مزید خبریں

سمارٹ ٹیچنگ پرمنعقدہ ورکشاپ اختتام پذیر 

راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں سمارٹ ٹیچنگ پر ایک ہفتہ کی ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی۔ورکشاپ کا انعقاد انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل (IQAC) نے سینٹر فار ہوس پیٹیلیٹی اینڈ ٹورازم، بی جی ایس بی یوکے تعاون سے کیا تھا۔ورکشاپ میں ملک بھر کے مختلف اداروں سے سو سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اکبر مسعود نے ورکشاپ کی کامیاب تکمیل پر آرگنائزنگ کمیٹی کو مبارکباد دی۔پروفیسر اکبر نے کہا کہ معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے تدریس کے نئے طریقوں پر اپ ڈیٹ رہنے کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی ایک اہم پہلو ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ کے ماڈیول اساتذہ کو ان کے تکنیکی چیلنجوں پر قابو پانے کے قابل اور لیس کر سکتے ہیں۔ورکشاپ کے دوران نصیرعلی، مصنف اور ٹرینر ریسورس پرسن تھے۔ انہوں نے ای مواد کی ترقی اور ترمیم سمیت مختلف موضوعات پر انٹرایکٹو لیکچرز دئیے ۔

 

 

عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی اپیل 

عظمیٰ یاسمین

 تھنہ منڈی // سنی تحریک کونسل کے سربراہ اور نوجوان سیاسی و سماجی رہنما محمد عرفان بھٹی اور تھنہ منڈی کے نوجوانوں اور عوامی نمائندوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرتے وقت مرکز نے جو نوکریوں اور روزگار کے خواب دکھائے تھے وہ خواب ہی بن کر رہ گے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وطن عزیز ہند کے مستقبل یعنی بالخصوص جموں کشمیر کے نوجوان آج کبھی جموں تو کبھی کشمیر کی سڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے کے ایس ایس بی نے ہیلتھ اور میڈیکل کی کچھ اسامیوں کیلئے نوٹیفکیشن نکالے جس کیلئے نوجوانوں نے فام بھرے جبکہ امتحان پاس کرنے کیلئے دن رات محنت کی، امتحان پاس کیا اور جن نوجوانون کو شارٹ لیسٹ میںکاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد حتمی فہرست ہی نہیں نکالی گئی جبکہ اب نوجوانوں کو معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن پر کورٹ کیس کیا گیا ہے اور اب اس تاخیر کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے ۔عرفان بھٹی اور تھنہ منڈی کے نوجوانوں نے کہا کہ عارضی طور پر کام کرنے والے جن ملازمین نے یہ روک لگوائی ہے انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ پہلے ان کے معاملات کو حل کیا جاتا پھر بھرتی کیلئے نوٹیفیکیشن نکالی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی غلطی کی سزا ان نوجوانوں کومل رہی ہے جنہوں نے فیس بھری اور محنت کر کے امتحان پاس کیا۔ عرفان بھٹی کے ساتھ دیگر کئی نوجوانوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ عارضی ملازمین کے معاملات کو بھی حل کرنے کیساتھ ساتھ نوجوانوں کو روز گار فراہم کیا جائے ۔

 

 

کنٹریکٹر کارڈوں کی تجدید کاری

سخت شرائط منسوخ کی جائیں :ٹھیکیدار

رمیش کیسر 

نوشہرہ //کنٹریکٹر یونین نوشہرہ نے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے کنٹریکٹ کارڈ کی تجدید کے لئے رکھی گئی شرائط کو منسوخ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے مارچ میں کارڈز کی تجدید کیلئے لگائی گئی شرائط جو کہ مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے جاری کئے گئے تھے،کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہے ۔مقررین نے کہاکہ اب جبکہ اپریل کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے سرکاری کاموں کے لئے ٹینڈرز بھی جاری کئے گئے ہیں لیکن 31 مارچ تک کارڈ کی میعاد ختم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ٹھیکیداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اگر جلدازجلد کارڈوں کی تجدید کاری کیلئے رکھی گئی شرائط کو منسوخ نہیں کیا گیا تو ٹھیکیدار ٹینڈرنگ عمل سے ہی باہر ہو جائینگے ۔ٹھیکیداروں نے جموں وکشمیر انتظامیہ کیساتھ ساتھ ضلع انتظامیہ راجوری سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ایگز یکٹو انجینئر کی سطح کے آفیسر ان کو مذکورہ تجدید کاری کے اختیارات دئیے جائیں تاکہ ان کی مشکلات کم ہو سکیں ۔

 

 

غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جائے :زوراور سنگھ

حسین محتشم

پونچھ/جموں کشمیر پبلک ویلفیئر فرنٹ کے صدر زوراور سنگھ شہباز نے جموں و کشمیر کے تمام غریب بچوں کو چاہے وہ سرکاری اسکولوں میں پڑھ رہے ہوں یا پرائیویٹ اسکولوں میں کو نرسری سے دسویں جماعت تک مفت تعلیم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں تعلیم کی سطح کو بلند کرنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ ہمیں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ غریب گھرانوں کے بچے مالی مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے اور وہ جہاں پہنچنا چاہتے ہیں وہاں نہیں پہنچ پاتے، جس کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم بہت تکلیف میں ہیں. انہوں نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت بالخصوص ریاست کے ایل جی  منوج سنہا سے پرزور درخواست کی کہ وہ غریب خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے ریاست کے تمام اسکولوں کو حکم جاری کریں۔

 

 

موٹر سائیکل حادثے میں1 شخص کی موت کا معاملہ 

پونچھ میں عدالت نے ملزم کو 2برس قید کی سزا سنائی 

بختیار کاظمی

سرنکوٹ// 28/05/2008 کوپیش آئے ایک موٹر سائیکل حادثے میں ایک 60سالہ شخص کی ہوئی موت کے معاملہ میں عدالت نے ملزم کو دو برس کی قید کی سزا سنائی ہے ۔جاری بیان کے مطابق سرنکوٹ سے پونچھ کی جانب تیرز رفتاری سے جارہے ایک موٹر سائیکل کی زد میں آکر ایک 60سالہ شخص شدید زخمی ہوگیا تھا جسکی دوران علاج موت واقعہ ہو گئی تھی ۔ پولیس نے معاملے کو درج کرنے کچھ عرصے بعد منصف کورٹ پونچھ میں چلان پیش کر دیا تھاجہاں مقدمے کی سنوائی شروع کی گی اس وقت منصف جج پونچھ منظور احمد خان نے معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور قانون کے دائرے میں رہ کر عدالت میں مقدمے کو مضبوط کیااور سزا سنا دی۔ منصف کورٹ کے حکم پر ملزمان کی جانب سے پونچھ سیشن کورٹ میں منصف کورٹ کے حکم نامے پر اپیل کی گئی جس پر اب پونچھ کی سیشن کورٹ کے جج اے کے شاون کی عدالت نے مجرم سجاد حسین شاہ ولد سرفراز حسین شاہ سکنہ پوٹھہ تحصیل سرنکوٹ کو زیر دفعہ 304 اے 279 آر پی سی اور 158/177 ایم وی اے سی ٹی کے جرم میں سزا سنائی۔ملزم کو زیر دفع 304 اے آر پی سی جرم کیلئے دو سال کی سادہ قید اور 5000 روپے جرمانے اور زیر دفعہ 279 آر پی سی کے تحت چھ ماہ قید اور 100 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ جرم زیر دفعہ 158/177 موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت ملزم نمائندگی ملزم کے وکیل سید تاج حسین شاہ نے کی اور یو ٹی پی پی سرکار کی طرف سے مقبول حسین پیش رہے۔ ملزم کی جانب سے 18/04/2016 کو اپیل دائر کی گئی تھی جسے بالآخر سنا دیا گیا اور اسے نمٹا دیا گیا۔ کیس کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ ملزم اپنی موٹرسائیکل زیر نمبر 7687/JK02T کو 28.05.2008 کو سرنکوٹ سے پونچھ کی طرف تیز رفتاری اور لاپرواہی سے چلا رہا تھاکہ مکھن دین ولد ہاشم علی قوم  گوجر عمر 60 سال جو حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں اسکو شدید چوٹیں آئیں اور جو بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جس پرٹرائل کورٹ منظور احمد خان نے مکمل ٹرائل کیا اور ملزم کو مجرم قرار دیا۔  مذکورہ جرائم میں دو سال چھ ماہ قید کے ساتھ مجموعی طور پر 5100/- روپے جرمانہ اور تمام سزائیں ایک ساتھ بھگتنا ہوں گی۔عدالت نے سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اور اپیل خارج کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے ہیں اور ملزم کی بے گناہی میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور بالآخر اپیل خارج کر دی۔