مزید خبریں

پہاڑی بورڈ ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن میں تازہ پہاڑی سروے کرے :کور کمیٹی 

  جموں//پہاڑی کور کمیٹی کا جموں میں اجلاس منعقد ہوا جس میں رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ کی ثقافتی تنظیموں کے سربراہ شامل تھے۔ مردم شماری اور پہاڑی بورڈ سروے کے اعداد و شمار پر تفصیل سے گفتگو ہوئی اور ایک قرار داد بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کی صدارت صداقت ملک نے کی جبکہ عطا محمد نائیک مہمان خصوصی تھے انہوں نے کہا کہ بورڈ فار ڈویلپمنٹ آف پہاڑی (PSP) کے 2018 کے سروے کے مطابق، ڈوڈہ کشتواڑ اور رام بن میں پہاڑیوں کی 0% آبادی ہے۔ جبکہ مردم شماری حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار مختلف بتاتے ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار متضاد ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مردم شماری کے حکام کے پاس بھی ڈوڈہ کشتواڑ اور رامبن کے پہاڑی بولنے والے لوگوں کے اعداد و شمار اور درجہ بندی غلط ہے۔پہاڑی کور کمیٹی نے اعداد وشمار کو کالعدم قرار دیا ہے کیونکہ یہاں پر لوگوں کی اکثریت پہاڑی ہے اور سارا علاقہ پہاڑی زبان بولتے ہیں جسکا انکشاف ماہر لسانیات نے بھی کیا ہے لیکن ان تمام زبانوں کو ایک ہی اعدادوشمار میں گروپ کیا گیا ہے جیسے کہ 2011 کی مردم شماری میں پاڈری کو ایک الگ زبان (پہاڑی کے بعد) دکھایا گیا ہے۔ پہاڑی  کمیٹی نے کہا ہے کہ دستیاب قانونی شواہد اور دستاویزات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں پہاڑی کی شاخوں کے طور پر گروپ کیا جانا چاہیے۔ دریں اثناء بھلیسی (بھدرواہ جاگیر کا اس وقت کا علاقہ) کے پراگانہ میں بولی جانے والی زبان جو کہ اب ایک الگ ثقافتی شناخت رکھتی ہے اب تین تحصیلوں گندو، چلی پنگل اور کہارا میں بولی جاتی ہے۔ عبدل مجید بچو نے بعد میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پہاڑی بورڈ کو متنبہ کیا ہے کہ ان علاقہ جات کی نیے سرے سے سروے کرے۔ 
 
 

اے بی وی پی وفدلیفٹیننٹ گورنرسے ملاقی، میمورنڈم پیش کیا

جموں//اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) جموں کشمیر کے ایک وفد نے جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ وفد کی قیادت اے بی وی پی جموں کشمیر کے ریاستی صدر ڈاکٹر پرمیندر سنگھ کر رہے تھے جس میں ریاستی سیکرٹری بھی شامل تھے۔وفد نے جموں کشمیرمیں آن لائن تدریس کے دوران تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی وجہ سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آف لائن پڑھائی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اے بی وی پی نے جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے معاملے کو اٹھایا ہے جو طویل عرصے سے زیر التوا ہے اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اے بی وی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے یونین ٹریٹری میں تدریسی اور غیر تدریسی فیکلٹی کی خالی اسامیوں کو فوراً پْر کیا جائے۔ اے بی وی پی نے نئے الاٹ شدہ کالجوں کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے اور کالجوں میں تمام اسٹریمز کو متعارف کر نے کے علاوہ جموں کشمیر میں قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) کو جلد نافذ کرنے کی بھی مانگ کی۔وفد نے سپورٹس یونیورسٹی کھولنے کا مطالبہ کیا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہمیں حقیقی مطالبات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
 
 

شیو سینا نے کشمیر میں مفت سلائی اور ٹیلرنگ سینٹر کھولے 

جموں//جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کی خواتین کو خود کفیل بنانے کے مقصد سے شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں مفت سلائی سنٹر کھولے ہیں۔شیو سینا جموں و کشمیر یونٹ نے کپواڑہ کی تحصیل کرالہ پورہ اور گاؤں چھم پورہ میں سلائی اور ٹیلرنگ کی مہارتیں سکھانے کے لیے تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔ ہندواڑہ میں پارٹی کے ورکنگ صدر غلام رسول لون کی موجودگی میں افتتاح کے پہلے ہی دن تقریباً ایک درجن خواتین نے سلائی کا ہنر سیکھنے کے لیے خود کو رجسٹر کرایا۔شیو سینا پارٹی کے ریاستی صدر منیش ساہنی نے بتایا کہ مذکورہ بالا سینٹڑ کا افتتاح شیوسینا کے قومی سکریٹری اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ انیل دیسائی کی رہنمائی میں خاص طور پر جموں و کشمیر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے شروع کی گئی مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک شائستہ آغاز ہے اور جلد ہی متعدد مراکز کھولے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان مراکز میں رجسٹریشن کرانے والی خواتین کو دو ماہ تک سلائی اور ٹیلرنگ کی مفت تربیت فراہم کی جائے گی۔ یہ بتاتے ہوئے کہ پارٹی کے بانی بالا صاحب ٹھاکرے کی اہلیہ آنجہانی مینا تائی ٹھاکرے نے خواتین کو خود مختار بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی طرف یہ قدم اٹھایا ہے۔ ساہنی نے کہا کہ 6 جنوری کو مینا تائی کی یوم پیدائش پر پارٹی کی جے اینڈ کے یونٹ پورے UT میں اس طرح کے سلائی اور ٹیلرنگ مراکز کے سلسلے کو مزید توسیع دینے کے ساتھ جاری رکھے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بہت جلد جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے ہر ضلع میں ایسے مراکز کھولے جائیں گے۔
 
 
 

اپنی پارٹی ضلع اکائی رام بن کیلئے عہدیداران کا تقرر

جموں//اپنی پارٹی نے ضلع اکائی رام بن کے لئے ضلع دفتری عہدیداران کا تقرر عمل میں لایا ہے۔ یہ تعیناتیاں صوبائی صدر منجیت سنگھ نے اپنی پارٹی نائب صدر اعجاز احمد خان کی سفارش پر پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری کی منظوری کے بعد عمل میں لائی ہیں۔ضلع عہدیداران میں الطاف حسین لون ضلع صدر رام بن، کرپال سنگھ ضلع نائب صدر، چودھری محمد رفیق ضلع ایس ٹی ونگ صدر، عبدالرشید لوہار بلاک صدر گول او بی سی ونگ، غلام محمد نجار بلاک صدر سنگلدان او بی سی ونگ اور شاہ جہاں بیگم بلاک صدر رام بن خواتین ونگ شامل ہیں۔
 
 
 

دور افتادہ علاقوں کیلئے ہیلی کاپٹر سروس کرنے کی مانگ

 کشتواڑ // سینئر سماجی کارکن ا اجیت بھگت نے جموں و کشمیر کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ضلع کشتواڑ کے مروہ، وروان، دچھن، مچیل اور پاڈر میں برف باری کی صورت میں ضروری اشیاء فراہم کرے۔بھگت نے کہا کہ لوگ سردیوں کے موسم کے لیے سامان خریدتے اور ذخیرہ کرتے تھے۔ برف باری نے لوگوں کو اپنا سامان رکھنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے وہ نہیں آئے۔ بھگت نے مڑواہ، وڈون، دچھن، مچیل اورپاڈر کے حالات کا ذکر کیا۔اجیت بھگت نے مزید کہا کہ حکومت کو دور دراز علاقوں تک رسد پہنچانے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر خدمات کا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ وہ ناقابل رسائی ہو چکے ہیں۔
 
 

  کشمیر وادی اور کشتواڑ کے بعد 

اب راجوری میں ہو گا زعفران، پہلی کاشت کامیاب

راجوری//کشتواڑ اور وادی کشمیر کے بعد اب کسان کو جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں زعفران کی کاشت میں کامیابی ملی ہے۔ جس سے علاقے کے تمام کسانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ہیں۔جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں اپنے کھیتوں میں زعفران کی کامیابی سے کاشت کی گئی ہے۔ لوگ اپنے کھیتوں میں جامنی نارنجی کے پھول کھلتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ جموں کے کشتواڑ علاقے میں زعفران کی کاشت سے متاثر ہو کر راجوری انتظامیہ نے بھی ضلع میں زعفران کی کاشت پر غور کیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ وادی کشمیر کے پامپور علاقے کے علاوہ وادی سے باہر صرف کشتواڑ ضلع میں زعفران کی کاشت کی جاتی ہے۔کسان وشال چندر شرما نے کہا کہ یہ ایک خواب ہے جو پورا ہوا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ راجوری میں زعفران کی کاشت ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم جموں و کشمیر کے نئے علاقوں میں زعفران کی کاشت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے راجوری کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کا زعفران کی کاشت کے لیے حوصلہ افزائی کرنے پر اظہار تشکر کیا۔محکمہ زراعت کے حکام نے بتایا کہ وشال چندر شرما پہلے گندم اور مکئی کی کاشت کرتے تھے تاکہ ضروریات زندگی کو پورا کیا جا سکے لیکن اب وہ اپنے کھیتوں میں زعفران کی کاشت کر رہے ہیں تاکہ زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکے اور اپنی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔عہدیداروں نے بتایا کہ وشال چندر کو 15 مرلہ میں زعفران کی کاشت کرنے پر آمادہ کیا گیا تھا جس کے لئے محکمہ زراعت نے پامپور کشمیر سے زعفران کے بیج منگوائے تھے۔ ان کو بیج کے علاوہ کچھ دیگر امداد بھی فراہم کی گئی جیسے کھاد، لیبر چارجز، جڑی بوٹی مار ادویات وغیرہ۔ زعفران اگانے کا کوئی پیشگی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے کشتواڑ کے ماہرین کی مدد لی گئی جنہوں نے زعفران کی کاشت میں شرما کی مدد کی۔انہوں نے بتایا کہ بیج کی بوائی 24 اگست 2021 کو کی گئی تھی۔ 12 دسمبر 2021 کو پھول کھلنا شروع ہوئے۔ کھلنے کا عمل 15 دن تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں کل 734 پھول اور روزانہ اوسطاً 45-50 پھول نکلتے ہیں۔ جس کے بعد پھول توڑے گئے۔انہوں نے بتایا کہ آس پاس کے کاشتکار بھی متوجہ ہیں اور انہوں نے آنے والے سیزن میں زعفران کی کاشت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ عہدیداروں نے کہا کہ اب محکمہ زراعت اور کسان کے لیے چیلنج ہے کہ وہ مستقبل کی کاشت کے لیے بیجوں کو محفوظ رکھیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ زعفران کی کاشت کا ٹرائل اس سمت میں صرف ایک اور قدم ہے اور کاشتکار برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مستقبل قریب میں اور بھی بہت کچھ آنے والا ہے۔