مزید خبریں

سڑوٹ سخی میدان میں پانی کی ہاہاکار

جاوید اقبال

 
مینڈھر// سخی میدان کے محلہ سڑوٹ میں پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کیاجارہا۔مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای پر الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کیاجارہاور محکمہ کے ملازمین کی وجہ سے پانی کی سکیمیں ناکام بن کر رہ گئی ہیں۔۔ ان کا کہنا تھا کہ سخی میدان کے محلہ سڑوٹ اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ کئی مہینوں سے پانی دستیاب نہیں اور بڑی آبادی والا محلہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ۔مقامی شخص محمد لطیف نے بتایاکہ پانی کیلئے انہوں نے دفاتر کے بھی کئی چکر کاٹے لیکن محکمہ کے آفیسران یا ملازمین کو ٹس سے مس نہیں اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں کیا جا رہا جس کے نتیجہ میں وہ کئی کلو میٹر دور سے پانی لاتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی سکیم کوناکام بنایاجارہاہے اور پانی دستیاب ہونے کے باوجود بھی فراہم نہیں کیاجارہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی حالت رہی تو وہ محکمہ کے ملازمین کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے۔ محکمہ پی ایچ ای کے ایک افسر کاکہناہے کہ وہ یہ معلوم کریں گے کہ پانی فراہم نہ کرنے کی کیا وجہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ان دنوں زیادہ تر ملازمین احتجاج پر ہیں اور شائد اسی وجہ سے پانی دستیاب نہیں ہورہاہوگا۔
 

ڈوگریاں بفلیاز میں دوگروپوںکے درمیان کشیدگی 

سرنکوٹ //سرنکوٹ کے بفلیاز علاقے میں دوگروپوں کے درمیان تنازعہ کے باعث کشیدگی پائی جارہی ہے ۔ذرائع کے مطابق علاقے میں ایک واقعہ رونما ہواجسے ایک گروپ کی طرف سے لڑکی کی شادی قرار دیاجارہاہے اور دوسرا گروپ اسے لڑکی کی گمشدگی سمجھ رہاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ دونوں گروپوں کے درمیان ڈوگریاں علاقے میں گزشتہ رات لڑائی بھی ہوئی جس کے باعث کچھ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ذرائع نے مزید بتایاکہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی پی او سرنکوٹ اور ایس ایچ او سرنکوٹ موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے پولیس کی نفری تعینات کی جبکہ اس دوران سی آر پی ایف اہلکاربھی تعینات کئے گئے ۔پولیس کی کارروائی سے کشیدگی مزید نہیں پھیلی اور مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی رونمانہیں ہوا۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ ان کی طرف سے بروقت کارروائی کی گئی اور پولیس ٹیم گائوں پہنچ گئی جبکہ پونچھ سے مزید فورس کو بلایاگیا۔
 
 

شہدائے کربلا کی یاد میں طبی کیمپ 18کو

سرنکوٹ //حسب روایت امسال بھی شہدائے کربلا کی یاد میں 18ستمبر یعنی 7محرم الحرام بروز منگل امام بارگاہ سرنکوٹ میں طبی کیمپ منعقد کیاجارہاہے جس دوران مریضوں کاعلاج کیاجائے گا۔کیمپ میں ضلع کے ماہر ڈاکٹرموجود رہیں گے ۔اس دوران ماہر امراض اطفال ڈاکٹر سید ذاکر حسین جعفری بھی کیمپ میں موجود رہیں گے ۔ کیمپ کے دوران مریضوں کے مفت علاج کے ساتھ ساتھ ان کو ادویات بھی فراہم کی جائیں گی ۔
 
 

کار حادثے میں 4افراد زخمی 

راجوری //راجوری کے نوشہرہ علاقے میں ایک کارحادثے میں چار افراد زخمی ہوگئے ۔کار زیر نمبرJK11C 3790راجوری آتے ہوئے سڑک سے لڑھک کر نیچے کھیت میں جاگری جس کے نتیجہ میں چار افراد زخمی ہوئے جن میں د وبچے شامل ہیں ۔زخمیوں کو فوری طور پر نوشہرہ ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں ان کا علاج کیاجارہاہے ۔
 
 

ڈپٹی کمشنر کا سیول سروس امیدواروں سے تبادلہ خیال 

پونچھ //ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو نے ڈگری کالج پونچھ میں ایک پروگرام کے دوران سیول سروس امیدواروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور انہیں مسابقتی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے طریقہ کار بتائے ۔اس موقعہ پر کالج پرنسپل پروفیسر ایم ایچ شاہ و دیگر اساتذہ اورطلباء بھی موجو دتھے ۔ڈپٹی کمشنر نے اس دوران ایک توسیعی خطبہ دیا جس میں انہوں نے امتحان میں کامیابی کیلئے طریقہ کار بتایا۔انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ تمام مضامین کے بارے میں جانکاری رکھیں اور روزانہ اخبار پڑھاکریں ۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ مضمون پر خاص توجہ دی جائے ۔اس دوران انہوں نے اپنی آئی اے ایس کامیابی کاتجربہ بھی بیان کیا ۔
 
 

کے اے ایس امتحان 

راجوری میں تین مراکز قائم ہوئے 

راجوری //کے اے ایس کے پری امتحان 2018میں حصہ لینے والے امیدواروں کیلئے راجوری میں بھی تین امتحانی مراکز قائم کئے گئے جن میں راجوری اور پونچھ دونوں اضلاع سے بڑی تعداد میں امیدواروں نے حصہ لیا ۔راجوری میں امتحانی مراکز گورنمنٹ بوائز ہائراسکینڈری سکول راجوری ، گورنمنٹ گرلز ہائراسکینڈری سکول راجوری اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راجوری میں قائم ہوئے ۔اس دوران ہزاروں کی تعداد میں امیدواروں نے امتحان میں حصہ لیا ۔امتحان کے سلسلے میں حکام کی طرف سے کڑے انتظامات کئے گئے تھے ۔ایک افسر نے بتایاکہ امتحان کا پورا عمل احسن طریقہ سے انجام دیاگیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل راجوری اور پونچھ کے امیدواروں کو امتحان جموں یا سرینگر کے مراکز میں دیناپڑتاتھا۔
 
 

رہبر تعلیم اساتذہ کے مطالبات پورے کرنیکی اپیل 

جاوید اقبال 

مینڈھر//آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی رکن پروین سرور خان نے رہبر تعلیم اساتذہ کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے ان کے مطالبات جلد پورے کرنے کی مانگ کی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں پروین سرور خان نے کہاکہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ریاست کے اکتالیس ہزار اساتذہ پچھلے کئی ہفتوں سے سڑکوں پر سراپااحتجاج ہیں اور وہ بھوک ہڑتال کررہے ہیں تاہم حکام کو ٹس سے مس نہیں ہورہی اور نتیجہ کے طور پر بچوں کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کے حق میں ساتویں تنخواہ کمیشن کی ادائیگی کی جائے اور ساتھ ہی تنخواہوں کو ڈی لنک کیاجائے ۔پروین سرور خان نے کہاکہ رہبر تعلیم اساتذہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کیاجارہاہے جو افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کانگریس کے صدر راہل گاندھی ،راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد اور پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر کا اساتذہ کی ہڑتال کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ کانگریس اساتذہ کے جائز مطالبات کے پورے کرنے کے حق میں ہے ۔انہوں نے کہاکہ دیگر عارضی ملازمین کے مطالبات پور ے کئے جائیں اور انہیں مستقل ملازمت کے دائرے میں لایاجائے۔
 
 

کربلا کرداروں کی جنگ ہے:اصغر مولائی 

پونچھ//محرم الحرام کی ہر سال پانچویں تاریخ کو مسجد فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہ گلپور میں انجمن سادات کی جانب سے ایک مجلس منعقد کی جاتی ہے جس کا اتوار کے روز انعقاد ہوا۔ مجلس کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت خواں حضرات نے نعت رسول مقبول ؐ کا نذرانہ پیش کیا اور پھر سلام ونوحے پیش ہوئے ۔ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے بیرون ریاست کے علمائے کرام نے واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ؑ پر روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں مولانا جنان اصغر کربلائی نے کہاکہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایاہے کہ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس وقت خود کو سپرپاور کہنے والے ذلیل و خوار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ طاقتیں مجاہدین اسلام کے نعروں سے لرز ہ براندام ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ کربلا کے میدان میں امام حسین ؑ نے یہ نعرہ لگایاتھاکہ ہم اہل بیت سے ذلت بہت دور ہے۔مولانا نے کہاکہ امام حسین ؑ نے عین موسم حج کے دوران مکہ چھوڑ کر یہ ثابت کردیاکہ جس سماج میں ظلم کے خلاف آوا ز بلند نہ کی جائے اور عبادتوں میں مصروف رہاجائے تو وہ عبادت عبادت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس دور میں بھی اچھے لوگ اچھوں سے اور برے لوگ بروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔مولانا نے کہاکہ آج کے دور میں اگر کربلا والا یزید نہیں لیکن یزید جیسے اس دور میں بھی موجود ہیں جن کو شکست دینے کیلئے حسینیوں کو حسینی کردار ادا کرناچاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ کربلا کرداروں کی جنگ ہے ۔مولانا نے کہاکہ جب امام حسین ؑ سے بیعت کا مطالبہ کیاگیاتو آپ ؑ نے فرمایاکہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا جس سے یہ دنیا والوں کو یہ پیغام ملتاہے کہ حسینی کردار یزیدی کردارکی ہاں میں ہاں نہیں ملاسکتا اور یہ کرداروں کی جنگ تاقیامت جاری رہے گی ۔
 
 
 

شاہدرہ شریف عرس انتظامات کو حتمی شکل دی گئی 

راجوری //ضلع انتظامیہ راجوری نے بابا غلام شاہ بادشاہ شاہدرہ شریف کے دو روزہ سالانہ عرس کے انتظامات کو حتمی شکل دی ۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد کی صدارت میں افسران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں چیئرمین اوقاف کمیٹی ،معززین اور شاہدرہ شریف کمیٹی کے ارکان بھی موجو دتھے ۔ اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر نے بتایاکہ محکمہ امو رصارفین کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ عرس کے لئے راشن ، گیس ، تیل خاکی اور کھانڈ کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے ۔انہوں نے بتایاکہ محکمہ بجلی کے افسران کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے اورہنگامی حالات میں جنریٹر بھی مہیا رکھے جائیں گے ۔ انہوں نے اے آر ٹی او راجوری سے کہاکہ وہ عقیدتمندوں کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات دستیاب رکھیں اور راجوری سے شاہدرہ شریف کیلئے بسیں دستیاب رکھی جائیں ۔اسی طرح سے انہوں نے محکمہ پی ایچ ای کے افسران کو ہدایت دی کہ بغیرکٹوتی کے سپلائی کے ساتھ ساتھ موبائل ٹینکر بھی دستیاب رکھے جائیں ۔ انہوں نے چیف میڈیکل افسر سے ایمبولینس گاڑیوں کی دستیابی اورعرس کے دنوں طبی کیمپ کے انعقاد کیلئے کہا۔انہوں نے محکمہ تعمیرات عامہ کو سڑکوں کی مرمت کی ہدایت جاری کی ۔عرس کے دوران صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کیلئے انہوں نے ایگزیکٹو افسر میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی نے ہر طرح کا انتظام کرنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے محکمہ سیاحت کے افسران کو ہدایت دی کہ سڑک کنارے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی جائے ۔
 
 
 
 

خطہ پیر پنچال کیلئے پہاڑی ترقیاتی کونسل 

تمام لیڈران متحدہ جدوجہد کریں:شہزاد ملک 

جا وید اقبال
 
مینڈھر//سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد ملک نے مینڈھر کے بنولہ کنٹی علاقے کادورہ کیا جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔اس موقعہ پر ایک اجلاس منعقد ہواجس کی صدارت نمبردار رزاق نے کی۔مقررین نے مقامی مطالبات اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ علا قہ میں سڑ کو ں کی حالت خستہ ہے جبکہ پانی اور بجلی جیسی سہو لیا ت وقت پر میسر نہیں ہو تی ۔ انہو ں نے کہا کہ شام ہوتے ہی بجلی کی سپلائی منقطع کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچو ں کی پڑ ھائی متا ثر ہو رہی ہے۔  اپنے خطاب میں ڈاکٹر شہزاد ملک نے کہا کہ بھارت کو آزاد ہوئے 70 سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن بہت سے علاقوں میں سڑکوں، صاف پینے کے پانی، صحت کی سہولیات اور بجلی کی سپلائی میسر نہیں اور جن علاقوں تک سڑکیں نکالی بھی گئی ہیں وہ بھی چلنے کے قابل نہیں ۔ انہو ں نے ریا ستی گو رنر سے اپیل کی کہ سر حدی علاقو ں میں بسنے والی عوام کو بجلی اور پانی وقت پر میسر کیا جائے ۔ انہوں نے مقامی لوگوں پر زور دیاکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کیلئے سنجیدگی سے کوششیں کریں کیونکہ انسان تب تک مکمل انسان نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ علم کے زیور سے آراستہ نہ ہو جائے اوراسی سے قوموں کی ترقی ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں منشیات کی عادت کافی زیادہ پائی جارہی ہے جو ایک طرح سے نسل کشی کے مترداف ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں گھر گھر مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں کو برباد ہونے سے بچایاجاسکے ۔ انہو ں نے خطہ پیر پنجال کے تمام سیا سی لیڈران سے اپیل کی کہ وہ ایک پلیٹ فا رم میں جمع ہوکر خطے کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کریں ۔ انہوں نے کہاکہ لداخ کو طویل جدوجہد کے بعد پہاڑی ترقیاتی کونسل کادرجہ ملا اور یہ درجہ حاصل کرنے کیلئے خطہ پیر پنچال کے لیڈران کو بھی متحد ہوناپڑے گا۔
 
 

ڈپٹی کمشنر پونچھ کا بفلیاز میں عوامی دربار

سرنکوٹ //ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو نے بفلیاز میں عوامی دربار لگاکر لوگوں کے مسائل سنے ۔اس دوران انہوں نے کچھ مسائل کو موقعہ پر ہی حل کردیا۔ دربار میں ایس ڈی ایم سرنکوٹ ، تحصیلدار بفلیاز اور دیگر افسران بھی موجو دتھے ۔مقامی لوگوں نے مرکزی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری ، انسداد سیلاب کے اقدامات ، بڑھاپے کی پنشن واگزار کرنے ،سڑک روابط میں بہتری لانے اور تھنہ منڈی بفلیاز سڑک کو بہتر بنانے ،طبی مراکز میں عملے کی تعیناتی ،معقول ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کی مانگ کی ۔انہوں نے شکایت کی کہ سیلاب کے دوران کچھ لوگوں کا نقصان ہواتھا جس کا معاوضہ ابھی تک نہیں دیاگیا۔ مقامی لوگوں کی طرف سے ہائی سکول تراڑانوالی کادرجہ بڑھانے ، درابہ میں ہائراسکینڈری سکول گرلز ، بیروزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے ،پنج سرائیں میں پانی کی سپلائی کی فراہمی ، سیالاں میں بجلی سپلائی میں بہتری لانے اور سیالاں موہڑہ سڑک کی تعمیر کے مسائل بھی اجاگر کئے گئے جس پر ڈپٹی کمشنر نے انہیں حل کرنے کا یقین دلایا۔انہو ں نے محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے کام میں تیزی لائیں ۔ انہوں نے کہاکہ سکولوں کادرجہ بڑھانے کا معاملہ حکام سے اٹھایاجائے گا۔انہوں نے محکمہ تعمیرات کے ایگزیکٹو افسر کو ہدایت دی کہ وہ سڑکوں کے کام میں پیشرفت کی ماہانہ رپورٹ دیں ۔انہوں نے بلاک ڈیولپمنٹ افسر کو ہدایت دی کہ مغل شاہراہ پر بیت الخلائوں کی تعمیر کے کام میں تیزی لائی جائے ۔ اس دوران انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران سے کہاکہ جنگلی جانوروں کی وجہ سے فصلوں کو پہنچے نقصان کا جائزہ لیاجائے۔