ڈوڈہ میں سول سوسائٹی کا احتجاجی مظاہرہ
بار ایسوسی ایشن جموں کے وکلاء کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ
محمد اسحٰق عارف
ڈوڈہ//معصوم آصفہ کی عصمت دری اور درد ناک قتل میں ملوث مجرموں کو بچانے کے لئے بار ایسوسی ایشن جموں کی جموں بند کال کی پوری ریاست کی طرح چناب خطہ میں بھی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے علاوہ اس معاملہ کو فرقہ وارنہ رنگ دینے اور مجرموں کے حق میں احتجاج کرنے والوں کا ساتھ دینے والے وزراء اور وکلاء کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔اسی سلسلہ میں ڈوڈہ سول سوسائٹی کی طرف سے سماجی کارکن عبدالقیوم زرگر کی قیادت میں ڈوڈہ کے پرانے بس اسٹینڈ پر ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور فلاحی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس طرح اپنے غم و غصہ اور جذبات کا اظہار کریں تاکہ ارباب اقتدار مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے میں کسی دباؤ کو قبول نہ لریں اور اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی کوشش کرنے والے لیڈران اور وکلاء اپنے ذلیل مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں اور مستقبل میں اس قسم کاانسانیت سوز واقعہ پیش نہ آئے۔
بار ایسوسی ایشن جموں کی فرقہ پرستی نے انہیں اخلاقی پستی تک پہنچا دیا:چناب سٹیزن فورم
محمد اسحٰق عارف
ڈوڈہ//چناب سٹیزن فورم ڈوڈہ نے معصوم آصفہ کی عصمت دری اور بہیمانہ قتل میں ملوث مجرموں کو بچانے کی مجرمانہ کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں چناب سٹیزن فورم ڈوڈہ کا ایک اجلاس فورم کے صدر محبوب احمد ٹاک کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مقررین نے کہا کہ یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ قانون کے رکھوالے ہی مجرموں کی حمایت میں آگے آئے ہیں جس سے لوگوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔بار ایسوسی ایشن جموں کی مجرموں کے حق میں جموں بند کال سے قانون کے رکھوالوں کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فرقہ پرستی کی آگ نے اْنہیں کس اخلاقی پستی تک پہنچا دیا ہے۔ اْنہوں نے کہا ہے کہ عدلیہ مظلوموں کو انصاف کی آخری اْمید ہوتی ہے مگر کالے لباس پہن کر وکلائے جموں نے اس شعبہ پر ایسا بدنما داغ لگایا ہے جس کو مٹانا بہت مشکل ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اِجلاس کے دوران آصفہ کیس کے حوالے سے کرئم برانچ کی طرف سے عدالت کوچالان پیش کرنے کی راہ میں وکلاء کی طرف سے ڈالی جانے والی رکاوٹ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔اِجلاس میں بیوپار منڈل ڈوڈہ کے صدر کرامت اللہ نہرو، سماجی کارکن عبدالقیوم زرگر و دیگر معززین نے شرکت کی۔اِجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فورم کے صدر ٹاک نے کہا کہ مسلم مخالف مہم اور مخصوص طبقہ کے ساتھ بار ایسوسیشن جموں اور کٹھوعہ کا رویہ انتہائی قابل مزمت ہے جبکہ بھاجپا کے کچھ ممبران اسمبلی کی طرف سے انسانیت سوز واقع کے بعد قاتل ملزمان کے دفاع میں حمایت کرنا معصوم آصفہ کے لواحقین کے ساتھ ظلم قتل کرنے کے مترداف ہے حالانکہ اْن کو پولیس جانچ اور عدلیہ میں چلان پیش کرنے میں تعاون کرنا تھا لیکن بدقسمتی سے اْن کی طرف احتجاج اور گاڑیوں میں بیٹھ کر بند کے نعرے لگانا انتہائی قابل افسو س امر ہے۔فورم کی طرف سے وکلاء کی طرف سے بند احتجاج کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سازش کے تحت ملزمان کو کو بچانا کا طریقہ کار استعمال کیا جا رہا ہے ۔زرگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بار ایسوسیشن جموں اور کٹھوعہ کی طرف سے کٹھوعہ آصفہ قتل معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی ہر ممکن کوشش کی گء ہے لیکن جموں کے لوگوں اور چمبر آف کامرس کی طرف سے بند کی کال کو مسترد کرکے اْن عناصر کے منہ پر طمانچہ ہے۔
سرکاری ملازموں کی غیر حاضری کا مسئلہ
ڈی سی کشتواڑ کی مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت
اے آئی بٹ
کشتواڑ//ضلع کے سرکاری دفاتر میںملازموں کی حاضری کی مانیٹرنگ کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنر انگریز سنگھ رانا نے ایک حُکم جاری کرکے کمیٹیاں تشکیل دینے کا حُکم دیا ہے، جو ملازموں کی حاضری کی سرٹفیکیٹ جاری کریں گے جو کہ ڈی ڈی اوز کی جانب سے تنخواہ جاری کرنے کے لئے لازمی ہے۔ڈی سی نے لوگوں کی خصوصاً دیہی علاقوں میں لوگوں کی ملازموں کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہونے کے بعد یہ حُکم اجرا کیا ہے۔ڈی سی نے ان شکایات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تمام ڈسٹرکٹ افسروں کو دیہات کے صیح لوگوں بشمول لمبرادر اور چوکیداروں کی دیہی سطح کی کمیٹیاں متعلقہ تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی موجودگی میںتشکیل دینے کی ہدایت دی ہے ، جو دیہاتوں میں مختلف محکموں میں تعینات سرکاری ملاموں کی حاضری کی تصدیق کریں گے۔ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ افسروں (DDO's)کوملازموں کی حاضری رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی تنخواہ واگُذار کرنے کی ہدایت دی۔ اپن،رینائی، ششلن و دیگر علاقوں کے عوام کی اساتذہ اور آنگن واڑی ورکروں کی غیر حاضری کی شکایات اور متعلقہ ڈی ڈی اوز کی جانب سے انکے تنخواہ اجوات اور مشاہرے واگُذار کرنے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی نے تمام ڈی ڈی اوز کو تب تک ملاموں کی تنخواہ واگُذار نہ کرنے کی ہدایت دی جب تک کہ وہ اپنی حاضری رپورٹ پیش نہیں کریں گے جو کہ متعلقہ کمیٹی کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔
ٹیچرز فیڈریشن کا ایس ڈی ایم کے حُکم پر تنقید
وزیر تعلیم سے محکمہ کے بغیر کسی دیگر محکمہ کی مانیٹرنگ کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ
جموں / / اکھل بھارتیہ راشٹریہ شکھشک مہا سنگھ سے منسلک آل جموں و کشمیر اور لداخ ٹیچرس فیڈریشن کی جانب سے جمعہ کے روز ایک ہنگامی اجلاس زیر قیادت ریاستی صدر اے جے کے ایل ٹی ایف/اے بی آر ایس ایم دیوراج ٹھاکور منعقد ہوئی۔ ریاستی باڈی کے علاوہ میٹنگ میں ضلع صدور نے بھی شرکت کرکے ریاست بھر میں محکمہ تعلیم کے موجودہ صورتحال پر بات وچیت کی۔شرکا نے سرکار کی جانب سے ٹیچنگ کیمونٹی کے مسائل حل کرنے میں سرکار کی کوتاہی کی مذمت کی۔ٹھاکور نے اپنے خطاب میں ایس ڈی ایم مہور کی جانب سے جاری عامرانہ حُکم کی مذمت کی ،جس میں انہوں نے محکمہ مال کے پٹواری کو تعلیمی اداروں کی باقاعدگی اور کام کرنے کا جائزہ لینے کا اختیار دیا۔دریں اثنا، ایس ڈی ایم نے ہیڈ ماسٹر کی جانب سے رُخصت کی منظوری کو تب تک جائز نہیں مانا جب تک نہ اسکی منظوری متعلقہ زیڈ ای او سے حاصل کی گئی ہو،حالانکہ ہیڈ ماسٹر رخصت منظور کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔دیو راج نے کہا کہ ہم مانیٹرنگ کے خلاف نہیں ہیںلیکن ہم ایس ڈی ایم مہور کی جانب سے لاگو طریقہ کار کے خلاف ہیں ،جو کہ اساتذہ برادری کے ساتھ مذاق ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایم مہور کا حُکم ڈی ایس ای جموں کی جانب سے جاری حُکم کے عین برعکس ہے۔جس میں زونل سطح، ضلع سطح اور ڈویژنل سطح پر سکولوں کے معائینہ کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے کا حُکم دیا گیا ہے، جس کے لئے مختلف تاریخ مقرر کئے گئے ہیں۔انہوں نے پٹواتریوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کو نا قابل قبول قرار دیکر کہا کہ یہ محکمہ کے ساتھ زیادتی ہے۔انہوں نے صلاح دی کہ دیگر اہلکاروں یا آرگنائزیشنوں جیسے کہ وی ایل ای سئیز، زیڈ ای اوز، ڈائٹ اور سی ای ااوز وغیرہ کو تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کا اختیار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ا گر ایس ڈی ایم تعلیمی شعبہ کے لئے اتنے پریشان ہیں تو وہ ایک سکاڈ تشکیل دیں جن میں مختلف سکولوں کے پرنسپل، لیکچرار، ہیڈماسٹر اور ٹیچر شامل ہوں ۔ انہوںنے اسااتذہ کو اپنے علاقوں کے پٹواریوں کی کام و کاج کا معاینہ کرنے کا اختیار دینے کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پٹواریوں کی مانیٹرنگ کرکے انکی باقاعدگی یقینی بنا سکیں۔انہوں نے اس سلسلہ میں وزیر تعلیم اور کمشنر/سیکرٹری کی مداخلت طلب کی اور انہیں اس سلسلہ میں ایک یاد داشت پیش کرنے کا فیصلہ کیا،تاکہ اساتذہ کے وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس میں رتن شرما ، درشن بھارتی،پون کمار، ستیہ بھوشن، سنجے شرما ، رادھا کرشن، سنجے کٹوچ، نیرج شرما،منجیت سنگھ، گلشن رینہ ،کرتار چند اور جیون سنگھ بھی شامل تھے۔
سی آر پی ایف اہلکار کی خودکشی کی ناکام کوشش
ایم ایم پرویز
رام بن//سینٹرل ریزرو پولیس فورس جوان نے اپنے جسم پر مٹی کا تیل چھڑک کرآگ لگا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی تاہم اس کے ساتھیوں نے اسے بچا لیا۔اس سلسلے میں سی آر پی ایف84 بٹالین چندر کوٹ کے کمانڈنٹ نے پولیس سٹیشن چندر کوٹ میں تحریری رپورٹ درج کر وائی ہے کہ ایک سی آر پی ایف کے جوان نے اپنے جسم پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگائی جس کی وجہ سے وہ جھلس گیا ہے۔دیگر جوانوں نے آگ بجھا کر اسے ضلع ہسپتال رام بن میں منتقل کیا۔جوان کی پہچان 30سالہ شیش رام ساکندواری ہریانہ کے طورسے ہوئی ہے۔ایس ایچ او پولیس سٹیشن چندرکوٹ نے کشمیر عظمیٰ کو اس واقع کی تصدیق کرتے ہو ئے کہا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں سی آر پی ایف جوان شیش رام کے خلاف ایک کیس نمبر 17اور18زیر دفعہ 309 RPCپولیس سٹیشن چندرکوٹ میں درج کر لیا ہے۔دوسری جانب میڈیکل سپرینڈنڈنٹ ڈاکٹر دھرم ویر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس واقع میں جوان 70فیصد جھلس گیا ہے اور ہم اس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رام بن میں 4مویشی بازیاب ،2گرفتار
ای ایم پرویز
رام بن//رام بن پولیس نے دعویٰ کیا ہے کی اس نے مویشی سمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے اس سلسلہ میں انہوں نے 2افراد کو گرفتار کر کے 4مویشیوں کو بچا لیا ہے جنہیں وہ ایک آٹو میں بھر کر لے جا رہے تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2سمگلروں کو گرفتار کیا ہے جن کی پہچان عبدالرشید شیخ ولد محمد سلطان شیخ ساکنہ گوگوانی نیل بانہال اور واحد وانی ولد خورشید احمد وانی ساکن سیری رام بن اور ان کے قبضہ سے رام بن گول روڈ زیرو موڑ دھرم کنڈ میں 4 مویشی بر آمد کئے ۔پولیس نے بتایا کہ یہ مویشی بغیر کسی اجازت نامہ کے لے جا رہے تھے ۔اس سلسلہ میں پولیس سٹیشن دھرم کنڈ میں ایک کیس نمبر16زیر دفعہ188 RPC and 3 PC actدرج کیا ہے
باگنکوٹ میں صارفین راشن نہ ملنے سے پریشان
زاہد ملک
مہور//سب ڈویژن مہور کے تحصیل چسانہ کے پنچایت باگنکوٹ کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ آج انہیں 3مہینوں کے بعد راشن دیا جارہا ہے وہ بھی صرف آٹا ہی دیا جارہا ہے جو اے پی ایل اور بی پی ایل صارفین کو ایک ہی قیمت پر فراہم کیا جارہا ہے۔جس سے لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں کا مزید کہنا ہے انہیں مفتی سعید سکیم بھی سے راشن نہیں دیا جارہا ہے اور نا ہی سٹور پر مشنری کا استعمال کیا جارہا ہے۔مقامی لوگوں نے محکمہ سی اے پی ڈی کے اعلیٰ حکام سے مانگ کی ہے اس علاقہ کی طرف توجہ دی جائے۔