ چلتا ہے، اگر کوئی زمینی صورتحال کی ذرا سی بھی حقیقی تصور پیش کرتا ہے تو اُسے سیدھے تھانے بلایا جاتاہے اور نئی دلی سے اس بات کے دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہاں امن اور آزادی ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جس طرح حیدر پورہ انکائونٹر میں مارے گئے بے گناہوں کی لاشوں کے مطالبے کیلئے لوگوں نے آواز اُٹھائی اور سب نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا اور حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ، ہمیں ایسے ہی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، ابھی بھی ایک نوجوانوں کی لاش واپسی نہیں دی جارہی ہے اور ہم اس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ گول کے اس بچے کی لاش واپس اُس کے والدین کے سپرد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس خون ناحق کا جواب دینا پڑے گا، کوئی نہیں بچے گا سب کو جواب دینا ہوگا۔ 
 
 

 جموں صوبہ میں بھی تقریبات کا انعقاد،شاندار خراج عقیدت پیش

اشتیاق ملک +زاہد بشیر
 جموں// شیخ محمد عبداللہ کو ان کی 116 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے صوبائی صدر رتن لال گپتا نے اتوار کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کی یکجہتی کو برقرار رکھنا ہی ہوگا۔ بصیرت والے رہنما کو ایک مناسب خراج تحسین ہوگا جنہوںنے اپنی ساری زندگی عوام کی فلاح و بہبود اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کی۔شیر کشمیر بھون میں منعقد ایک خراج عقیدت تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رتن لال گپتا نے وقت کی آزمائشی اتحاد کو مضبوط بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی اہم ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرے گا جب اس کی بنیادیں غیر معمولی خیالات پر رکھی جائیں گی۔انہوںنے کہا"سیکولر بندھن وہ جذبہ ہے جس نے نیشنل کانفرنس کی رہنمائی کی ہے"۔ گپتا نے ہندو، مسلم، سکھ اتحاد کے پرجوش نعرے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے انتہائی ہنگامہ خیز دور میںیہ نعرہ بلند کیا تھا۔ گپتا نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ کی وراثت کا اعلیٰ نکتہ مختلف عقائد اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان جامعیت، سکون اور ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقی پسند، سیکولر اور پرامن جموں و کشمیر کی تعمیر کے لیے اس وراثت کو آگے بڑھانے کی بے حد ضرورت ہے، جسے تقسیم کرنے والے عناصر کی طرف سے لاتعداد چیلنجز کا سامنا ہے۔سابق وزیر اور سینئر لیڈر اجے کمار سدھوترہ نے کہا کہ سیکولر اخلاق کو برقرار رکھنا شیخ محمد عبداللہ کو بہترین اور مناسب خراج عقیدت ہے، جو برصغیر میں اپنے دور کے سب سے بڑے لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ سدھوترہ نے ایک ایسے وقت میں جب پورا برصغیر فرقہ وارانہ جنون میں مبتلا تھا دوستی اور علاقائی اتحاد کو مضبوط بنانے میں شیخ عبداللہ کے شاندار کردار کو یاد کیااورہم اس وراثت کے قابل فخر وارث ہیں۔انہوں نے تاریخی اور اہم لینڈ ریفارمز ایکٹ کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ اس نے کسانوں کو راتوں رات اپنی قسمت کا مالک بنا کر بااختیار بنایا۔اجے سدھوترہ نے کہا کہ شیخ محمدعبداللہ کے ترقی پسند نقطہ نظر اور وژن نے جموں و کشمیر کو ایک متحرک ریاست کے طور پر تبدیل کر دیا ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگوں کو ترقی اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہیں۔مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شیخ بشیر احمد صوبائی سیکرٹری جموں صوبہ نے آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ان کی قربانیوں اور لوگوں کو خاص طور پر کمزور اور پسے ہوئے طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔ قبل ازیں سینئر رہنمائوں مشتاق احمد شاہ بخاری، برج موہن شرما، بابو رام پال، شریف الدین شرق، قاضی جلال الدین، جگل مہاجن، ڈاکٹر چمن لال بھگت، اعجاز جان،بھوشن لال بھٹ، دیپندر کور، پردیپ بالی، وجے سمیت کئی لیڈروں نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔تقریب کا آغاز قرآن خوانی سے ہوا۔نیشنل کانفرنس شیخ محمد عبداللہ کے جنم دن پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے تاریخ ساز شخصیت قرار دیا ۔سابق وزیر و صوبائی نائب صدر خالد نجیب سہروردی نے اپنے ایک بیان میں شیخ محمد عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شخصی راج کے خلاف آواز بلند کرکے جموں و کشمیر کی عوام کی عوام کو انصاف و امن کی راہ دکھائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ عبد اللہ نے ظالم حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور لوگوں کو زندگی جینے کے حوصلہ و سلیقہ دیا۔ انہوں نے کہا ’’ شیر کشمیر نے ہندو مسلم سکھ اتحاد کا نعرہ دے کر جموں و کشمیر کی عوام کو زمینوں پر مالکانہ حقوق دئیے اور ایک جمہوری نظام قائم کیا‘‘۔ ادھر سابق وزیر و زونل صدر چناب ویلی سجاد احمد کچلو نے شیخ محمد عبداللہ کے 116ویں جنم دن پر یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی عوام کو جاگیردارانہ نظام سے آزادی دلا کر ایک سیکولر معاشرے کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ نے جہاں مساویانہ ترقی کی بنیاد ڈالی تھی وہیں تعلیم، صحت و طبی خدمات کو بھی اولین ترجیح دی تھی۔کچلو نے شیخ عبداللہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیکولر روایات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اخوت، امن و دوستی کے ساتھ علاقہ کی ترقی و خوشحالی کے لئے پر عزم جذبہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ اس دوران سابق ایم ایل سی محمد اقبال بٹ سمیت ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری، بھلیسہ میں بھی نیشنل کانفرنس کارکنوں نے شیخ محمد عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو یاد کیا۔گول میں بھی شیخ محمدعبداللہ کے یوم پیدائش پرڈاک بنگلہ میں ایک تقریب زیرصدارت ڈی ڈی سی چیئرپرسن ڈاکٹرشمشادہ شان منعقد ہوئی جس میں سب ڈویژن گول سے تعلق کھنے والے این سی کے زعمائوں نے بڑھ چڑھ کرشرکت کی۔ اس موقعہ پرمرحوم شیخ محمدعبداللہ کے حق میں ایصال وثواب کے لئے دعامغفرت کی گئی۔انہوں نے کہاکہ مرحوم عبداللہ نے جموں وکشمیرعوام کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا شیخ محمد عبداللہ نے بالخصوص غریب عوام اورزمینداروں کے لئے جوجدوجہدکی ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ ڈاکٹرشمشادہ شان نے کہاکہ ہمیں ہمیشہ مرحوم کے نقش قدم پرچلنا چاہئے تاکہ ہم غریب عوام کی فلاح وبہبودکے لئے کام کرسکیں۔تقریب کے دوران پارٹی کے نوجوان لیڈرمحبوب المختاربٹ نے شیخ محمدعبداللہ کی زندگی پرمفصل روشنی ڈالی۔گول کی معروف شخصیت وسابق ڈپٹی کمشنر غلام قادرمغل کی اہلیہ کی وفات پربھی غمزدگان کے ساتھ تعزیت کااظہارکیااورمرحوم کے لئے دعا مغفرت کی۔اس دوران  نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ضلع صدر رام بن حاجی سجاد شاہین نے پارٹی کے بانی شیخ محمد عبداللہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیے ۔شاہین پارٹی دفتر بانہال میں شیخ محمد عبداللہ کے 116ویں یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں پارٹی کے سرکردہ کارکنوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔شاہین نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ ریاست کے سب سے قد آور لیڈر تھے جنہوں نے ریاست کے عوام کو غربت کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے اپنی زندگی کا بڑا حصہ قربان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ کا زمین کسان کو سونپنے اور ریاست میں مفت تعلیم شروع کرنے کے انقلابی قدم کی ریاست کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔شاہین نے انہیں سب سے بڑے اصلاح پسند کے طور پر یاد کیا جو 'ہندو مسلم سکھ اتحاد' کے نعرے کے ساتھ زندہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں عوام کی بہتری کے لیے مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اسی طرح کی تقریب رام بن اور بٹوت میں بھی منعقد کی گئی اور پارٹی کے ضلع اور بلاک کے عہدیداروں نے شرکت کی۔
 
 
 

محکمہ مال کے2افسران سمیت6ملزمان کے خلاف چارج شیٹ درج 

ملزمان پر زمین کی تبدیلی، دھوکہ دہی ،مجرمانہ سازش رچنے کا الزام

 جموں// جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے سرکاری افسران سمیت چھ افراد کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے اور یہاں دو ایکڑ سے زیادہ اراضی کی تبدیلی کی تیاری میں ملوث ہونے کے الزام میں چارج شیٹ داخل کی ہے ۔جموں کرائم برانچ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ محکمہ مال کے 2 اہلکاروں اور ایک خاندان کے چار افراد کے خلاف چارج شیٹ ہفتہ کو عدالتی فیصلہ کے لیے خصوصی جج انسداد بدعنوانی کی عدالت میں دائر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ٹکو تہرا میں زمین کی تبدیلی زمین کے قانون کی خلاف ورزی اور شکایت کنندہ گردیپ سنگھ کے مفاد کے خلاف کی گئی، جو 1947 کے ایک پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے مہاجر کے بیٹے تھے۔2016 میں اپنی شکایت میں، سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ریاستی زمین ان کے والد جگت سنگھ کے حق میں الاٹ کی گئی تھی، جو اپنی زندگی کے دوران اس کی مسلسل کاشت اور قبضے میں رہے۔اس کی موت کے بعد، شکایت کنندہ نے کہا کہ وہ اور اس کا بھائی کاشت میں تھے اور کسی بھی شخص کے حق میں ملکیت کا کوئی حق نہیں دیا جاسکتا، بشمول الاٹی – چھجو رام عرف چھوٹو رام اور اس کے تین بیٹے شیرو، ہری اور پارس آف الورا۔ترجمان نے کہا کہ الزامات کی ابتدائی تصدیق کے دوران ابتدائی طور پر تصدیق کی گئی، جس کے نتیجے میں فوری طور پر باقاعدہ فوجداری مقدمہ کا اندراج کیا گیا۔تحقیقات کے دوران، مواد اور دیگر دستاویزی شواہد اکٹھے کیے گئے، جس سے ثابت ہوا کہ رام اور دیگر نے اس وقت کے ریونیو حکام کے ساتھ مل کر میوٹیشن تیار کرنے کے علاوہ ریونیو ریکارڈ میں زمین کے قانون کے خلاف اور خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط اندراجات کیے تھے۔ 
 
 
 
 

۔7   ویںجماعت کی متنازعہ کتاب

بورڈ کی جانب سے پابندی،پبلشر کو نصابی کتاب واپس لینے کی ہدایت

نیوز ڈیسک
سرینگر// بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے جموں و کشمیر اور لداخ کے زیر انتظام علاقوں کے تمام اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متنازعہ7ویں جماعت کی نصابی کتاب( ہسٹری و سویکس) کا استعمال نہ کریں۔جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام اسکولوں،چاہیے جموں کشمیر بورڈ یا سینٹرل بورڈ یا پھرملک کے کسی دوسرے بورڈ سے وابستہ ہیں، کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ جے سی پبلکیشنز پرائیویٹ لمیٹیڈکی شائع کردہ کلاس 7 ویں کے لیے "History & Civics"، ایڈیشن، 2020 کی نصابی کتاب استعمال نہ کریں اور اگر نصابی کتاب کسی بھی اسکول میں استعمال ہو رہی ہے تو اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے، بصورت دیگر قانون کی دفعات کے تحت سخت کارروائی شروع کی جائے گی۔لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے بعض مواد کی اشاعت کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے، پبلشر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس نصابی کتاب کو فوری طور پر تمام اسکولوں سے واپس لے لیا جائے جہاں کہیں بھی یہ تقسیم کی گئی ہے، اس کے باوجود کہ پبلشنگ ہاوس نے اپنی غلطی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔۔خاص طور پر یہ نوٹیفکیشن پبلیکیشن ہاس 'جے سی' پبلیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر کے چند گھنٹوں کے بعد آیا ہے۔ جے سی گوئل نے کتاب میں غیر ارادی غلطی پر معافی مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی عاجزی اور احترام کے ساتھ، اسلام میں تصویر کشی کی ممانعت کے بارے میں معلومات کی کمی کی وجہ سے، ہم نے اپنی کتاب  صفحہ نمبر 033 میں نادانستہ غلطی کی جس سے ہمارے معززین کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، ہم معذرت خواہ ہیں۔ آئندہ ایڈیشنز میں غلطی نہیں دہرائی جائے گی۔
 
 
 
 

شوپیان میں 2جنگجو گرفتار

اسلحہ و گولہ بارود ضبط

شاہد ٹاک
شوپیان //پولیس نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر شوپیاں میں دو سرگرم ملی ٹینٹوں کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔پولیس نے بتایا کہ 44آر آر اور 14بٹالین سی آر پی ایف کیساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک سرگرم جنگجو کی موجودگی کے بارے میں مخصوص اطلاع پر رمبی آرا کے ڈوم ونی کے نزدیک محاصرہ کیا گیا ۔ جب مشترکہ پارٹیاں مشتبہ مقام پر پہنچیں تو دونوں ملزمان نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، دونوں کو مشترکہ تلاشی پارٹیوں نے تدبیر سے گرفتار کر لیا۔انکی شناخت شاہد احمد گنائی ولد گلزار احمد ساکن ڈوم ونی کیگام اور کفایت ایوب علی ولد محمد ایوب علی ساکن پنجورہ شوپیان کے بطور ہوئی ہے۔ان کے قبضے سے 1 چائنیز پستول، 1 پستول میگزین، 2 چائنیز ہینڈ گرینیڈ، 8 پستول رانڈ سمیت مجرمانہ مواد، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، اس کے علاوہ ان کے قبضے سے 2.9 لاکھ روپے کی نقد رقم بھی برآمد کی گئی۔اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 294/2021 قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
 
 
 

درجہ وزیرمملکت و ضلع ترقیاقی کمشنر کا لیکن سنوائی کہیں نہیں

پنچایتی ممبران پروٹوکول فراہم نہ کرنے پرسیخ پا،رویہ نہ بدلنے پراحتجاج کا انتباہ 

عاصف بٹ
کشتواڑ// ڈی ڈی سی ممبران ،پنچوں و سرپنچوں کوانتظامیہ کی جانب سے مناسب پروٹوکول فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن کشتواڑ پوجاٹھاکر نے کہا کہ انہیں کاغذات میں وزیر مملکت اور ڈپٹی کمشنر کا درجہ تو دیا گیا ہے لیکن زمینی سطح پر ان کی کہیں سنوائی نہیں ہوتی ہے اور اگر انتظامیہ کا رویہ نہ بدلاتو وہ احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔کشتواڑ میں ڈی ڈی سی ممبران ،پنچوں اور سرپنچوں کی موجودگی میںایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ضلع انتظامیہ کا کوئی بھی افسر انکی بات نہیں سنتا جبکہ انکے پاس لوگ اپنی شکایات لیکر آتے ہیں تاکہ وہ انکی مشکلات انتظامیہ تک پہنچاسکیںلیکن عوامی شکایات کا ازالہ ہی نہیں ہوتا ہے اور لوگ ان سے سوال پوچھتے ہیں جبکہ ضلع انتظامیہ نے اپنے کان بند کررکھے ہیں۔ پکالن ٹھاکرائی پنچایت کی سرپنچ کے بات کرتے ہوئے چیئرپرسن نے کہا’’ انھوں نے علاقہ میں ہوئے کاموںکازمینی سطح پر معائنہ کرنے کے بعد پیسہ واگزار کرنے کو کہا لیکن باوجود اسکے اے سی ڈی کشتواڑ نے انکا قریب 16 کاموں کا پیسہ واگزارنہیں کیا اور اور جب ان سے پوچھا گیا تو انھیںدھمکایا گیا‘‘۔ان کا کہناتھا’’اگر پنچایت میں کوئی بھی پروگرام ہوتا ہے توا نتظامیہ کافرض بنتا ہے کہ پنچوںو ڈ ی ڈی سی ممبران کو بلایا جائے لیکن انھیں کوئی نہیں پوچھتا ہے جبکہ ضلع انتظامیہ انھیں پروٹوکول نہیں دے رہی ہے ‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’چیئرپرسن کا پروٹوکول وزیرمملکت کا ہے جبکہ ایک ڈی ڈی سی ممبر کا پروٹوکول ڈی سی کے درجے کا ہے لیکن باوجود اسکے انھیںپروٹوکول دکھایاتوجارہا ہے لیکن عمل نہیں ہوتا۔صرف دکھاوے کیلئے 15 اگست و 26 جنوری کو جھنڈے لہرانے کیلئے ہمیں بلایا جاتا ہے جبکہ ہمارے پیچھے طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں‘‘۔پوجا ٹھاکر نے کہاکہ اگرچہ وہ ہربار انتظامیہ کو شکایتوں کا ازالہ کرنے کیلئے درخواست لکھتے ہیں لیکن کبھی بھی انکی باتوں کو سنا نہیں جاتا۔ان کاکہناتھا’’ہمیں صرف سرکاری پروگراموں میں کٹھ پتلی کے طور استعمال کیا جاتا ہے اور ضلع انتظامیہ کا کوئی بھی افسر ہماری بات نہیں سنتا کیا‘‘۔انہوںنے سوال کیا کہ کیا ہر بات کوانھیںا علیٰ حکام کی نوٹس میں لاناپڑے گا؟۔پوجا ٹھاکر نے مزید کہا’’منگل وار کو تمام ڈی ڈی سی ممبر، بی ڈی سی چیئرمین ،پنچ و سرپنچ اپنے مطالبات کو لیکر ڈی سی دفتر میںاحتجاج کریں گے جسکے بعد آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا‘‘۔
 
 
 
 

جموں وکشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ حصے

نئی دہلی کسی ملک کے بیانات کواہمیت نہیں دیتی:وزارت خارجہ

نئی دہلی//بھارت نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ جموں کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ انگ تھے اور ہمیشہ رہیں گے اور بیان بازی سے ان کی حیثیت کو کوئی تبدیل نہیںکر سکتا ہے۔ مرکزی وزرات خارجہ ترجمان ارندام بھاگچی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ جموں کشمیر اور لداخ کے مرکزی ویزرانتظام علاقے پہلے سے ہی بھارت کا ٹوٹ حصہ تھے ، ہے اور ہمیشہ رہیںگے ۔ انہوں نے کہا کہ بیان بازی سے کچھ کیا نہیں جا سکتا ہے اور بھارت نے 5اگست 2019کو جموں کشمیر اور لداخ کو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کرکے انہیں بھارت میں مکمل طور پر ضم کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے اور اب اس طرح کے بیان دینے لگا ہے ۔ وزرات خارجہ ترجمان نے کہا کہ پاکستان عسکریت پسندی کو فروغ اور دراندازوں کی مدد کرکے جموں کشمیر کے حالات بگاڑنے میں مصروف عمل ہے اور اس طرح کی کوششوں کو بھارت کبھی بھی تسلیم نہیںکرے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیںکہ جموں کشمیر کے حالات کو بگاڑنے کی کسی کو اجازت نہیںدی جائے گی اور جو کوئی بھی اس میںملوث پایا جائے گا اس کے خلاف کارورائی ہو گی ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے پہلے بھی اقوام متحد ہ کے فورموں پر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان بھارت میں شدت پسندی میںملوث ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کارروائی عمل میںلائی جائے اور ایک بار پھر اس بات کو دوہراتے ہیں کہ پاکستان جموںکشمیر میں شدت پسندی کو فروغ دینے کی کوششوں پر روک لگائیں ۔ 
 
 

ایمپلائز یونائیٹڈ فرنٹ کاجموں کے تمام اضلاع میں احتجاج کرنے کا فیصلہ

جموں// جموں و کشمیر یو ٹی ایمپلائز یونائیٹڈ فرنٹ نے اپنے زیر التواء مطالبات کی تکمیل کے لیے جموں صوبے کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فرنٹ لیڈر نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف محکموں میں غیر مستقل کام کرنے والے ملازمین کے لیے کی کوئی مستقلی پا لیسی نہیں بنائی ہے۔انہوں نے کہا "یہ ملازمین بشمول یومیہ اجرت والے، اور دیگر تمام غیر ریگولر ملازمین کو ریگولرائز کیا جائے اور ان کی سروس بک بنائی جائے اور ان میں انٹری کی جائے"۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو تمام سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے اور ملازمین کے لیے پے گریڈ جموں و کشمیر میں یونین ٹیریٹری گریڈ کے برابر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپنے دیرینہ مطالبات پر دباؤ ڈالنے کے لیے انہوں نے جموں صوبے کے تمام اضلاع میں ضلعی سطح پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مظاہروں کے بعد اگر حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی ہے تو وہ جموں میں اپنے مطالبات کے حق میں ایک میگا ریلی نکالیں گے۔
 
 

مڑواہ کیلئے ہمہ موسمی سڑک کے مطالبہ پر تنہا احتجاج

 جموں//مختلف مطالبات پر مشتمل ایک پلے کارڈ اٹھائے اور آنکھوں پر پٹی باندھے جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دور افتادہ مروہ سے تعلق رکھنے والا ایک سماجی کارکن یہاں کئی گھنٹوں تک احتجاج میں کھڑا رہا تاکہ ہر موسم کے لیے سڑکوں کے رابطے اور بجلی کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے ۔روئوف الاسلام نے اپنے گھر سے جموں تک تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا تاکہ مروہ سب ڈویژن کے مکینوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا جا سکے جو کہ تین تحصیلوں مروہ، دچھن اور وڑون پر مشتمل ہے جو سالانہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے منقطع رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’احتجاج کا میرا واحد مقصد مرکزی وزیر نتن گڈکری اور ہمارے ممبر پارلیمنٹ جتیندر سنگھ سمیت حکومت کی توجہ مبذول کرانا ہے تاکہ ہم ہر موسم میں سڑک کے رابطے کی کمی کی وجہ سے ہماری پریشانیوں کو کم کیا جا سکے۔‘‘مروہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے مرگن پاس روڈ کے ذریعے جڑا ہوا ہے جو کہ گرمیوں میں صرف چند ماہ کے لیے کھلا رہتا ہے۔انہوںنے کہا"ہمارے سب ڈویژن میں نہ سڑکیں ہیں، نہ بجلی اور نہ ہی ٹیلی کمیونیکیشن۔ ہم انتہائی غربت میں رہ رہے ہیں۔ہم نے متعلقہ حلقوں کے ساتھ اپنی حالت زار کو اٹھایا اور ہر موسم میں سڑک کے رابطے کو یقینی بنانے کے لیے کئی بار سروے کرائے گئے لیکن آج تک کچھ نہیں کیا گیا‘‘۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ چھاترو سے مڑواہ تک تقریباً پانچ کلومیٹر طویل سرنگ سب ڈویژن کو کشتواڑ ضلع ہیڈکوارٹر سے جوڑ کر ہر موسم میں سڑک فراہم کر سکتی ہے، سماجی کارکن نے کہا کہ وہ گڈکری کے حالیہ دورے کے دوران سرنگ حاصل کرنے کے لیے پر امید تھے لیکن ان کے لیے کسی منصوبے کا ذکر نہ ہونے سے مایوس ہو کر رہ گئے۔سماجی کارکن نے کہا "ہم مرکزی وزیر کے ذریعہ اعلان کردہ نئی سڑکوں کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔ ہمارے خطے میں سیاحت کی ایک بہت بڑی صلاحیت ہے، جسے اگر مکمل طور پر استعمال کیا جائے تو جموں خطے کی معیشت کو بڑا فروغ مل سکتا ہے" ۔اسلام، جو احتجاج کے طور پر سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے تھا، نے کہا کہ اس نے اپنے علاقے میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں "اندھیرے" کو اجاگر کرنے کے لیے سیاہ کپڑے سے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ انہوں نے کہا"ہم اندھیرے میں رہ رہے ہیں اور بجلی، صحت کے بنیادی ڈھانچے، ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہمیں ضلعی ہیڈکوارٹر تک پہنچنے کے لیے دو دن پیدل چلنا پڑتا ہے اور ایسے میں ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے‘‘۔
 
 
 

گندوہ کے اچھیر گاؤں میں آتشزدگی کی پراسرار واردات 

ایک رہائشی مکان خاکستر، بھاری مالیت کا سامان جل کر راکھ 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کی سب ڈویڑن گندوہ میں آتشزدگی کی پراسرار واردات میں ایک رہائشی مکان خاکستر ہوا ہے جس میں بھاری مالیت کا سامان جل کر راکھ ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی شام ساڑھے نو بجے کے قریب معروف احمد ولد محمد اشرف ساکنہ اچھیر کے دو منزلہ رہائشی مکان سے اچانک آگ نمودار ہوئی جو کچھ ہی لمحوں میں پوری عمارت میں پھیل گئی۔اس دوران مقامی لوگ ،پولیس و سیکورٹی فورسز کے اہلکار موقع پر پہنچے اور بچاؤ کاروائی شروع کی تاہم نو کمروں پر مشتمل مکان مکمل طور پر خاکستر ہوا جس میں بھاری مالیت کا سامان بھی تباہ ہوا۔ایس ایچ او گندوہ وکرم سنگھ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آتشزدگی دس کمرے مکمل طور پر خاکستر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
 

دفعہ370کی بیخ کنی نے لوگوں کو الگ تھلگ گیا:تاریگامی

جموں//کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ دفعہ370کی مسلسل بیخ کنی اور جمہوریت کورد کئے جانے نے جموں کشمیر کے لوگوں کو الگ تھلگ کردیا۔سابق قانون سازیہ رکن وزیرداخلہ امت شاہ کے بیان پرتبصرہ کررہے تھے،جس میں انہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ دفعہ370کی تنسیخ نے جموں کشمیرمیں امن قائم کیا۔تاریگامی نے ٹوئٹرپرلکھا،’’یہ دفعہ370کی مسلسل بیخ کنی تھی اور لوگوں کو جمہوریت سے محروم رکھناتھا جس نے جموں وکشمیرکے لوگوں کو الگ تھلگ کیا اور اس طرح امن اور بھائی چارے کو خراب کرنے کیلئے زرخیززمین مہیا ہوئی۔بدقسمتی سے رجحان تشویشناک ہے اورصورتحال دفعہ370کی تنسیخ کے بعد خراب ہوئی ہے۔‘‘ 
 

قبائلی دیہات کی ترقی کیلئے80کروڑروپے واگزار

 بہبودی اسکیموں کی تکمیل معینہ مدت میں یقینی بنائی جائے:شاہداقبال 

 جموں//سیکرٹری قبائلی اَمور ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے محکمہ کے مختلف منصوبوں ، سکیموں اور اِقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ٹینڈرنگ اور عمل درآمد کام کو تیز کرنے پر زور دیا اور کئی نئی سکیموں پر بھی غور و خوض ہوا۔میٹنگ میں کلسٹر ٹرائبل ماڈل ولیجز کے تحت منتخب دیہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس کے تحت مختلف اَضلاع کے مختلف قبائلی دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے محکمہ کی طرف سے تقرباً 80 کروڑ روپے جار ی کئے گئے ہیں۔سیکٹورل اَفسران سے کہا گیا ہے کہ وہ کاموں کی اَنجام دہی اور ٹھوس نتائج کے لئے ٹائم لائنز کی پابندی کو یقینی بنائیں۔محکمہ پشو و بھیڑ پالن کے ذریعے چلائے جانے والے مِلک وِلیج اور چھوٹے بھیر فارموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔سیکرٹری قبائلی اَمور ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے ضلع ترقیاتی کمشنران اور ضلعی و سیکٹوریل اَفسران سے کہا کہ وہ قبائلی دیہاتوں میں مقامی شراکت داروں کی فعال شمولیت اور موجودہ مالی سال کے دوران منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے سالانہ منصوبہ 2022-23 کی تشکیل کے لئے ضلع منصوبہ بندی و نگرانی کمیٹی کی میٹنگ طلب کرنے اور بجٹ کی تشکیل کے جاری عمل کے پیش نظر 15؍ دسمبر تک جمع کرنے کو بھی کہا۔اِس موقعہ پر سکالر شپ سکیموں ،ایف آر اے کی عمل آوری اور قبائلی سروے پر بھی غور وخوض ہوا۔پوسٹ میٹر اور گریجویٹ سکالر شپ کے لئے محکمہ کی سکیم کا جائزہ لیا گیا جس کے تحت8,189 درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ڈائریکٹر قبائلی اَمور سے کہا گیا ہے کہ وہ مالی سال کے اِختتام سے قبل سکالر شپ کی بروقت تقسیم کے لئے اِنسٹی چیوٹ اور ضلع کی تصدیق کی خاطر رابطہ کاری شروع کریں۔سی اِی اوز سے کہا گیا ہے کہ وہ 10 ؍ دسمبر 2021ء تک پری میٹرک درخواستوں کی تازہ ترین فہرست جمع کریں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اِمسال سکالر شپ کے لئے حکومت کی طرف سے 30کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیاگیا ہے اور ضرورت کی بنیاد پر اِضافی گرانٹ فراہم کی جائے گی۔میٹنگ میں وَن دَھن سکیم کی عمل آوری کے اِقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا جس کے تحت 15 ایس ایچ جیز کے ہر کلسٹر کو 15لاکھ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔کمیونٹی مصروفیت کی خاطر تکنیکی ٹیمیں تعینات کی جارہی ہیں۔ سیاحتی منصوبے کے تحت 10 ممبران کے ایس ایچ جیز تشکیل دئیے جارہے ہیں جس کے لئے ہرایک کو 20لاکھ مالیت بنیادی ڈھانچے،  ٹرانس ہیومنٹ موسم گرماکے مقامات کے لئے سیاحت گائوں بنانے کے لئے فراہم کئے جارہے ہیں۔ میٹنگ میںسکل ڈیولپمنٹ پلان اور سیل ایمپلائمنٹ کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
 

نوین چودھری نے لکھن پور میں’ پشو دَھن ویاپر میلہ‘ کا اِفتتاح کیا

کٹھوعہ//پرنسپل سیکرٹری پشو و بھیڑ پالن نوین کمار چودھری نے آر پی چیک پوسٹ لکھن پور میں’’ پشو دَھن ویاپر میلہ‘‘ کا اِفتتاح کیا۔اِس موقعہ پر سیکرٹری اِمداد باہمی محکمہ یشامدگل مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھیں۔نوین کمار چودھری نے لکھن پور میں ہرماہ’’ پشو دَھن ویاپر میلہ‘‘ کے اِنعقاد کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم جموںوکشمیر کو دودھ کی پیداوار میں خود کفیل بننے کے ہدف کو حاصل کرنے میں بڑی مدد کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمانہ سکیموں میں نرمی کے بعد ڈیری شعبہ میں بتدریج تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کیوں کہ گذشتہ دو برسوں میں زائد اَز 10ہزار نئے ڈیری یونٹ کھولے گئے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ ڈیری سیکٹر میں محکمہ کی طر ف سے کی جانے والی کوششوں کے اَب نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔اُنوں نے کہا کہ لکھن پورہ میں’’ پشو دَھن ویاپر میلہ‘‘ جموںوکشمیر میں مویشیوں کی بہترین نسل فراہم کرنے اور ان کسانوں کے وقت اور پیسے کی بچت کے لئے ایک باقاعدہ ماہانہ معاملہ ہوگا جنہیں معیاری مویشی حاصل کرنے کے لئے دوسری ریاستوں میں جانا پڑتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس کا مقصد کسانوں کو نئی راہیں فراہم کرنا ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا مقصد حاصل کیا جاسکے۔نوین کمار چودھری نے کہا کہ زراعت ، باغبانی ، بھیڑ ، پولٹری اور متعلقہ شعبوں کے تحت تمام بڑی سکیموں مین 50فیسد سے زیادہ سبسڈی دی جارہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ برس سبسڈی کے لئے10 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے اور اِس برس 70 کروڑ روپے مزید کسانوں کو کور کرنے کی خاطر مختص کئے گئے ہیں۔سیکرٹری امداد باہمی محکمہ یشامدگل نے اَپنے خطاب میں کہا کہ کوآپریٹیو دیہی اقتصادیات میں قابل قدر تبدیلی لانے میں اہم کردار اَدا کرسکتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ حالیہ دِنوں میں کئی دودھ کوآپریٹیو اِندراج کئے گئے ہیں ۔اُنہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ زراعت ، ڈیری اور دیگر شعبوں میں کوآپریٹیو سوسائٹیوں کو رجسٹر کریں ۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ راہل یادو نے اَپنے خیالات کا بھی اِظہار کیا۔میلے میں پنجاب ، ہریانہ سے گائے ، بھینس کی مختلف نسلیں، جموں وکشمیر کے مختلف اَضلاع کے بریڈرزاور متعدد کسان بھی موجود تھے ۔اِس کے علاوہ میلے میںپشو و بھیڑ پالن کے سٹال، کوآپریٹیو کے آلات کشاورزی اور پرائیویٹ پلیئرس کی اَدویات سٹال بھی لگائے گئے تھے۔اِس موقعہ پر پرنسپل سیکرٹری نے اِنٹگریٹیڈ ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت کسانوں کو 41,25,000 روپے بطور سکیم سبسڈی چیک دیا ۔
 

ہندوستان دنیا کی’’روحانی دارالحکومت‘‘:: چیف جسٹس متل

جموں// جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس پنکج متھل نے کہا کہ ہندوستان کو دنیا کا ’’روحانی دارالحکومت‘‘کہلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ہندوستان کا ثقافتی ماحول خالص روحانیت کا عالم ہے جو مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں امتیاز کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس 72ویں یوم آئین کی یاد میں دہلی میں قائم تنظیم ادھیوکتا پریشد، جموں و کشمیر اور لداخ باب کے ذریعہ منعقدہ دھرم اور ہندوستان کا آئین کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہے۔تقریب میں ایڈوکیٹ جنرل، ڈی سی رینا اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اور درجنوں دیگر وکلا اور قانونی ماہرین نے بھی شرکت کی۔اپنے کلیدی خطاب میں جسٹس مٹھل نے کہا کہ ہماری کوشش صرف حقوق مانگنے کے بجائے بنیادی فرائض کو ادا کرنے کی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب نیکی کا مترادف ہے اور ہر مذہب زندگی میں اخلاقی طرز عمل کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مذہبی صحیفے صحیح اور غلط کی تمیز میں رہنما اصول کے طور پر کام کرتے ہیں اور کوڈل قانون بھی اس میں شامل ہے۔ انہوں نے مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے معاشرے کی ضروریات کے مطابق قوانین بنانے کا کہا۔جسٹس مٹھل نے کہا کہ وید فطرت کا قانون بناتے ہیں اور یہ اخلاقیات اور اچھا برتا ئوہی ہے جو کسی کو مذہبی بناتا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ گوتم بدھ کی مہابھارت اور اہنسا دونوں ہی لوگوں کو عقیدے اور خوبی کے اعلی مضامین کو اپنانے پر راضی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدیم زمانے سے ہر قاعدے کے تحت ہندوستانی لوگوں نے روحانیت کے مقدس عقائد کو دوسرے افراد کے ذاتی عقائد میں مداخلت کیے بغیر برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیکولرازم کو ہماری قوم نے آج تک اپنی حقیقی روح کے ساتھ جاری رکھا ہے حالانکہ یہ الفاظ بعد میں ایک ترمیم کے ذریعے ہمارے آئین میں شامل کیے گئے تھے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہمارے آئین میں مذہب کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر فرقہ کے لوگوں نے اس کے استعمال کو محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 14، 19، 21، 25-29 ہمیں ہمارے آئین میں مذہبی ضمانتوں کے بارے میں بصیرت فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس سب سے زیادہ لچکدار آئین ہے جس نے اس قوم کے تمام لوگوں کی حساسیت کو محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اس میں سب سے زیادہ وسیع و عریض ہونے کے باوجود اس میں اب تک 100 سے زائد مرتبہ ترمیم کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیاکا فیصلہ، شاہ بانو کیس، تین طلاق، وشنو دیوی مندر کا مسئلہ کچھ نمایاں مثالیں ہیں جہاں آئین نے ہمیں قابل احترام حل کی طرف رہنمائی کی۔اس موقع پر خطاب کرنے والوں میں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا (اے ایس جی آئی)سری نگر، طاہر شمسی؛ اے ایس جی آئی، جموں، وکاس شرما اور ادھیوکتا پریشد کے دیگر عہدیداران موجودتھے۔
 

چناب ویلی ڈیولپمنٹ فورم کا اجلاس 

صوبائی درجہ، پارلیمانی حلقہ و دو نئے اسمبلی حلقے قائم کرنے کا مطالبہ 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //چناب ویلی ڈیولپمنٹ فورم نے خطہ کو علیحدہ پارلیمانی حلقہ بنانے، دو نئی اسمبلی حلقوں کا قیام و صوبائی درجہ دینے کا ایل جی انتظامیہ و مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں ڈاک بنگلہ ٹھاٹھری میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں چناب ویلی مومنٹ کا نام تبدیل کر کے 'چناب ویلی ڈیولپمنٹ فورم' رکھا گیا جس کی ایگزیکٹو کمیٹی بھی تشکیل دی گئی.اس موقع پر شمیم احمد بٹ صدر، منصور احمد بٹ و محمد اقبال تیلی کو چیف آرگنائزر،عبدالکبیر بٹ جنرل سیکرٹری، اصغر کھانڈے ترجمان اعلیٰ، وریندر شرما سیکرٹری، بی ڈی سی چیئرپرسن گندنہ سرشاد احمد نٹنو کو ایگزیکٹو ممبر نامزد کیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیولپمنٹ فورم کے ترجمان اصغر کھانڈے نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکنان پر مشتمل ایک غیر سرکاری تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد خطہ چناب کی فلاح و بہبود کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔انہوں نے وادی چناب کو علیحدہ پارلیمانی حلقہ بنانے، دو نئی اسمبلی حلقے قائم کرنے، صوبائی درجہ دینے، پہاڑی زمرے میں شامل کرنے، زمینوں کو محفوظ بنانے، ریاستی درجہ کی بحالی، پن بجلی پروجیکٹوں میں مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ان مطالبات کو لے کر وہ جمہوری عمل کے تحت ہر پلیٹ فارم پر جاکر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
   
 
 
 
 
 
 

صفائی کرمچاری بہادری کیلئے اعزاز سے سرفراز

 ایم ایم پرویز 
رام بن // فوج کی جانب سے ہسپتال کے ترقیاتی فنڈ (ایچ ڈی ایف) کے ایک کارکن کو اس کی بہادری کے لیے انعامات سے نوازا گیا۔تفصیلات کے مطابق رینا دیوی زوجہ نریش چند ساکن میر پنچھیری (ادھم پور) نے 2 دسمبر کی شام کو کرول پل، رام بن سے دریائے چناب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی جس دوران معراج الدین ولد فاروق احمد ساکن کرول (رام بن بن) نے مثالی ہمت اور تیراکی کا مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے بچالیا ۔اس کی غیر معمولی جرأت کے لئے  چندرکوٹ میں مقیم فوج کے کمانڈر نے انہیںنقد اور دیگر انعامات سے نوازا۔
 
 
 

میجر جنرل ابھی جیت پینڈھارکر 

 جی او سی 28 انفینٹری ڈویژن کا عہدہ سنبھالا

سرینگر//میجر جنرل ابھی جیت ایس پینڈھارکر نے ایلیٹ وجر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ فوج نے اتوار کو کہا انہوںنے کمانڈنٹ، کاؤنٹر انسرجنسی وارفیئر اسکول، ویرینگٹے، کی باوقار تقرری میں منتقل کیا۔پینڈھارکر کو 9 جون 1990کو آئی ایم اے، دہرادون سے 6ویں بٹالین، آسام رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا تھا۔ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، کھڑکواسلا کے سابق طالب علم، جنرل آفیسر نے تمام اہم کیریئر کورسز بشمول ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج، ویلنگٹن، ہائر کمانڈ کورس اور نیشنل ڈیفنس کالج میں شرکت کی ہے۔جبکہ انہوں نے اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایم ایس سی اور فلاسفی میں ماسٹر کیا ہے۔ جنرل آفیسر کے پاس شمال مشرق اور جموں و کشمیر میں شدید انسداد بغاوت/ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں خدمات انجام دینے کا وسیع آپریشنل تجربہ ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کی نمایاں خدمات کے لیے، انھیں 2002میں سینٹرل کمانڈ کمنڈیشن کارڈ، 2007میں COAS کمنڈیشن کارڈ اور 2018 میں یودھ سیوا میڈل سے نوازا گیا جب کہ وہ لائن آف کنٹرول پر ایک چیلنجنگ بریگیڈ کی کمان کرتے تھے۔جنرل آفیسر اپنے ساتھ مختلف کمانڈز، اسٹاف اور انسٹرکشنل تقرریوں کا بھرپور تجربہ لاتا ہے جس میں لائن آف کنٹرول پر انفنٹری بریگیڈ کی باوقار کمانڈ، مونسکو، کانگو میں انفنٹری بریگیڈ گروپ کے چیف آف اسٹاف اور ایک انتہائی اہم تقرری شامل ہے۔ 
 

کامریڈشام پرساد کیسر فوت،تاریگامی مغموم 

 جموں//سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نیریاستی کمیٹی کے رکن اور سی پی آئی (ایم) جموں کے علاقائی سکریٹری شام پرساد کیسر کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جنہوں نے اتوار صبح نارائنن اسپتال کٹرہ میں آخری سانس لی۔آنجہانی رہنما محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے ایک کٹر جنگجو رہے۔ جموں خطہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے لیے ان کی مضبوط وابستگی کے لیے وہ بڑے پیمانے پر قابل احترام تھے۔وہ کبھی بھی تفرقہ انگیز قوتوں کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔سی پی آئی (ایم) سوگوار خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور آنجہانی کامریڈ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
 

بملا لوتھرا سوگوار،فاروق، عمرکی تعزیت

جموں//نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی سینئر ریاستی نائب صدربملا لوتھرا کے شوہر پریم لوتھرا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغامات میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے سوگوار خاندان کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا اور آنجہانی کی روح کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے لواحقین کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت کی دعا بھی کی۔جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر،ایڈیشنل جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال، صوبائی صدر  رتن لال گپتا اور سینئر لیڈروں نے بھی بملا لوتھرا کے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے آنجہانی کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی۔
  

سابق ڈپٹی کمشنر غلام قادرمغل کی اہلیہ فوت

مختلف سیاسی وسماجی شخصیات نے کااظہاردکھ

زاہدبشیر
گول۔گول کی۔معروف شخصیت وسابق ڈپٹی کمشنر غلام قادرمغل کی اہلیہ زبیدہ بیگم اتوار کی صبح اچانک انتقال کرگئیں۔ ان کاانتقال آبائی گھر پرتمولہ گول میں ہوا۔مرحومہ کافی نیک سیرت وصوم وصلواۃ کی پابند تھیں۔ غلام قادرمغل کی اہلیہ کے انتقال پرسماجی وسیاسی شخصیات نے رنج وغم کااظہارکیا اورغمزدہ خاندان بالخصوص غلام قادرمغل کے ساتھ ڈھارس بندھائی۔ وہیں صحافت پیشہ سے وا?