مزید خبریں

نیوز ڈیسک
راج گڑھ میں ٹریکٹرحادثے ایک شخص کی موت

محمد تسکین

بانہال//ضلع رام بن کے بھبروٹہ راج گڑھ میں ہاتھ سے چلائے جانے والے ٹریکٹر ٹرالر کی زد میں آنے سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ہے ۔55سالہ رستم علی ساکنہ بھبروٹہ راج گڑھ ضلع رام بن کی موت اس وقت واقع ہوگئی جب وہ خود کھیتوں میں ہاتھوں سے چلائے جانے والے 12 ہارس پاور کے اس ٹریکٹر کو چلا رہے تھے کہ وہ اس کی زد میں آیا اور ہل جوتنے والے لوہے کے بلیڈوں کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوا اور ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کے دوران وہ لقمہ اجل بنا۔

 

 

 

 

 

ہرش دیو کی کجریوال سے ملاقات ، جموں و کشمیر کے مسائل پر تبادلہ خیال

نیوزڈیسک

نئی دہلی//سابق وزیر اورعام آدمی پارٹی لیڈر ہرش دیو سنگھ نے پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے ساتھ نئی دہلی میں میٹنگ کی اور جموں و کشمیر سے متعلق کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔قابل ذکر ہے کہ ہرش دیو سنگھ نے کل ہی کئی دیگر سینئر لیڈروں اوریوٹی کے سرکردہ سیاسی افراد کے ساتھ عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔کجریوال کو جموں و کشمیر میں موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے، ہرش دیو نے کہا کہ سابقہ ریاست طاقتوں کے لاپرواہ طرز عمل کی وجہ سے ہلچل مچا دی تھی۔انہوںنے کہا”بدترین حکمرانی کے ساتھ، معیشت، تجارت، سیاحت اور عمومی ترقی کو پچھلے چند سال کے دوران سب سے مہلک دھچکا لگا ہے۔ بجلی اور پانی کے بحران نے پورے یوٹی میں حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی پیدا کر دی۔ بدعنوانی کا ایک گہرا کلچر رائج ہے جس میں عام لوگوں کا پچھلے تین سال سے زیادہ عرصے سے سابقہ ریاست پر جبری مرکزی حکمرانی پر اپنا اعتماد ختم ہو گیا” ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بے روزگار اور دیگر کم روزگار نوجوان حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ محض خرچ کے طور پر سلوک کرنے سے سب سے زیادہ مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کو فائدہ مند روزگار میں شامل کرنا، DRWs اور ٹھیکیداروں کو ریگولرائز کرنا آنے والے دنوں میں AAP کی ترجیح ہونے کی ضرورت ہے۔کجریوال نے سنگھ کو تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ منصفانہ ڈیل کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نے 10 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی ہیں اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے اقدام کے طور پر اضافی مواقع پیدا کرنے کے عمل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ عارضی ملازمین کی بروقت ریگولرائزیشن کے لیے پرعزم ہیں۔ کجریوال نے پارٹی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں یو ٹی کے لوگوں کو مفت بجلی اور پینے کا پانی فراہم کرنے کے پارٹی کے عزم کو دہرایا۔انہوں نے ہرش دیو سنگھ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ پارٹی ان کی سیاسی ذہانت اور تجربے سے بہت فائدہ اٹھائے گی۔  

 

 

 

ڈوگری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کی خواہش کا فقدان: ڈوگری سنستھا

کچھ لوگ سنٹر فار ایکسی لینس کے قیام سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کا انجام جاننا چاہتے ہیں 

سید امجد شاہ

جموں// ڈوگرہ فن، ثقافت اور زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کر رہی ایک تنظیم ’’ڈوگری سنستھا‘‘ نے جموں و کشمیر حکومت کے روزمرہ کے کام میں ڈوگرہ زبان کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے میں عدم دلچسپی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔اگرچہ اسے دیگر زبانوں کے ساتھ جموں و کشمیر کی سرکاری زبان قرار دیا گیا تھا، اس کے باوجود اس حکم پر عمل درآمد کی روشنی ابھی تک نظر نہیں آئی۔معروف ماہر تعلیم اور ڈوگری سنستھا کے صدر للت منگوترا نے کہا کہ انہیں ڈیڑھ سال پہلے خوشی ہوئی جب حکومت نے ڈوگری زبان کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں میں سے ایک قرار دیاتھا۔ان کا کہناتھا”تاہم، یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔ کوئی بھی سرکاری محکمہ، ریونیو کا کام، محکمہ پولیس یا عدالت ڈوگری زبان میں احکامات جاری نہیں کرتی”۔ انہوں نے کہا کہ مہذب زبان ہونے کے باوجود ڈوگری زبان کو بے حسی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈوگری جسے سرکاری زبان قرار دیا گیا ہے اس کا مطلب ہے وہ زبان جسے سرکاری طور پر استعمال کیا جا سکے تاہم، زمین پر اسے نافذ کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہناتھا’’سرکاری دفاتر میں کوئی انفراسٹرکچر ڈوگری بولنے والے لوگوں کی سمجھ کے لیے ڈوگری کو سرکاری زبانوں میں سے ایک کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔ یہ احکامات بنیادی طور پر انگریزی زبان میں جاری کیے جا رہے ہیں اور اکثر ڈوگری بولنے والے شخص کے لیے یہ مشکل ہو جاتا ہے جو انگریزی زبان نہیں جانتا ہے۔ اسے یہ بتانے کے لیے دوسروں پر منحصر رہنا پڑتا ہے کہ سرکاری محکموں کی طرف سے جاری کردہ آرڈر یا پمفلٹ یا نوٹس میں کیا لکھا گیا ہے‘‘۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر شعبے جیسے زراعت اور جموںصوبہ کے پرائمری سکولوں میں ڈوگری جاننے والے ٹیچنگ میں ایک ڈوگری بولنے / لکھنے والا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اساتذہ نہیں ہیں حالانکہ جموں یونیورسٹی میں ہمارا ایک شعبہ ہے۔ایک اور ماہر تعلیم نے نام مخفی رکھنے کی شرط پرکہا کہ “حال ہی میں جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے ایک سنٹر آف ایکسی لینس کا اعلان کیا گیا تھا اور ہم سب خوش تھے کہ آخر کار ڈوگری زبان پر سنجیدہ تحقیقی کام کرنے کے لیے کچھ کیا گیا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ “اس کے مطابق، ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو ماہرین/تعلیم کے ماہرین سے تجاویز طلب کرے گی کہ سنٹر آف ایکسی لینس کے قیام کے حوالے سے کیا کیا جائے اور کیسے کیا جائے۔”انہوںنے مزید کہا”اس کمیٹی کی سفارشات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ایک تفصیلی مقالہ بھی پیش کیا گیا۔ لیکن ہمیں کمیٹی کے ارکان کی طرف سے دی گئی تجاویز کا انجام نہیں معلوم ‘‘۔انہوںنے کہا کہ ڈوگری بولنے والے لوگ مایوس ہیں اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ثقافت (ڈوگری) کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔

 

 

 

سنگلدان گول میں چرس سمیت دو گرفتار

رام بن// جموں و کشمیر پولیس نے اتوار کو گول کے سنگلدان علاقے میں دو افراد کو 117 گرام چرس اور تین لاکھ روپے نقدی کے ساتھ گرفتار کیا۔پولیس نے بتایا کہ معمول کی چیکنگ کے دوران سنگلدان پولیس چوکی کی ایک پولیس پارٹی نے دو پیدل چلنے والوں کو سگنل نظر انداز کرتے ہوئے رکنے کا اشارہ کیا۔ دونوں راہگیروں نے مشکوک حرکتیں شروع کر دیں اور بھاگنے کی کوشش کی لیکن چوکس پولیس پارٹی نے انہیں قابو کر لیا۔جسمانی تلاشی کے دوران ان سے 117 گرام چرس اور تین لاکھ روپے کی نقدی برآمد ہوئی، دونوں کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔پولیس نے دونوں کی شناخت غلام محمدولد عبدالغنی ساکن داڑم اور محمدایوب ولدگل محمد ساکنہ گگرسولہ ضلع رام بن کے طور پر کی ہے۔پولیس نے تھانہ گول میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 42 درج کیا ہے۔

 

 

 

این ایچ ایم ملازمین سے اظہار ِ یکجہتی

جموں//اپنی پارٹی یوتھ ونگ صوبائی صدرجموں وپل بالی نے قومی صحت مشن ملازمین کے جاری احتجاج کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اپنی پارٹی این ایچ ایم ملازمین کے درینہ مطالبہ کی حمایت کرتی ہے جوکہ لگاتار اپنی ملازمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمگیرکویڈ19بحران کے دوران جموں وکشمیر میں حکومت نے اُن کی خدمات حاصل کیں اور این ایچ ایم ملازمین نے مشکل گھڑی میں تندہی سے کام کیا لیکن آج بلاوجہ حکومت نے اُنہیں ملازمتوں سے نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا ہے کیونکہ اسپتالوں اور صحت شعبہ میں عملہ کی قلت ہے اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی مفادات میں این ایچ ایم ملازمین کی خدمات کو جاری رکھاجانا چاہئے۔

 

 

حد بندی کمیشن سفارشات امتیازی:مدن لال چلوترہ

رپورٹ سیاسی طور ایک جماعت کو فائیدہ پہنچانے کے لئے بنائی گئی ہے 

جموں//اپنی پارٹی او بی سی سیل کے ریاستی کارڈی نیٹر مدن لال چلوترہ نے جموں وکشمیر میں حد بندی کمیشن سفارشات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوامی مفادات کے خلاف ہے۔ اِس کو صرف ایک سیاسی جماعت کو فائیدہ پہنچانے کے لئے تیار کیاگیا۔ ایک بیان میں چلوترہ نے کہاکہ او بی سی طبقہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں سخت ناراضگی ہے جنہیں نہ صرف نظر انداز کیاگیا بلکہ اُن کے حلقوں کو ریزرو بھی کر دیاگیا۔ حد بندی عمل سے لوگوں کے مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کو فائیدہ پہنچایاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ بے گھر افراد(DPs)، او بی سی طبقہ جات، جاٹ برادری اور سرحدی گاؤں کے لوگوں میں کمیشن رپورٹ کیخلاف غم وغصے کی لہر ہے کیونکہ اُنہیں نہ ہی ریزرویشن دی گئی اور نہ ہی اُن کی نشستیں مخصوص کی گئیں۔ اِس کے بجائے کمیشن نے اپنی رپورٹ سے سماج کو تقسیم کر دیا ہے جوکہ کسی صورت میں قابل ِ بردداشت نہیں۔ بیان کے مطابق اِس سے قبل مدن لال چلوترہ نے اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری سے ملاقات کی اور اُنہیں او بی سی برادری میں حد بندی کمیشن رپورٹ متعلق پائے جارہے غم وغصہ متعلق آگاہ کیا۔ او بی سی سیل جنرل سیکریٹری درشن مہرہ، گاندھی سنگھ، کلبیر سنگھ، پریم ساگر، سکھوندر سنگھ لاڈی اور نریندر سنگھ بھی وفد میں شامل تھے۔

 

 

 

ریڈ کراس دن پر فوج کی طرف سے خون کے عطیہ کا کیمپ منعقد

 عاصف بٹ

کشتواڑ//فوج نے ریڈ کراس کے عالمی دن پر ضلع ہسپتال کشتواڑ میں خون کے عطیہ کیمپ کا انعقاد عمل میں لایا۔ ریڈکراس سوسائٹی کے اشتراک سے فوج کی  11 راشٹریہ رائفلز نے ضلع ہسپتال کشتواڑ میں خون کا عطیہ کیمپ منعقد کیا۔ فوج نے یہ قدم ہسپتال میں بلڈ بینک میں خون کی دستیابی کو بہتر بنانے اور ضلع کشتواڑ کے لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کیا۔خون عطیہ کیمپ کے دوران 11 راشٹریہ رائفلز ڈوگرہ کے 42سپاہیوں نے رضاکارانہ طور پر اپنا خون عطیہ کیا  جو عوام اور جوان کے درمیان بندھن کو مضبوط کرتا ہے۔ اس موقع پر ضلع  ترقیاتی کمشنراشوک کمار شرما نے فوجیوں کے جذبے کی بہت تعریف کی اور مقامی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔

 

 

 

کشتواڑ پولیس نے ضلع بھر میں تھانہ دیوس منایا 

عاصف بٹ 

کشتواڑ//کشتواڑ پولیس نے ضلع کے تمام پولیس سٹیشنوں میں تھانہ دیوس کا انعقاد کیا۔ پبلک آؤٹ ریچ پروگراموں میں عام لوگوں کی متعدد شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا جبکہ پولیس افسران نے شرکاء کے مسایل کی سماعت کی اور ضلع کے دیگر محکموں سے متعلق مسائل کو انکے  اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ سپروائزری افسران کی طرف سے اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ تھانہ دیوس کا مقصد متاثرہ افراد کو انتہائی شفاف اور منصفانہ طریقے سے بروقت اور موثر خدمات کو یقینی بنانا ہے۔شرکاء نے اپنے اپنے علاقوں میں امن و امان اور منشیات سے پاک اور جرائم سے پاک ماحول کو برقرار رکھنے میں کشتواڑ پولیس کے ساتھ تعاون کرنے پر زور دیا۔  

 

 

 

بانہال میں رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کی طرف سے

 

 

 زونل ایجوکیشن پلانگ آفیسر کی سبکدوشی پر تقریب کا انعقاد

 بانہال // بانہال میں رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کی طرف سے زونل ایجوکیشن پلانگ آفیسر بانہال ریاض احمد وانی کی سبکدوشی پر ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر پرنسپل ہائر سیکنڈری اسکول بانہال عبدل الرشید گیری، زونل ایجوکیشن افیسر بانہال محمد شفع گیری، رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کے یو ٹی چیرمین فاروق احمد تانترے کے علاوہ ایجوکیشن زون بانہال کے دیگر رہبر تعلیم اساتذہ اور مقامی معززین موجود تھے۔ تقریب میں مقررین نے ریاض احمد وانی کی 35 سالہ سروس کے دوران محکمہ میں ان کے ٹیچر سے لیکر زونل ایجوکیشن پلانگ آفیسر کی حیثیت سے محنت اور ایمانداری سے انجام دئے گئے فرائض پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے محکمہ کے علاوہ ان کی طرف سے انجام دے جارہے سماجی اور فلائی کاموں میں بھی پیش پیش رہنے پر ان کی سراہنا کی۔اس موقع پر ریاض احمد وانی نے اس تقریب کا انعقاد کرنے پر رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کا شکریہ ادا کیا اور کہاں کہ ان کی عزت افزائی کے لئے جس قدر اس تقریب کو منعقد کیا گیا تھا وہ اس کے لئے فورم کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

 

 

 

گگرسولہ گول میں دارالعلوم غوثیہ اسراریہ کا سنگ بنیاد

 زاہد بشیر

گول//ضلع رام بن کے سب ڈویژن کے دور دراز علاقہ گگر سولہ میں علماء کی زیر نگرانی میں ایک دارالعلوم غوثیہ اسراریہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ علماء کرام نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر یہاں آئے ہوئے معزز شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ دینی تعلیم دونوں جہانوں کی نجات کے لئے ہے جس کے لئے پوری دنیا میں دینی ادارے کام کر رہے ہیں اور یہی دونوں جہانوں میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دینی اداروں میں زیادہ سے زیادہ خرچ کریں تا کہ ان اداروں سے علماء کرام نکلیں گے اور یہ ادارے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت کر سکیں ۔ انہوں نے یہاں آئے ہوئے لوگوں سے کہا کہ وہ گھروں کو اس نور سے روشن کریں اور اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینے میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لیں تا کہ اس دور افتادہ علاقہ میں دینی تعلیم گھر گھر پہنچے ۔اس موقعہ پر یہاں پر وقف کی گئی مدرسے کے لئے اراضی کے مالک کا بھی شکریہ ادا کیا اور ان کے لئے دعا کی گئی ۔ اور لوگوں سے اپیل کی کہ مدرسے کی تعمیر میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں تا کہ جلد سے جلد یہ مدرسہ تعمیر ہو سکے ۔