مزید خبریں

نیوز ڈیسک
 بی جے پی جموں و کشمیر میں پراکسی حکومت چلا رہی ہے: رویندر شرما

ریاستی درجہ کی بحالی، اسمبلی انتخابات کے انعقاد پر وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا

جموں//بی جے پی جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے پراکسی حکومت چلانے کا الزام لگاتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی   ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستی درجہ کی بحالی اور یونین ٹیریٹری میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا حوالہ نہ دے کرجموں و کشمیر کے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔انہوں نے کہا’’وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے فلور پر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے وعدے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا، جب وہ پہلی بار یہاں تشریف لائے تھے، ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ بعد اسے منقطع کر دیا گیا تھا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ “وزیراعظم نے جموں و کشمیر میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے امکان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بتایا۔ تاہم، وزیر اعظم سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ تمام طبقات کے لوگوں کی امنگوں کو پورا کریں گے، جو مکمل ریاست کی بحالی اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کی جلد بحالی کے خواہاں ہیں، لیکن اس نے ثابت کردیا ہے کہ بی جے پی نوکر شاہی حکومت کے تحت لوگوں کی امنگوں اور مشکلات کی پرواہ نہیں کرتی، عوام کے سامنے جوابدہ نہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “تمام لوگوں کو حیرت ہوئی جب تاریخی ڈوگرہ ریاست کو یکطرفہ طور پر بغیر کسی دلیل کے اگست 2019 میں توڑ دیا گیا اور نیچے گرا دیا گیا لیکن پارلیمنٹ کے فلور پر یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے جلد بحال کیا جائے گا اور حالات بہتر ہوں گے۔”بیان میں کہا گیا ہے کہ “تمام لوگ ایک آواز میں چھینی گئی ریاست کی بحالی اور جمہوریت کی جلد بحالی کے خواہاں ہیں لیکن مودی حکومت کو لوگوں کی فریاد کی کم از کم پرواہ نہیں ہے،” بیان میں کہا گیا ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ “بی جے پی ایل جی انتظامیہ کے ذریعے پراکسی حکومت چلا رہی ہے اور اس نے اپنے مفادات کو فروغ دیا ہے۔ لہذا کسی نہ کسی بہانے اسمبلی انتخابات میں تاخیر ہو رہی ہے۔

 

 

 

ہجرت کی تحقیقات کے حق میں کشمیری پنڈتوں کا احتجاجی دھرنا

 جموں//وادی سے کشمیری پنڈتوں کے اخراج کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کمیونٹی کے ارکان نے اتوار کو دھرنے پر بیٹھ کر وزیر اعظم نریندر مودی کی توجہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دورے کے دوران مبذول کرائی۔ سندیپ ماوا کی قیادت میں کشمیری پنڈت رضاکار (کے پی وی) اپنے مطالبات کے حق میں سری نگر میں گزشتہ چار دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔کے پی وی ممبران کا ایک اور گروپ، وکرم کول کی قیادت میں، یہاں پریس کلب کے قریب دھرنے پر بیٹھ گیا، جس نے مودی کے علاقے کے دورے کے پیش نظر پولیس کو انہیں خالی کرنے کا اشارہ کیا۔کم از کم 200 مزید ممبران یہاں مٹھی گھاٹ پر دھرنے پر بیٹھ گئے اور 1990 کی دہائی میں کشمیر میں ملی ٹینسی کے ابھرتے ہوئے ہلاکتوں اور مندروں کی تباہی کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ماوا نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ چند دنوں میں ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ خود کو آگ لگا لیں گے۔وہ فاروق احمد ڈار عرف بٹا کراٹے کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جس نے مبینہ طور پر 90 کی دہائی کے دوران درجنوں پنڈتوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔جموں میں دھرنے کی قیادت کرنے والے کول نے کہا”ہم، بے گھر کشمیری پنڈت، ان کی (ماوا کی) حمایت میں آئے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ تین مطالبات تسلیم کیے جائیں، اور ڈاکٹر سندیپ ماوا کو خود سوزی سے بچایا جائے۔ ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں” ۔

 

 

صوبہ جموں میں کورونا معاملات جموں ضلع تک محدود،5نئے معاملات

9اضلاع میں کوئی کیس نہیں

 32افراد اس وقت بھی زیرعلاج،مجموعی ہلاکتیں بدستور2328پر

نیوز ڈیسک

جموں//حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ جموں میں کورونا وائرس کے05نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںتاہم اس دوران کوئی شفایابی نہیں ہوئی ہے جبکہ صوبہ جموں میں 32افراد اس وقت مجموعی طور اس مرض سے جوجھ رہے ہیں۔بلیٹن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ضلع وار کووِڈمثبت معاملات کی رِپورٹ فراہم کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ صوبہ جموں کے ضلع جموںمیں05نئے معاملات سامنے آئے ہیںجبکہ راجوری ادھم پور ، کٹھوعہ ،ڈوڈہ ، سانبہ ،کشتواڑ ، پونچھ ، رام بن اور رِیاسی اضلاع سے کسی مثبت معاملے کی کوئی رِپورٹ نہیں آئی ہے۔یاد رہے کہ صوبہ میں کورونا کی تین لہروں کے دوران مجموعی طور اب تک 2328افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 2,48,91,503ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  24؍اپریل2022کی شام تک2,44,37,513نمونوں کی رِپورٹ منفی اور 4,53,990 نمونوں کی رِپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔علاوہ ازیں اَب تک64,40,319افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ اِن میں29,201اَفراد کو گھریلو قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔53فراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ4,96,548اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطابق59,09,766اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔کووِڈ ویکسی نیشن کے بارے میں بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 5,116کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں جس سے ٹیکوں کی مجموعی تعداد 2,25,77,241.تک پہنچ گئی ہے ۔اِس کے علاوہ جموں و کشمیر میںزائد اَز 18 برس عمر کی صد فیصد آبادی کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔

 

 

 

بشناہ کے گاؤں میں پراسرار دھماکہ، ’شہاب ثاقب ‘ ہونے کا شبہ

جموں// بشناہ کے للیانہ گاؤں کے زرعی کھیتوں میں اتوار کو ایک پراسرار دھماکہ ہوا جس سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا حالانکہ کھیتوں سے سوائے ایک سوراخ کے کچھ برآمد نہیں ہوا۔بشناہ میں متعلقہ علاقے کے پولیس افسر نے بتایا کہ پراسرار دھماکے کے بعد کالی زمین کا نمونہ ایف ایس ایل میں جانچ کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ “للیانہ گاؤں کے کھلے میدانوں میں صبح 4:35 بجے کے قریب ایک پراسرار دھماکہ ہوا اور اس نے دھماکے کی جگہ سے بمشکل 60 میٹر کے فاصلے پر واقع مکان کی کھڑکیوں کے شیشے کو نقصان پہنچایا۔”پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا‘‘پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی۔ تاہم ہمیں دھماکے کی جگہ سے کوئی کرچ نہیں ملا اور نہ ہی گھر کی دیواروں پر کوئی ایسی چیز ملی جہاں دھماکے کے بعد کھڑکیوں کے شیشوں کو نقصان پہنچا تھا” ۔پولیس کا کہنا تھا کہ یہ آسمانی بجلی گرنے یا شہاب ثاقب لگ رہا ہے اس لیے سیاہ زمین کے نمونے ایف ایس ایل کو بھیجے گئے۔پولیس نے کہا “دھماکے کے فوراً بعد، سیکورٹی ایجنسیاں موقع پر پہنچ گئیں لیکن انہیں پراسرار دھماکے کے بعد سوراخ میں بلیک ارتھ کے علاوہ دھماکہ خیز مواد کی بو سے متعلق کوئی چیز نہیں ملی”۔پولیس نے مزید بتایا کہ وہاں پہنچنے والے کچھ مقامی لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آٹھ سال قبل بشناہ کے ایک اور گاؤں میں بھی ایسا ہی دھماکہ ہوا تھا۔ پولیس نے مزید کہا”ابتدائی طور پر، لوگوں کا خیال تھا کہ یہ مارٹر دھماکہ ہو سکتا ہے یا عسکریت پسندی سے متعلق کوئی چیز۔ لیکن اس میں دھماکہ خیز مواد یا مارٹر دھماکے کے ساتھ کچھ نہیں تھا۔ ہم ایف ایس ایل کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔وزیر اعظم کے سانبہ ضلع میں پلی پنچایت کے دورے کے پیش نظر سیکورٹی ایجنسیاں پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھیں۔

 

 

 

خاتون چور گرفتار، 5 لاکھ روپے کا مسروقہ سامان برآمد

جموں//پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پولیس چوکی پنج تیرتھی کے ایک علاقے میں چوری شدہ 5 لاکھ روپے مالیت کے سامان کی برآمدگی کے ساتھ ایک چوری کی واردات پر کام کیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ انہیں پولیس چوکی پنج تیرتھی میں ایک شکایت درج کرائی گئی جس میں شکایت کنندہ وکرانت شرما نے بتایا کہ کامن ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر، ریڈیو اسٹیشن پنجتیرتھی سے 5 لاکھ روپے کا ایک ریڈیو کا سامان اور کچھ دیگر سامان چوری ہو گیا ہے۔ایف آئی آر نمبر 48/2022 زیردفعہ380 IPC تھانہ پکا ڈنگہ میں درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔ اس کے بعد ایس ڈی پی او نارتھ شرد کالو کی نگرانی میں تھانہ پکا ڈنگہ کی خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ایس ایچ او پی ایس پکا ڈنگہ انسپکٹر رگھوبیر سنگھ کی قیادت میں انچارج پی پی پنج تیرتھی پی ایس آئی راہول شرما کی مدد سے ٹیم نے سخت کوششیں کیں اور مختلف لیڈز کو جوڑنے کے بعد راجیو نگر ناروال بائی پاس جموں کے رہنے والے لیفٹیننٹ سورج پرکاش کی بیوی موہنی نامی خاتون کو پکڑا۔مکمل پوچھ گچھ پر اس نے اعتراف کیا کہ اس نے ریڈیو کا سامان چوری کیا تھا اور اس کے انکشاف پر اس کے قبضے سے 5 لاکھ روپے مالیت کا ریڈیو کا سامان برآمد ہوا ہے۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

 

 

 چھاترو کے زلعہ کی عوام 14 برسوںسے سڑک تعمیر کی منتظر  

 عاصف بٹ

کشتواڑ// اگرچہ انتظامیہ زمینی سطح پر ہر بنیاری سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہیں تاہم کشتواڑ ضلع کے دورافتادہ علاقہ جات میں یہ سبھی دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں جہاں عوام آج بھی سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ سب ڈویژن چھاترو سے محض تین کلومیٹر کی دوری پر واقع زلعہ کی عوام گزشتہ 14سال سے سڑک تعمیرکی منتظر ہے۔علاقہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ سال 2008 میں علاقہ کیلئے سڑک کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور ایک نالے پر ڈائیورشن بنایا گیا جو سال 2009 میں سیلاب آنے کے سبب بہہ گیا تاہم اسکے بعد اس سڑک پر دوبارہ کام شروع نہ ہوسکا۔ وارڈ ممبر بشیر احمد نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر کا کام محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے عمل میں لایاجسکے بعد سال 2009 میں کام رک گیا جسکے بعد اگرچہ ہم نے متعدد مرتبہ اعلیٰ حکام کو آگاہ بھی کیا لیکن آج تک کسی نے ہماری بات نہ سنی، ہمیں یہ بتایا گیا کہ اسے اب نبارڈ پلان میں لایا گیا ہے لیکن آج تک معاملہ جوںکا توں ہے۔ علاقہ کی آبادی 600 سے زائد افراد پر مشتمل ہے لیکن باجود اسکے علاقہ کو نظر اندار کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہا کہ اگرعلاقہ میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو مریضوں کو کاندھوں پر اٹھاکر کئی کلومٹر پیدل سفر کرنے کے بعدسڑک پرپہنچنا پڑتا ہے جبکہ علاقہ میں بجلی کا نظام بھی موجود نہیں ہے۔ علاقہ کے لوگوں نے ضلع انتظامیہ و متعلقہ محکمہ کے ا علیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ علاقہ میں آکر حالات کا جائزہ لے اور اس سڑک کی تعمیر جد از جلد مکمل کرے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے دوچار نہ ہوناپڑسکے۔

 

 

 

 آگ کی شبانہ واردات میں پرائمری سکول نارین خاکستر 

عاصف بٹ

کشتواڑ//سب ڈویژن چھاترو کے علاقہ نارین میں سنیچر کی دیر رات آگ کی ہولناک واردات میں سرکاری سکول کی عمارت جل کر خاکستر ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق پرایمری سکول نارین میں آگ دیررار قریب ا یک بجے لگی جسکے بعد مقامی لوگوں نے بچائو کاروائی عمل میں لائی تاہم تب تک سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچاتھا۔ اگرچہ آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ نہ چل سکا تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکول میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔ انھوں نے شبہ ظاہر کیا کہ سکول میں آگ لگائی گئی ہے۔ وہیں اس معاملے کو لیکر پولیس نے بھی تحقیقات عمل میں لائی ہے۔محکمہ تعلیم کے ایک افسر نے بتایا کہ سکولی ڈھانچے کو بہتر بنانے کیلئے امسال ہی چھ لاکھ روپے کی رقم آئی تھی لیکن اب آگ کی واردات  کے بعد یہ رقم کافی نہیں جسے اب اسمیں مزید وقت لگے گا۔مقامی لوگوں نے اس واقعہ کو لیکر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 

 

 

کوترنا میں 5 سالہ بچے کی  نالے میں ڈوبنے سے۔موت 

عاصف بٹ

کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کی سب ڈویژن چھاترو کے علاقہ کوترنا میں ایتوار کی صبح دلدوز واقعہ رونماہوا جب علاقے کا 5 سالہ بچے کی  نالے میں ڈوبنے سے موت واقع ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب پیش آیا جب ارجن کمار ولد بودھ راج نامی بچہ پانی لانے کیلئے نالے کی طرف گیاجس دوران اس کا پیرپھسل گیااور وہ پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا۔ بعدمیں فوج ، مقامی لوگوں ،پولیس و ایس ڈی آر ایف نے بچائو کاروائی عمل میں لائی تاہم اسکا کوئی سراغ نہ ملا۔ جبکہ آخری اطلاع ملنے تک اسکی نعش بازیاب نہ ہوسکی۔

 

 

رام بن میں 309 ٹیکے لگائے گئے، 485 نمونے جمع 

رام بن// محکمہ صحت نے رام بن ضلع میں 309 افراد کو کووڈ ویکسین کی خوراکیں دیں۔کوویڈ پروٹوکول نافذ کرنے کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر 3800روپے جرمانہ عائد کیا۔ انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کے علاوہ اپنے قریبی CVC پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراک لیں۔اس دوران محکمہ صحت نے 485 نمونے اکٹھے کیے ہیں جن میں 355 آر ٹی پی سی آراور 130آر اے ٹی نمونے شامل ہیںجبکہ اس کے علاوہ ضلع کے مختلف مخصوص ویکسی نیشن مراکز میں 309 افراد کو کووِڈ ویکسین دی گئی ہے۔ .

 

 

 

 

 

ٹھیکیداروںکی کارڈوں کی تجدید کے حوالے سے میٹنگ 

سرینگر//کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کشتواڑ نے کارڈوں کی تجدید کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کارڈز کی تجدید کے لیے ضرورت سے زیادہ رسمی کارروائیوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ٹھیکیدار برادری کے ساتھ انصاف کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹھیکیداروں کے کارڈز کی تجدید کے لیے بہت سے فارمیلٹیز مانگ رہی ہے جس کی وجہ سے ہماری کمیونٹی کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایل جی انتظامیہ سسٹم کو آسان بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن یہ زمینی حقائق کے برعکس معلوم ہوتا ہے۔انہوںنے کہا کہ و ہ جموں کی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہیں اوروہ بھی آنے والے پیر سے ہڑتال پر جائیں گے۔انہوں نے یہ بھی افسوس کا اظہار کیا کہ یہ حکم چیف ایگزیکٹو انجینئر کی آمریت ہے جو جموں صوبے کے ٹھیکیداروں میں گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ ٹھیکیدار معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ذمہ داریاں ہیں اور پھر بھی محکمے ہماری ادائیگیاں کلیئر نہیں کرتے لیکن اس قسم کے احکامات ٹھیکیداروں کو پریشان کرتے ہیں۔

 

شیوسینکوں نے ’وندے ماترم‘ کیساتھ قومی اتحاد کا پیغام دیا

 جموں//ہندوستانی سیاست کے موجودہ دور میں، سماج میں نفرت اور آپسی بھائی چارے کے بیج بونے کے لیے مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر کھیلا جا رہا ہے۔ اس بددیانتی کے پیش نظر شیوسینا سربراہ کی ہدایت اور قومی سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ انیل دیسائی کی رہنمائی پر ملک کی سالمیت کو بچانے اور آپسی بھائی چارے کا پیغام دینے کے لیے ایک ملک گیر پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز آج سے کیا گیا۔ یہ بات شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے جموں میں ’’وندے ماترم‘‘ اور ’’مذہب نہیں سکھاتا آپ میںبیر رکھنا‘‘ گاتے ہوئے کہی، جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیا گیا۔ ہاتھ میں ترنگا پکڑے اور تالیاں بجاتے ہوئے “بھارت ماتا کی جئے” منیش ساہنی کی قیادت میں جس میں تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی۔ساہنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدقسمتی سے قومی سطح پر سیاسی حلقوں میں مذہب کا پولرائزیشن تیزی سے بڑھ رہا ہے اور پرانے ہندوستان کی طرف کھینچ رہا ہے جو کئی ریاستوں اور شاہی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ساہنی نے کہا کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں عام لوگوں سے جڑے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ آج مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری جیسے اہم مسائل پر مذہب کی سیاست بھاری ثابت ہو رہی ہے جو تاریک مستقبل کی علامت ہے۔ساہنی نے کہا کہ کچھ حکمران قائدین اور ان کے کٹھ پتلی لوگ مذہب کی آڑ میں عوام کو گمراہ کرکے اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں جس پر فوری اثر انداز ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کی سیاست کرنے والوں کو یکجہتی کے ساتھ منہ توڑ جواب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ساہنی نے کہا کہ ایک دوسرے کو تقسیم کرکے اکھنڈ بھارت کی بات کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے آج جموں کا دورہ کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے باہمی اتحاد، سالمیت اور مذہب کی سیاست سے دور رہنے کا پیغام دیں۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے ساتھ اب ہندو کو ہندو سے لڑانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

 

 

 

 

 یومیہ اُجرت ملازمین کی مستقلی کا مطالبہ

جموں //اپنی پارٹی صوبائی سیکریٹری/ضلع صدر جموں اربن ڈاکٹر روہت گپتا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ سبھی یومیہ اُجرت ملازمین کو مستقل کیاجائے۔ ایک پریس بیان میں ڈاکٹر گپتا نے کہاکہ ڈیلی ویجرغیر ضروری مالی مشکلات کا شکارہیں کیونکہ اُنہیں کم اجرت ملتی ہے جس سے اشیاء ضروریہ، بچوں کی اسکول فیس ودیگر اخراجات پورا کرنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان غریب یومیہ ُاجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو حکومت کے ہاتھوںاستحصال کا سامنا ہے جو قانون کی حکمرانی کے مطابق عوام کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔حکومت نے اِن سے وقتاً فوقتاً ریگولر آئزیشن کے وعدے کئے جوآج تک وفا نہ ہوسکے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت یومیہ اُجرت ملازمین کے دیرینہ مطالبہ پر غور کرے اور ملک کی باقی ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں کم از کم اجرت قانون کو نافذ کرے ۔انہوں نے ملازمین کی بقیہ اجرت کی واگذاری اور باقاعدہ سے ماہانہ اُجرت ادائیگی بھی مطالبہ کیا اور کہاکہ وزیر اعظم کی آمد سے قبل ان کی یومیہ اجرت کو 225 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کرنا آنکھوں میںدھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل یوتھ کرپس (NYC) کے رضاکاروں کو حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً بھرتی کیا گیا لیکن اُنہیں 83 روپے یومیہ اجرت دی گئی۔وہ 2010 سے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اسکیم میں کام کر رہے ہیں، اُن کی اُجرت میں بھی اضافہ کیاجنا چاہئے۔