مزید خبریں

پرائمری ہیلتھ سنٹر میں پانی سپلائی کی عدم دستیابی

مریض و عملے کو شدید پریشانیوں کا سامنا،محکمہ جل شکتی ٹس سے مس نہیں

زاہدبشیر
گول//محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی اور لاپرواہی کے باعث جہاں عام لوگوں کو پانی جیسی بنیادی سہولیت حاصل کرنے کیلئے برسوں تک محکمہ متعلقہ کے دفتر کا چکر کاٹنے پڑرہے ہیں وہیں سرکاری اداروں میں بھی محکمہ متعلقہ پانی کی سپلائی کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔قابل ِ ذکر ہے کہ پی ایچ سی سنگلدان میں پانی کی سپلائی کئی ہفتوں سے بند پڑی ہے جس وجہ سے ہسپتال میں علاج و معالجہ کرنے کیلئے آنے والے مریضوں اور طبی ادارے میں تعینات عملے کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں کئی ہفتوں سے بند پڑی پانی سپلائی کو جلدا زجلد بحال کرنے کیلئے محکمہ جل شکتی کو آگاہ کیا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر محکمہ نے پانی سپلائی کی بحال کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کا کام بھی متاثر ہوجا تا ہے اور ہسپتال میں روزانہ صفائی ستھرائی نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں بدبو پھیل جاتی ہے جس وجہ سے ہسپتال علاج و معالجہ کی جگہ ہونے کے بجائے بیماریوں کو مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھاپانی سپلائی کے بند ہونے کی وجہ سے عملے کو ہسپتال میں فرائض دینا بھی مشکل ہو رہا ہے کیونکہ اک طبی ادارے میں پانی ہونا اشد ضروری ہیاور محکمہ جل شکتی کو یہ احساس ہونا چاہیے تھا کہ طبی ادارے میں پانی کی سپلائی کا بند ہونا کس قدر افسوسناک ہے۔
 
 
 

سرما کی آمدکیساتھ ہی غیراعلانیہ بجلی کٹوتی شروع

 کرایہ بھی دوگنا، بجلی بھی نہیں ،کشتواڑ میں عوام کا جینا دوبھر

عاصف بٹ
کشتتواڑ//ضلع کشتواڑ کے سبھی علاقہ جات میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی غیراعلانیہ بجلی کٹوتی عوام کیلئے دردسر بنی ہوئی ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کے سبب عوام مشکلات کاسامنا کررہی ہے۔ جہاں قصبہ کے اندر بھی کئی کئی گھنٹوں تک بجلی گل رہتی ہے وہیں دیہات میں تو بجلی کے کبھی کبھار ہی درشن ہوجاتے ہیں۔ بیشتر علاقوں سے عوام نے اپنی مشکلات بتاتے ہوئے کہا کہ دن میں محض چند ہی گھنٹوں کیلئے بجلی فراہم کی جاتی ہے جسکے سبب انھیں سخت مشکلات آرہی ہیں۔لوگوںنے بتایا کہ چند علاقوں میں سنگل  فیز بجلی دی جارہی ہے جو چراغ کی مانند جلتی رہتی ہے جبکہ ان سے بھی مہینے پر کرایہ وصولاجاتا ہے۔محمد یاسین نے نامی شہری بتایا کہ جہاں بجلی کا کرایہ دوگنا کیا گیا اور امید کی جارہی تھی کہ چوبیس گھنٹے بجلی فراہم ہوگی وہیں محض چند گھنٹوں کیلئے ہی بجلی دی جاررہی ہے جو ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مقررہ وقت پر بجلی فیس ادا کی جاتی ہے تو بجلی مکمل کیوں فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے جہاں مزید 10ایم اے کا ٹرانسفارمر نصب کیا گیا جسکے بعد یہ کہا جارہا تھا کہ اب بجلی کی کوئی قلت نہیں ہوگی لیکن حالات میں کوئی بدلاو نہیں آیا۔نریش کمار نا می ایک اور شہری نے بتایا کہ بچوں کے اس وقت امتحانات چل رہے ہیں اور انتظامیہ کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنی چاہئے تھی تاکہ تعلیم متاثرہ نہ ہوسکے لیکن شام کے وقت بجلی ہی غایب رہتی ہے اور کئی گھنٹوں کے بعد دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا اگرچہ شیڈول مرتب کیا گیا لیکن شیڈول کے مطابق بجلی کی کٹوتی نہیں ہوتی اور من مانی طریقے سے بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔محکمہ کے جونیئر انجینئر نے بتایا کہ سرما کی آمد کے ساتھ ہی مزید بجلی کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے جسکے سبب مجبور ہوکر بجلی کٹوتی کرنا پڑتی ہے اور اگر لوگ تعاون کریں تو اسمیں کافی حدتک بہتری ہوگی ۔
 

ٹھاٹھری میں ماروتی گاڑی خاکستر 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ایس ڈی ایم دفتر ٹھاٹھری کے احاطے میں کھڑی گاڑی گذشتہ شب آتشزدگی کی ایک واردات میں خاکستر ہوئی۔پولیس ذرائع کے مطابق پیر کی شام ساڑھے چھ بجے کے قریب ایک آلٹو گاڑی زیر نمبری JK17-6508 میں اچانک آگ لگ گئی۔اس دوران مقامی لوگ ،پولیس و فائر بریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچے اور بچاؤ کاروائی کرکے ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچا لیا تاہم گاڑی مکمل طور پر خاکستر ہوئی۔بتایا جاتا ہے کہ شارٹ سرکٹ کے باعث گاڑی میں آگ لگ گئی. پولیس نے اس سلسلے میں معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
 

ڈوڈہ میں کووڈ 19 کے 7 نئے مثبت معاملات 

۔2 مریض صحتیاب ،581802 ٹیکے لگائے گئے 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //ڈوڈہ میں کووڈ19 کے 7 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور دو مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق منگل کے روز ڈوڈہ ضلع کے مختلف مقامات پر ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران سات افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور دو مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد بڑھ کر 36 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 7798پہنچ گئی ہے۔ضلع میں اب تک کوؤڈ 19 سے 133 افراد فوت ہوئے ہیں اور ؛ 581802 ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
 

کووڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر27ہزار کاجرمانہ

 1043 ٹیکے لگائے گئے، 2658 نمونے جمع کئے گئے 

رام بن//ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کو نافذ کرنے کے لیے نافذ کرنے والی مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے خلاف ورزی کرنے والوں کو چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر جرمانہ عائد کیا۔انفورسمنٹ ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں معائنہ کے دوران 27,400 روپے جرمانہ وصول کیاانفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کے علاوہ اپنے قریبی CVC پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراک لیں۔ضلع امیونائزیشن آفیسر رام بن ڈاکٹر سریش نے بتایا کہ منگل کو رام بن ضلع میں 1043 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراکیں دی گئیں۔چیف میڈیکل آفیسر رام بن ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 2658 نمونے، جن میں 645 ،RT-PCR اور 2013، RAT نمونے شامل ہیں ،جمع کئے جبکہ اس کے علاوہ ضلع میں مخصوص ٹیکہ کاری مراکز میں 1043 افراد کو کووڈ ویکسین دی گئی۔
 
 

رام بن کے بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی ہاہاکار

ایم ایم پرویز
رام بن// رام بن ضلع بھر میں جل شکتی محکمہ کی جانب سے پانی کی فراہمی کی مختلف سکیموں کوقابل کاربنانے میں ناکامی کی وجہ سے کئی دیہاتوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔دیہی علاقوں کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے مقصد سے خاص طور پر رام بن اور راج گڑھ بلاکوںمیں پانی کی فراہمی کی سکیموں پر عمل درآمد کچھ سال پہلے شروع کیا گیا تھا لیکن مبینہ طور پر دو سال گزرنے کے باوجود سکیمیں نامکمل ہیں۔ان علاقوں کے مقامی لوگوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اکثر پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے خلاف شکایات درج کرائی ہیںلیکن بدقسمتی سے ان کی درخواستوں پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ تحصیل رام بن کے پرنوتے گاؤں کے شمس الدین کٹوچ نے کہا’’ہم پچھلے چھ سال سے فلٹریشن کے منصوبے کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن متعدد ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود ضلع صدرمقام را م بن کے لیے منظور شدہ فلٹریشن پلانٹ پروجیکٹ نامکمل پڑا ہے‘‘۔ ایک دکاندار گوپال کرشن نے شکایت کی کہ ناقص فلٹر شدہ پانی نے ہماری زندگیوں کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ شہر کے متعدد افراد پانی سے پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔گول روڈ پر رام بن کے مضافات میں واقع گاؤں کانگا کی ایک خاتون ریکھا دیوی نے کہاکہ سب سے زیادہ متاثر خواتین ہیں جنہیں پینے کا پانی لانے کے لیے لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ رام بن اور راج گڑھ بلاکوںکے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت ہے کیونکہ ہمیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔ کنفر چندر کوٹ کے مقامی لوگوں کے ایک گروپ نے کہا کہ ہماری شکایات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔پانی کی سپلائی کی زیادہ تر سکیمیں فلٹریشن پلانٹس کے بغیر ہیں ۔ایگزیکٹیو انجینئر ہائیڈرولک ڈویژن رام بن سے اس ضمن میں رابطہ کرنے کی بسیار کوششیں بار آور ثابت نہ ہوسکیں۔
 
 
 
فوج کی جانب سے مصوری مقابلہ کا اہتمام
 رام بن// فوج نے "مسلح افواج کے پرچم دن" کے موقع پر ضلع رام بن کے بٹو  نیل میں ایک "پینٹنگ مقابلے" کا انعقاد کیا۔تقریب میں 40 کے قریب طلباء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس مقابلے کا مقصد طلباء کو اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار کرنے اور نوجوان ذہنوں کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کو بڑھانے کے قابل بنانا تھا۔یہ پینٹنگز حب الوطنی اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک بچے کے ذہن میں تخیل کے لامحدود کینوس کی عکاسی کرتی ہیں۔ بچوں کے جوش و جذبے اور تخلیقی صلاحیتوں نے تقریب کی دلکشی میں اضافہ کیا۔مقامی لوگوں اور طلباء نے اس طرح کے اختراعی مقابلوں کی اہمیت کو محسوس کیا اور نوجوان ٹیلنٹ کو اجاگر کرتے ہوئے فوج کی کوششوں کی تعریف کی۔     
 
جی ایم سی اننت ناگ میں کشتواڑ کے جوان کی موت 
کچلو نے معاملہ کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا 
کشتواڑ //سابق وزیر و زونل صدر نیشنل کانفرنس چناب ویلی سجاد احمد کچلو نے گذشتہ روز کشتواڑ کے ایک جوان کی گورنمنٹ میڈیکل اننت ناگ میں ہوئی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی غفلت شعاری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں کچلو نے مرحوم کی اچانک وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی طرف سے برتی گئی لاپرواہی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے رشتہ داروں نے اس امید کے ساتھ جی ایم سی میں بھرتی کرایا تاکہ وہاں تعینات ڈاکٹر طبی جانچ پڑتال کریں گے لیکن جس بے حسی کا انہوں نے مظاہرہ کیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ کچلو نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔