مزید خبریں

نیوز ڈیسک
ماہ صیام میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پرساگرکوتشویش

سرینگر// نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے رمضان مبارک کے دوران عوام کو بنیادی ضروریات میسر نہ رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سحری اور افطار کے وقت ہی بجلی کی عدم دستیابی اور سڑکوں و گولی کوچوں کی صورتحال انتظامی ناکامی اور نااہلی کی کہانی خود بہ خود بیان کرتے ہیں۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے سرینگر اور جنوبی کشمیر سے آئے ہوئے عوامی وفود کیساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ وفود نے بتایا کہ رمضان المبارک میں بھی لوگوں کو بنیادی ضروریات میسر نہیں، بجلی اور پانی کی نامعقول سپلائی جاری ہے جبکہ سڑکوں اور گلی کوچوں کی حالت بہت ہی خراب ہے۔ سحری، افطار اور تراویح کے وقت لوگوں کو بجلی کی عدم دستیابی سے زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ وفود نے بتایا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور صارفین سے منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں جبکہ انتظامیہ کی طرف سے قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے۔ ساگر نے اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ ایام متبرکہ کے دوران بھی لوگوں کو اُن بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیاہے جو ماضی میں خود بہ خود میسر رہا کرتی تھیں۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو ہر سطح پر راحت پہنچانے کے لئے ٹھوس اور بروقت اقدامات اُٹھائیں۔ اُنہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ اس مقصد مہینے کے دوران بجلی ، پینے کی پانی ، صحت وصفائی کے انتظامات خصوصی طور پر سحری و افطار کے اوقات پر لوگوں کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ 

 

 

سائبرپولیس نے گھوٹالے میں ہڑپے 18لاکھ روپے شہری کو واپس دلائے

ارشاداحمد

سرینگر//سائبر پولیس کشمیر نے ایک جعلی سرمایہ کاری گھوٹالے میں ہڑپے گئے 18 لاکھ روپے بچائے ۔سائبر پولیس کشمیر زون کے ایک بیان کے مطابق سائبر پولیس سرینگر کو بانڈی پورہ کے مقامی شہری کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ، جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے ساتھ آن لائن سرمایہ کاری کے ذریعے اسکنڈل میں 18 لاکھ روپے کا دھوکہ کیا گیا۔شکایت کنندہ کے مطابق اس کے موبائل فون نمبر پر ایک جعلی سرمایہ کاری کی ویب سائٹ کا لنک ملا جس میں اس سے دوہرے مالی فوائد حاصل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے تحت اس نے ویب سائٹ تک رسائی حاصل کی جہاں وہ ای والٹ کھول کر مذکورہ ویب سائٹ پر خود کو رجسٹرڈ کرواتا ہے۔رجسٹریشن کے بعد شکایت کنندہ کو مختلف UPI لین دین کے ذریعے مذکورہ آن لائن والٹ سے 18 لاکھ کی خطیر رقم منتقل کرنے کے لیے بتایا گیا۔شکایت کنندہ شہری مطلوبہ رقم جمع کروانے کے بعد فوائد حاصل کرنے سے قاصر تھا اور آن لائن بٹوے سے اپنی رقم بھی نہیں نکال سکتا تھا۔ شکایت کنندہ نے مذکورہ کمپنی کے دستیاب رابطے کی تفصیلات تک پہنچنے کی بہت کوشش کی لیکن سب بیکار رہا۔جس کے بعد شکایت کنندہ نے اپنی شکایت کے ازالے کے لیے سائبر پولیس کشمیر زون سے رجوع کیا۔اس موقع پر سائبر پولیس کشمیر نے UPI لین دین کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے معاملہ بینک حکام کے ساتھ اٹھایا ۔لین دین کے تجزیے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ رقم ان کے PayTm نوڈل اکاؤنٹس میں ادائیگی کے گیٹ ویز کے ذریعے منتقل کی گئی ہے۔ سائبر پولیس کشمیر زون سرینگر کی ٹیم کی سخت اور بروقت مداخلت کے بعد 18 لاکھ روپے کی ادائیگی روک دی گئی اور بعد میں تمام رقم شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ میں واپس کردی گئی۔ سائبر پولیس نے عام لوگوں کو ایک بار پھر مشورہ دیاہے کہ وہ ایسے جعلی لنکس اور ویب سائٹس پر یقین نہ کریں اور کسی بھی شکل میں کسی بھی رقم کی منتقلی سے گریز کریں کیونکہ یہ مکمل طور پر جعلی ہیں۔

 

 

 

JKHPMCکے 11کروڑ روپے کے کیپکس بجٹ کو منظوری

دوآب گاہ سوپورمیں2500میٹرک ٹن صلاحیت کا کولڈ اسٹورقائم کیا جائیگا:کنسل

سرینگر//پرنسپل سیکرٹری زراعت و باغبانی نوین چودھری نے یہاں جموںوکشمیر ہارٹی کلچر  پروڈیو س مارکیٹنگ اینڈ پروسسنگ کارپوریشن ( جے کے ایچ پی ایم سی ) لمٹیڈ کی 61ویں بورڈ آف ڈائریکٹرس میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں باغبانی اور زراعت محکمے ، سکاسٹ جموں اور سکاسٹ کشمیر ، نیشنل ہارٹی کلچر بورڈ ( این ایچ بی ) ، کسان ، ایگری بزنس کنسورشیم ( ایس ایف اے سی ) ، جموںوکشمیر کے فائنانس اینڈ پلاننگ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر بات کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ کارپوریشن جلد ہی منافع بخش اور خود پائیدار بننے کی راہ پر گامزن ہے کیوں کہ کارپوریشن نے جموںوکشمیر یوٹی میں کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کے متعدد نئے اقدامات شروع کئے ہیں۔منیجنگ ڈائریکٹر جموںوکشمیر ہارٹی کلچر ل پروڈیو س مارکیٹنگ اینڈ پروسسنگ کارپوریشن ( جے کے ایچ پی ایم سی )شفاعت سلطان نے کارپوریشن کی طرف سے شروع کئے گئے مختلف پروجیکٹوں جیسے سی اے سٹوروں ، پیک ہائوسوں ، کامن انکیو بشن سینٹروں ( سی آئی سیز) ، ضلع شوپیاں کو کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( سی ڈی پی )،مرکزی وزارت برائے زراعت و بہبودکساناں کے تحت ایپل کلسٹر کے طور پر ترقی دینے کے بارے میں ایک تفصیلی پرزنٹیشن اور پیش رفت رِپورٹ پیش کی۔بورڈ نے مالی برس 2022-23ء کے لئے کارپوریشن کی 11کروڑ روپے کی کیپکس بجٹ تجاویز کو منظور ی دی جس میں دوآب گاہ سوپور میں نبارڈ اور اے آئی ایف کی فنڈنگ سے 2500  ایم ٹی  سی اے سٹور کے قیام اور دو پھلوں اور سبزیوں کی جمع کی تعمیر اور جموںوکشمیر یوٹی میں ایک پروسسنگ سینٹر کا تصور کیا گیا ہے ۔پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ شوپیاں ضلع میں کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کا نفاذ شوپیان اپیل کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لئے منسلک شراکت داروں کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔گذشتہ دو دہائیوںکے بیک لاگ آڈِٹ کی تکمیل میں کارپوریشن اِنتظامیہ کی طرف سے ریکارڈ کی گئی خاطر خواہ پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ مالی سال 2014-15ء تک کا آڈِٹ مکمل ہوچکا ہے۔نوین چودھری نے کارپوریشن اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ بقیہ مدت کے لئے آڈِٹ کو مکمل کرنے کے عمل کو تیز کرے جوکہ جے کے ایچ پی ایم سی کی طرف سے فروری 2022ء میں ’’ راجیہ سبھا کی میز پر رکھی گئی کاغذات کی کمیٹی‘‘ کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔بورڈ نے کارپوریشن اِنتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو مکمل کرے جس میں نروال جموں میں کولڈ رام اور پیک ہائوس ، دو آب گاہ میں فوڈ کلسٹر سوپور، بہرام پورہ ، بارہمولہ اور رنبیر پورہ میں سی اے سٹورز ،اننت نات کامن انکیوبشن سینٹر سیٹ ،دوآب گاہ سوپور، اچھہ بل ، اننت ناگ اور نروال جموں میں ایف وائی سال 2022-23 شامل ہیںپرنسپل سیکرٹری نے اے پی اِی ڈی اے کے زیر اہتمام چودھری گنڈ ، شوپیان ایپل پیک ہائوس پروجیکٹ کے نامکمل کاموں کے بارے میں ایم ڈی  جے کے ایچ پی ایم سی سے کہا کہ وہ ستمبر 2022ء کے آخیر تک پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لئے فوری ضروری اقدامات کریں۔بورڈ نے کارپوریشن اِنتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ اَپنے ایپل جوس پلانٹ ( اے جے پی ) ، کورڈبورڈ یونٹ ، سی آئی سیز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پائپ لائن میں آئوٹ سورس کرے تاکہ مستقبل قریب میں کارپوریشن کو منافع کمانے اور خود کوپائیدار بنایا جاسکے۔

 

 

 

کووڈ ویکسین کیلئے تعینات ٹیم پر مبینہ حملہ 

اراکین کو یرغمال بنانے کا الزام ، پولیس سے رجوع کیا گیا

سمت بھارگو

راجوری//راجوری کے کوٹرنکہ سب ڈویژن کے مدھار گائوں میں کووڈ ویکسی نیشن مہم کیلئے تعینات سٹاف ممبران کی ایک ٹیم پر کچھ افراد نے حملہ آور ہوتے ہوئے ان کو یرغمال بھی بنالیا ۔منگل کو مذکورہ گائوں میں اس وقت افراتفری دیکھنے کو ملی جب کووڈ ویکسی نیشن ٹیم اسکولی بچوں کو ٹیکہ لگانے کیلئے پہنچی لیکن علاقے کے کچھ مکینوںنے اس کی مزاحمت کی اور مبینہ طور پر ایک گھنٹے تک ٹیم کو یرغمال بنائے رکھا۔محکمہ صحت کے مطابق، معمول کے مطابق کووڈ ویکسی نیشن مہم کے تحت کنڈی بلاک سے محکمہ صحت کی ایک ٹیم تحصیل کوٹرنکا کے گاؤں مدھار بھیجی گئی اور ٹیم گورنمنٹ مڈل اسکول مدھاڑ پہنچی اور بارہ سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن شروع کیتاہم بچوں کی ویکسی نیشن شروع ہونے کے فوراً بعد پانچ سے چھ مقامی افراد نور حسین کی سربراہی میں اسکول کے احاطے میں پہنچ گئے اور محکمہ صحت کی ٹیموں کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ افراد نے محکمہ صحت کی ٹیم کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات بھی عائد کئے ۔رابطہ کرنے پر بلاک میڈیکل آفیسر کنڈی ڈاکٹر اقبال ملک نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے ویکسی نیشن کے عمل میں رکاوٹ ڈالی۔انہوں نے ہیلتھ ٹیم کو دھمکیاں دی اور ممبران پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔آفیسر موصوف نے کہاکہ پولیس سے رجوع کیا گیا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ پورے معاملہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔

 

 

لڑکی کو جسمانی سزا دینے کا معاملہ 

پولیس نے کیس درج کر کے ٹیچر کو گرفتار کرلیا 

راجوری//جموں و کشمیر پولیس نے راجوری میں ایک سرکاری اسکول ٹیچر کے خلاف ایک لڑکی کو جسمانی سزا دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔گورنمنٹ مڈل سکول کھڈوریاں میں تعینات سرکاری ٹیچر نے ایک طالبہ کو مبینہ طور پر سزا دی اور طالبات کے اہل خانہ کے مطابق اس کی پٹائی بھی کی۔ایک پریس کانفرنس میں والدین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر ضلع انتظامیہ راجوری نے مذکورہ ٹیچر کو معطل کرنے کا حکم دیا اور اسے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ کے دفتر میں منسلک کرکے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ کو معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔دریں اثنا، جموں و کشمیر پولیس نے اب طالب علم کو جسمانی سزا دینے کیلئے ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج کر کے اس کو گرفتار بھی کرلیا ہے ۔ایس ایس پی راجوری نے بتایا کہ پولیس کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ سرکاری سکول میں تعینات ٹیچر نے ایک لڑکی کی شدید پٹائی کی ہے جس کے بعد اس سلسلہ میں مزید کارروائی عمل میں لائی گئی ۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر 21/2022زیر دفعات 342,352,323, 506 درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ ٹیچر کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ۔

 

 

زراعت اورباغبانی شعبے کافروغ

نیوزی لینڈاورجموں کشمیرکی زرعی یونیورسٹیوں کے درمیان اشتراک زیرغور:نوین چودھری 

سرینگر// پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار اور بہبود کساناں و باغبانی محکمے نوین کمار چودھری نے آج یہاں ایگر ی کلچرکمپلیکس لا ل منڈی میں جے اینڈ کے ایڈوائزری بورڈ فار ڈیولپمنٹ آف کسان ( اے بی ایف ڈی کے) کے کشمیر میں مقیم نئے  مقرر کردہ ممبران کے ساتھ کسان سمیلن و استفساری میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ میں وائس چانسلر سکاسٹ (کشمیر) پروفیسر نذیر احمد گنائی ، سیکرٹری جے اینڈ کے  اے بی ایف ڈی کے عبدالحمید وانی ، ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر کشمیر ، کشمیر صوبے کے مختلف محکموں زراعت ، صنعت وحرفت ،ریشم ، بھیڑ پالن ، فلوری کلچر،ماہی پروری اور دیگر ڈائریکٹران کے علاوہ صوبہ کشمیر کے جے اینڈ کے اے بی ایف ڈی کے کے نئے مقررہ کردہ ممبران نے شرکت کی۔دورانِ سمیلن و استفساری میٹنگ بورڈ ممبران سے زمینی سطح پر حکومت کی سکیموں اور پالیسیوں کے بارے میں تفصیلی فیڈ بیک حاصل کیا گیا جو کہ نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔میٹنگ میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی کے لئے مختلف سکیموں اور اِقدامات کی عمل آوری میں درپیش مسائل پر بھی غور وخوض ہوا۔پرنسپل سیکرٹری جو ایڈوائزری بورڈ کے وائس چیئرمین بھی ہیں نے  استفساری میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ترقی پسند کسانوں سے کہا کہ وہ یہاں کے مختلف محکموں کے سے لاگو کی گئی مختلف سکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔ اُنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ تجارتی یونٹوں کو قائم کرنے کے لئے زراعت اور باغبانی جیسے روایتی شعبوں کے بجائے فلوری کلچر اور ڈیری فارمنگ جیسے دیگر شعبوں میں امکانات تلاش کریں۔پرنسپل سیکرٹری نے زراعت اور فلوری کلچرکے ڈائریکٹران سے کہاکہ وہ فلوری کلچر کی پیداوار کو باہر کی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے پرواز سکیم کو بڑھانے کے اِمکانات تلاش کریں ۔ اُنہوں نے ایم ڈی  جے کے ایچ پی ایم سی کو فلوریکلچر کی پیداوار کی مارکیٹنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے لئے کامن سروس سینٹر کے قیام کے اِمکانات تلاش کرنے کی بھی ہدایت دی۔پرنسپل سیکرٹری نے بورڈ کے اراکین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ یہاں زراعتی شعبے کو آسان بنانے اور فروغ دینے کے لئے کام کررہا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں حکومت نے یہاں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات شروع کئے ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نوین چودھری نے اِس بات پر روشنی ڈالی کہ جموں وکشمیر حکومت کا نیوزی لینڈ کے ساتھ حالیہ اشتراک سے یہاں بھیڑ پالن شعبے کی ترقی میں بہت مدد ملے گی ۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ ہم طلباء کے تبادلے کے علاوہ زرعی تحقیق اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے جموںوکشمیر کی زرعی یونیورسٹیوں کے نیوزی لینڈ کے ساتھ اشتراک کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے بورڈ کے اراکین پر زور دیا کہ وہ ڈیری فارمنگ، ٹراؤٹ فش فارمنگ جیسے دیگر شعبوں کی تلاش کے لئے کسان برادری میں بیداری پیدا کرنے کے لیے دوسرے ٹھوس اقدامات کریںاورانہوں نے کہا کہ ٹراؤٹ فش فارمنگ سیکٹر میں باغبانی شعبہ جتنا بڑا بننے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے  اقدامات کئے جانے چاہئیں۔پرنسپل سیکرٹری نے اِس بات پر مزید زور دیا کہ پولٹری بھیڑ پالن اور دیگر شعبوں میں بہتری کی کافی گنجائش ہے اور انہیں اس انداز میں تیار کیا جانا چاہیے تاکہ ان شعبوں کی مصنوعات کی درآمد کو یہاں کم کیا جاسکے۔ وادی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بورڈ ارکان نے پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اُنہوں نے کسان برادری کو درپیش متعدد مسائل اور خدشات سے پرنسپل سیکرٹری کو آگاہ کیا ۔ اُنہوں نے زراعتی ترقی پر اَپنے تجربات بھی شیئر کئے اور یہاں اس شعبے کو فروغ دینے کے لئے تجاویز بھی دیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں زرعی شعبے کی ترقی کے بارے میں ان کے قیمتی تجاویز اور خیالات کے لئے بورڈ اراکین کی تعریف کی اور انہیں یقین دِلایا کہ محکمہ کاشت کاری برادری کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔واضح رہے کہ یہ کسان سمیلن و استفساری میٹنگ اِس مقصد کے ساتھ منعقد کی گئی تھی کہ زراعت اور متعلقہ شعبوں کے اَفسران کا کشمیر صوبہ کے بورڈ ممبران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جائے اور ان سے حکومت کی سکیموں اور پالیسیوں کے بارے میں رائے حاصل کرنے کے علاوہ بات چیت کی جائے ۔

 

 

 

جموں کشمیرمیںمیانمار اور بنگلہ دیش کے غیرقانونی تارکین وطن

عدالت عالیہ نے شناخت کیلئے حکومت کو چھ ہفتوں کی مہلت دی

جموں//جموں کشمیرہائی کورٹ نے حکومت کو مرکزی  زیرانتظام علاقہ میں غیرقانونی طور آبادمیانماراوربنگلہ دیشی باشندوں کوشناخت کرنے کیلئے چھ ہفتوں کی مہلت دی ہے۔جسٹس پنکج مشرااورجسٹس مکیش کھجوریہ پرمشتمل بنچ نے مفادعامہ کی ایک عرضی، جوایڈوکیٹ ہنرگپتانے دائر کی تھی اور جس میں ایسے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی،پریہ حکم صادر کیا۔بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ عمل فوری طور چھ ہفتوں کے اندر شروع کیاجاناچاہیے ۔حکم میں جموں کشمیر کے داخلہ سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اورایسے غیرقانونی تارکین وطن کو شناکت کرنے کیلئے لائحہ عمل تیارکریں۔ بنچ کے مطابق جموں کشمیرکے سانبہ اورجموں اضلاع میں ایسے 13700غیرقانونی تارکین وطن آباد ہوچکے ہیںاوران کی آبادی میں 2008اور2016کے درمیان 6000سے زیادہ کااضافہ ہوا ہے۔اس سے قبل عرضی گزار کے طرف سے پیش ہوئے وکیل سنیل سیٹھی نے کہا کہ ایسے غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت آسان ہے اورحکومت کو اس کیلئے ایک مکمل لائحہ عمل تیار کرناچاہیے اورعدالت کو ایسے تمام غیر قانونی تارکین وطن کی فہرست پیش کرنی چاہیے۔عدالت نے کہا کہ24مئی2017  کومفاد عامہ کی ایک عرضی  حکومت نے وزراء کاگروپ تشکیل دیاتھا جو میانماراوربنگلہ دیش کے غیرقانونی تارکین وطن سے متعلق معاملات کو دیکھتا۔  وزراء کاگروپ اس معاملے پرغور کرکے اپنی رپورٹ پیش کرتا لیکن تاحال ایساکچھ نہیں کیا گیا۔اس دوران جموں کشمیرریاست کوتقسیم کیاگیااور دومرکزی زیرانتظام علاقے معرض وجودمیں لائے گئے۔حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینہ اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رمن شرما پیش ہوئے اور کیس کی اگلی سماعت15جولائی کو مقررکی گئی ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 قبائلی طلباء کیلئے اسکالر شپ پالیسی |مسودہ تیار کرنے کیلئے پینل تشکیل  

جموں//جموں و کشمیر کی حکومت نے موسمی تعلیمی مراکز میں داخلہ لینے والے 34000 سے زائد طلباء جو 6 ماہ کیلئے سالانہ ہجرت کے دوران پہاڑی چراگاہوں میں کام کرتے ہیں، کیلئے خصوصی اسکالر شپ پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کیلئے افسران کا ایک پینل تشکیل دی ہے ۔قبائلی امور کا محکمہ نقل مکانی کرنے والی کمیونٹیز میں پرایمری تعلیم کی ترغیب دینے اور اسے فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات پر کام کر رہا ہے ۔ اسپیشل سیکرٹری قبائلی امور محمد ہارون ملک کی سربراہی میں پینل میں ڈائریکٹر قبائلی امور مشیر احمد مرزا ، سیکرٹری ایڈوائزری بورڈ مختار احمد ، ایڈیشنل سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹرز قبائلی امور محکمہ جموں و کشمیر شامل ہیں ۔ کمیٹی ماہرین کے ارکان کو بھی پینل میں شامل کرے گی اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی ۔ قبائلی امور کے محکمہ کے سیکریٹری ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے بتایا کہ 2021 میں کئے گئے سروے کے مطابق 6.12 لاکھ کی آبادی پہاڑی چراگاہوں کے ساتھ ساتھ دیگر مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ریاستوں کی طرف نقل مکانی کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 12000 موسمی تعلیمی مراکز میں 34000 سے زائد طلباء نے داخلہ لیا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قبائلی امور کے محکمے نے مارچ 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال 2021-22 کیلئے اب تک کی سب سے زیادہ 31.12 کروڑ روپے کی اسکالر شپ فراہم کی تھی جس میں زیادہ سے زیادہ قبائلی طلباء کو شامل کیا گیا تھا ۔ 13.50 کروڑ روپے کی پری میٹرک بجٹ میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلباء کو شامل کیا گیا تھا جبکہ 9 ویں اور 10 ویں جماعت کے طلباء کو 2.22 کروڑ روپے اور گریجویٹ اور پوسٹ میٹرک طلباء کو 15.40 کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے ۔ اسکالر شپ بجٹ کو اب مزید بڑھا کر 45.00 کروڑ روپے کا ریکارڈ کیا گیا ہے تا کہ ہجرت کرنے والے موسمی تعلیمی مراکز میں داخلہ لینے والے طلباء کیلئے خصوصی اسکالرشپ اسکیم اور دیگر کلاسوں میں بھی اضافہ کیا جا سکے ۔ اس کے علاوہ رواں سال موسمی تعلیمی مراکز میں بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔