مزید خبرں

کیانی ۔ٹوپہ ۔سمکن واٹرسپلائی سکیم دوماہ سے ٹھپ 

سمکن ٹوپہ کے لوگوں کامحکمہ صحت عامہ پرغفلت کاالزام 

جاوید اقبال 
 
مینڈھر//منکو ٹ علا قہ کے سمکن ٹوپہ علاقہ کے لوگوں نے محکمہ صحت عامہ پرپانی سپلائی کی فراہمی کے سلسلے میںغفلت برتنے کاالزام عائدکیاہے۔اس سلسلے میں لوگوں کاکہناہے کہ محکمہ پی ایچ ای کی غفلت کی وجہ سے علاقہ میںگزشتہ دو مہینوں سے پانی سپلائی کرنے والی کیانی ،ٹوپہ ،سمکن سکیم بند پڑی ہے  جس کی وجہ سے لو گ پانی کی بو ند بو ند کے لیے ترس رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ نے پانی سپلائی کرنے والے ٹینک سے پانی سپلائی کرنے والے ایک ملازم جو پانی دو سرے ٹنک میں لفٹ کرتا تھا کو کسی دو سری جگہ تعینات کردیا ہے اورہماری لفٹ اسکیم کو دانستہ طورپر بند کردیا ہے ۔اس سلسلہ میں نا ئب سرپنچ مکھنا چو ہدری نے متعلقہ محکمہ پی ایچ ای کوہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداران جا ن بو جھ کر لو گوں کو مزید پریشانیوں میں مبتلاکر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ پی ایچ ای لوگوں کوپانی کی سپلائی سے محروم رکھ رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو مہینوں سے پانی کی سکیم کو ملا زمین نے بند رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے ایک پہا ڑی پر بسنے والے لو گ کئی کلو میٹر دو ر سے جاکر پانی لا تے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوںنے با ر بار متعلقہ محکمہ کے ملازمین سے اپیل کی کہ ہما ری لفٹ اسکیم کے لیے مزید ملازم تعینا ت کئے جائیں تا کہ لو گوں کو پینے کا پانی مل سکے لیکن محکمہ کے ملازمین نے لوگوں کی نہیں سنی او ر علا قہ کے لو گوں کو مزید پریشانی میں ڈال دیا ۔انہوں نے کہاکہ اگرپانی سپلائی سکیم بحال نہ کی گئی توہم احتجاج کرنے پرمجبورہوجائیں گے۔ اس سلسلہ میں جب محکمہ پی ایچ ای (مکینکل )کے اے۔ای سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت عامہ کے افسران کو چاہیئے تھا کہ اگر ایک ملازم کو تبدیل کیا ہے تو وہاں پر اس کی جگہ دو سر ے ملازم کو تعینا ت کیاجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آج اس سلسلہ میں مینڈھر آرہا ہوں او ر متعلقہ اے۔ای۔ای سے بات کرکے لفت اسکیم پر ملازم تعینا ت کروائوں گا تاکہ لو گوں کو پانی کی سپلا ئی ہو سکے۔ 
 

رہبرتعلیم اساتذہ کاوفدسی ای اوراجوری سے ملاقی

نیوز ڈیسک
 
راجوری//جموں وکشمیررہبرتعلیم ٹیچرس فورم کے ایک وفد ضلع صدرآفتاب احمدتانترے کی قیادت میں چیف ایجوکیشن افسرراجوری سے ملاقات کرکے انہیں اساتذہ کودرپیش مسائل کی جانکاری دی۔وفدمیں شامل ممبران نے سرو شکھشاابھیان کے تحت تعینات ٹیچروں کی گریڈ2 میں منتقلی عمل کی سست رفتاری اورضلع کے صرف 10 فیصداساتذہ کی منتقلی کرنے کے معاملات اجاگرکیے۔اس دوران چیف ایجوکیشن افسرمحمداشرف راتھرنے وفدکے مطالبات کواطمینان سے سنااوریقین دہانی کرائی کہ رہبرتعلیم ٹیچروں کے مسائل کاازالہ ترجیحی بنیادوں پرکیاجائے گا۔
 
 

پولیس کی جانب سے تھنہ منڈی کالج میں ثقافتی پروگرام 

راجوری//جموں وکشمیرپولیس کے زیراہتمام انڈین ریزروپولیس کی راجوری نشین دوسری بٹالین نے سیوک ایکشن پروگرام کے تحت ڈگری کالج تھنہ منڈی میں ایک ثقافتی پروگرام کاانعقاد کیا۔ ڈگری کالج تھنہ منڈی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران طالج کے طلبا اورآئی آرپی سیکنڈبٹالین راجوری نے ثقافتی پروگرام پیش کرکے شرکاکومحظوظ کیا۔اس موقعہ پر کمانڈنگ آئی آرپی سیکنڈبٹالین محمدرشید بٹ مہمان خصوصی جبکہ تحصیلدار تھنہ منڈی انجم خان ،ایس ڈی پی اوتھنہ منڈی محمدصادق ،پرنسپل تھنہ منڈی کالج ڈاکٹرشکیل رینہ کے علاوہ پولیس وسول انتظامیہ کے افسران بھی موجودتھے۔اس دوران مقررین نے ثقافتی پروگراموں کوطلباء میں ثقافتی اقدارپیداکرنے کیلئے اہم قراردیا۔
 

’مراقبہ کے ذریعے ذہنی تناو سے نجات‘ …راجوری یونیورسٹی میںورکشاپ اختتام پذیر

راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے زیر اہتما م ’’مراقبہ کے ذریعے ذہنی تناوسے نجات‘‘(Destress with Meditation)کے موضوع پر دوروزہ ورکشاپ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ا ختتام پذیر ہوا۔اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو مراقبے کی اہمیت وافادیت اور ذہنی تناو کی وجوہات اور مراقبے کے ذریعے اس سے نجات پانے سے متعلق مکمل واقفیت بہم پہنچاناتھا ۔ورکشاپ کے دوسرے روزاجلاس کی صدارت  کے فرائض شعبہ عربی ،اردو اور اسلامک اسٹڈیز کے صدر ڈاکٹر شمس کمال انجم نے انجام دیئے ۔ان کے علاوہ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو ،ڈاکٹر رفیق انجم اسسٹنٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز،ڈاکٹر نسیم گل اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز اور  بلال احمد اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز نے مذکورہ موضوع سے متعلق اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد ڈاکٹر نسیم گل اسسٹنٹ پروفیسر اور پروگرام رابطہ کار نے اس دوروزہ ورکشاپ کے اغراض ومقاصد بیان کیے ۔انھوں نے نظامت کے بہترین فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر رفیق انجم کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے  دعوت دی ۔ڈاکٹر رفیق انجم نے میڈیکل سائنس کے حوالے سے طلبہ وطالبات سے خطاب میں کہاکہ موجودہ دور میں زندگی کے مسائل بہت بڑھ چکے ہیں جس میں ایک اہم مسلہ ذہنی تناو کا بھی ہے اُس سے نجات پانے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہر آدمی صبر وتحمل اور ذکر وفکر سے کام لے اور کوشش کرے کہ مسائل حیات کو اپنے ذہن پہ بوجھ نہ بننے دے۔انھوں نے مختلف مثالوں سے طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے فرمایا کہ اکیسویں صدی سائنس اور ٹکنالوجی کی صدی ہے ۔اس صدی نے ہمارے سامنے اطلاعات ومعلومات کے دروازے کھول دیے ہیں لیکن ہم نے تکنیکی چیزوں کا غلط استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے آج ہم بہت حد تک تباہی کے دہانے پہ پہنچ چکے ہیں ۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ  کے احکامات کو  اللہ کے رسولﷺ کے نورانی طریقوں کے مطابق اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنایا جائے۔ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبئہ عربی ،اردو اور اسلامک اسٹڈیز نے نہایت معلوماتی اور بصیرت افروز خطبہ دیا جس سے تمام طلبہ اور اساتذہ محظوظ ومستفید ہوئے انھوںنے فرمایا کہ بہت سے روحانی عملیات کے ذریعے آدمی بیماریوں پہ قابو پاسکتا ہے ۔انھوں نے عربی میں کئی مسنون دعا وں کا ذکر کیا اور کہا کہ گناہوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کی توفیق انسان کو ذکر الٰہی ہی حاصل ہوسکتی ہے ۔لہذا آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر وقت اور ہرحال میں نیک ادادے کے ساتھ نیک کام کرے ۔انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ ارکان اسلام ہمیں چوبیس گھنٹے کی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ڈاکٹر نسیم گل نے کئی مغربی مفکرین اور اہل فلسفہ کے افکار ونظریات کے حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کا نظریہء تعلیم بنیادی طور پر روحانی پاکیزگی ،اخلاقی بلندی اور عالمی امن وبھائی چارے پر زور دیتا ہے تاکہ عالم انسانیت کی فضا عام ہوجائے اور ظلمت وتاریکی کے سیاہ بادل آسمان دنیا سے چھٹ جائیں ۔انھوں نے اس دوروزہ  ورکشاپ کو منعقد کروانے میں  اپنا کلیدی رول ادا کیا اور اس طرح یہ دوروزہ ورکشاپ بڑے خوب صورت انداز میں اختتام کو پہنچی۔طلبہ وطالبات کی ایک بھاری تعداد اس ورکشاپ کاحصہ بنی۔اس پروگرام کی ایک خاص خوبی یہ رہی کہ تمام اساتذہ اور طلبہ وطالبات نے مراقبے کی عملی مشق کا مظاہرہ کیا اور پورے دھیان وتوجہ کے ساتھ اس عمل کو کیا ۔آخر پر جناب بلال احمد اسسٹنٹ پروفیسر اسلامک  اسٹڈیز نے اظہار تشکر کی رسم انجام دی۔
 

مڈل سکول باڑی درہال میں کوئزمقابلہ منعقد

راجوری//گورنمنٹ مڈل سکول باڑی (درہال ) میں حالات حاضرہ سے متعلق طلباکی معلومات میں اضافہ کرنے کی غرض سے ایک کوئزمقابلہ کااہتمام کیاگیا جس میں طلباکوان کے اندرچھپی معلومات کے خزانہ کوظاہرکرنے کیلئے پلیٹ فارم دیاگیا ۔اس دوران طلباء نے مختلف مضامین سے متعلق اپنی معلومات کودیگرطلباء کے ساتھ مشترک کیا۔کوئزمقابلہ میںکرنٹ افیئرس ، جنرل نالج، سائنس اینڈٹیکنالوجی زمروں کے تحت طلباء کی کثیرتعدادنے حصہ لیا ۔اس دوران ونرس اوررنراپ طلباکی عزت افزائی کی گئی۔کوئزمقابلہ کااہتمام فوج کی جانب سے کیاگیاتھاجس کامقصد طلباکی معلومات میں اضافہ کرنااوران کی شخصیت کی ہمہ جہت ترقی یقینی بناناتھا۔
 

پونچھ کے صحافی ہربھجن سنگھ کی وفات پر

آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹ فیڈریشن کالواحقین کیساتھ اظہارتعزیت

حسین محتشم 
 
پونچھ//آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک تعزیتی اجلاس سردارسرجن سنگھ کی قیادت میں منعقدہوا جس میں ریاست کے ایک موقرانگریزی اخبارکے ساتھ کام کرنے والے پونچھ کے ایک صحافی ہربھجن سنگھ کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیاگیا۔اس دوران اجلاس کے شرکاء نے دومنٹ کی خاموشی اختیارکرکے آنجہانی ہربجھن سنگھ کوخراج عقیدت پیش کیا۔اس موقعہ پرمقررین نے کہاکہ ہربھجن سنگھ ایک نہایت خوش اخلاق اور اچھے انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہربجن کی صحافت کے شعبے میں خدمات ناقابل فراموش ہیں اورانہوں نے پونچھ کی عوام کی آواز کوبلندکرنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سردار سرجن سنگھ ،نریندر سنگھ،ایڈوکیٹ راجندر سنگھ  اور سردار دلجیت سنگھ نے  غمزدہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کااظہارکرتے ہوئے ہربجھن سنگھ کی صحافتی خدمات کواُجاگرکیا۔انہوں نے ہربھجن سنگھ کی موت کوپونچھ کیلئے ایک عظیم نقصان قراردیا۔
 

ڈگری کالج مینڈھرمیں یوم خواتین کی مناسبت سے تقریب

مینڈھر//وومن ڈیولپمنٹ سیل اور شعبہ سماجیات گورنمنٹ ڈگری کالج مینڈھرکے اشتراک سے عالمی یومِ خواتین کے سلسلے میں ’’ توازن بہتری کے لیے‘‘ موضوع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیاجس کی صدارت ڈاکٹر عبدالروف، رابطہ کار، آئی۔کیو۔اے۔سی،گورنمنٹ ڈگری کالج مہنڈر نے کی۔ ڈاکٹر جمیل احمد،صدر شعبہ سماجیات نے استقبالیہ خطاب میں عالمی یومِ خواتین کے دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ خواتین کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے ۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی سماج کی تعمیر و ترقی  خواتین کی فلاح و بہبود سے مشروط ہے ،اِس لیے کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہے۔ انھوں نے اِس بات کی جانب اِشارہ کیا کہ جاگیرداری نظام نے خواتین کے حوالے سے جو اخلاقیات وضع کی تھیں ، اور جن کی وجہ سے خواتین کو سماج میں اعلی مقام نہ مل سکاوہ آج بھی قائم ہیں۔ اِن کے علاوہ پروفیسر سکھ میت کور اور ڈاکٹر رفعت ناز کوثر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عبدالرئوف نے اپنے صدارتی خطبے میں اِس طرح کی تقریب منعقد کرنے پرمنتظمین کو مبارک باد پیش کی ۔انہوں نے کہا کہ اِس سے خواتین کے مسائل کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ تقریب میں طلبہ کے علاوہ کالج فیکلٹی نے بھی شرکت کی۔ آخر میں ڈاکٹر رفعت ناز کوثر نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔