شیڈولڈٹرائب درجہ سے متعلق فائل :پھرسے اعتراضات لگانے پراظہاربرہمی
پہاڑی طبقہ کی جانب گورنرکے رویے کی مذمت ، وزیراعلیٰ سے مداخلت کی اپیل
جا وید اقبال
مینڈھر// ریا ستی گو رنرکی جانب سے پہا ڑی طبقہ کی ایس ٹی کادرجہ دینے سے متعلق فا ئل کودوبارہ واپس بھیجنے پر پہا ڑی طبقہ کے لو گو ںمیں ناراضگی پائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں پہاڑی لوگوں نے ریا ستی گو رنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گو رنرموصوف جان بوجھ کر ریا ست کے حالات کو خر اب کر انا چاہتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ جو لو گ بار بار پہا ڑیو ں کی ریزرویشن میں خلل ڈالتے ہیںاگر حالات خر اب ہوئے تو ان کو بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس ضمن میں پہا ڑی کلچر اینڈ ویلفر فو رم، پہا ڑی ایکشن فو رم، پہا ڑی سٹو ڈنٹ یونین کے علا وہ کئی تنظیمو ں نے ریا ستی گو رنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے علاوہ اسمبلی اور کو نسل میں جب بل کو پاس کر کے ریا ستی گو رنر کے پاس بھیجا گیا ، تو پھر گو رنر کو کیا اختیا رات ہیں کہ گو رنرموصوف بار بار پہا ڑیو ں کے ریزویشن کے حق میں نہیں ہے اور ایک بار پھر کچھ اعترضات لگا کر بل کو واپس بھیج دیا گیا ۔ اور پہا ڑی طبقہ کے لو گو ں کے جذبات کو مجرو ح کیا گیا ۔ پہا ڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والی تنظیمو ں کے اراکین کا کہنا ہے کہ ریا ستی گو رنر جا ن بو جھ کر حالات کو خر اب کر نا چاہتا ہے اور اگر یہی رویہ رہا تو ہم خطہ پیر پنجال کو بند کر نے کا اعلان کر یں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ریا ستی گورنر پر عائد ہو گی ۔ انہو ں نے کہا کہ ایک بل اسمبلی میں پا س ہو گیا ، تو گو رنر کو کیا اختیارات ہیں کہ گو رنر بل کو واپس بھیجے یہ پہا ڑیو ں کے سراسر نا انصانی ہے ۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ ریا ستی گو رنر کشمیر کی طر ح خطہ پیر پنجال کے حالات کو خر اب کر نا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لو گو ں نے گو رنر کو یا دداشت نا مہ دیا ۔ وہ لو گ بھی اے ایل سی، اور آر بی اے کے زمر ے میں آتے ہیں ، لو گو ں کا کہنا ہے کہ یہ تمام ڈرامء با زی ریا ستی گو رنر خو د کر اتا ہے ، جس کو مر کز ی حکو مت نے کئی برسو ں سے ریا ست کے اندر بٹھا یا ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گو رنر کے پاس اس قسم کے اختیا رات نہیں ہیں کہ وہ ایک فا ئل کو بار بار واپس بھیج دے ۔ پہا ڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لو گو ں نے ریا ستی وزیر اعلی محبو بہ مفتی سے اپیل کی ہے کہ فو ری طور پر خو د مداخلت کر یں اور بل کو پاس کر ائیں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر جلد پہا ڑی طبقہ کے بل کو ریز ویشن کی منظوری گو رنر نہ دی گئی تو حالات خر اب ہو سکتے ہیں ۔ اور ہمیں خطہ پیر پنجال کو بند کر نے کا اعلان کر نا پڑے گا اور اگر ایسا ہو گیا تو حالات جلد ٹھیک نہیں ہوں گے ۔
کوٹرنکہ میں اے ڈی سی کی تعیناتی کامعاملہ
بی جے پی وزراء کی جانب سے مخالفت افسوسناک:پی ڈی پی راجوری
راجوری// پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی راجوری نے بھاجپا کے ان لیڈران کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جنہوں نے حالیہ روز کابینہ اجلاس میں کوٹرنکہ میں ایڈیشنل ڈی سی بٹھانے کی مخالفت کی۔ پی ڈی پی کے ضلع صدر راجوری اعجاز احمد مرزا نے پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ معروف اخبارات میں حالیہ روز کے کابینہ اجلاس کے حوالے سے بھاجپا لیڈروں کی طرف سے کوٹرنکہ مخالف خبریں شائع ہوئی ہیں ان سے بھاجپا کے کچھ لیڈران کی ذہینت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ بھاجپا لیڈروں کو کسی بھی علاقے کی ترقی کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ترقی ہر علاقے کا حق ہے اور ایک قومی سطح کی پارٹی سے اس طرح کی علاقائی ذہینت افسوس ناک ہے۔اس سلسلے میں اعجاز مرزا نے کہا کہ کوٹرنکہ میں ایڈیشنل ڈی سی کی تعیناتی ایک بڑا قدم تھا جو وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے لوگوں کی مانگ کے بعد لیا تھا اور پی ڈی پی اس کا خیر مقدم کرتی ہے اور کوٹرنکہ کی عوام کے پیچھے کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ سیاستدان اس معاملے کو کوئی اور ہی رنگت دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن لیڈروں کو بلاور ، بسوہلی اور بھدرواہ میں اے ڈی سی قابل قبول ہے ان کو کوٹرنکہ کی مخالفت میں سامنے نہیں آنا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لیڈر اس طرح کے معاملات اٹھاکر خود کو بے نقاب کررہے ہیں ۔ کوٹرنکہ میں اے ڈی سی پوسٹ دینے سے لوگوں کو کافی سہولیت ملی ہے اور یہ یہاں کے لوگوں کا حق تھا ۔ ’’ہم کسی دوسرے علاقے کے حق کو چھینے کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ ہم نوشہراہ ، کالاکوٹ اور سندر بنی میں بھی اے ڈی سی دفتر کھولنے کی مانگ کرتے ہیں لیکن بھاجپا کو دوسروں کی مانگ پوری کرنے کیلئے کوٹڑنکہ کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے ــ‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ اگر بھاجپا لیڈروں کو اے ڈی سی پوسٹ پر بات ہی کرنی ہے تو پھر بھدرواہ، بلاور اور بسوہلی پر بھی بات ہونی چاہئے ۔ ’’ہم بھدرواہ بسوہلی یا بلاور کیخلاف بھی نہیں ہیں اور ان لوگوں کو اپنا حق ملا ہے لیکن کوٹرنکہ کی مخالفت کر کے کچھ لیڈران لوگوں کے سامنے بے نقاب ہوگئے ہیں‘‘۔ انہوں نے محبوبہ مفتی سے مانگ کی ہے کہ وہ اس طرح کے لیڈران کے دبائو میں نہ آئیں اور اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیں تاکہ ریاست میں ترقی اور خوشحالی لائی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی لوگوں کو حق دینے کیلئے وجود میں آئی اور محبوبہ مفتی ایک ایک علاقے میں خود جاکر لوگوں سے بات کرتی ہیں اور ان کے معاملات حق کرتی ہیں لیکن اقتدار میں رہ کر کچھ لیڈران سرکاری فیصلوں کی ہی مخالفت کرتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنے کاموں سے بازآنا چاہیئے اور سرکاری کام پر دھیان دینا چاہیئے۔
پی جی کالج راجوری میںمقبول ساحلؔ کی یادمیں تعزیتی اجلاس
راجوری//انجمن زبان و ادب کاایک تعزیتی اجلاس پروفیسر جاوید احمد قاضی کی صدارت میں منعقدہواجس میں کالج کے پروفیسروں نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے مقبول ساحلؔ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زبان و ادب کے حوالے سے مرحوم کی خدمات کو سراہا گیا۔ شرکاء میں عبدالقیوم خان ، ڈاکٹر شمیم احمد آزادؔ ، پروفیسر جاوید مغل ، پروفیسر محمد اقبال رینہ ، پروفیسر ضمیر احمد مرزا، پروفیسر محمد فاروق مرزا ، ڈاکٹر محمد سلیم وانی اور ڈاکٹر عبدالحق نے اپنے اپنے حیالات کا اظہار کیا۔ مرحوم مقبول ساحلؔ کے ورثہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور آخر میں ڈاکٹر نعیمیؔ نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما ئے اور اہل خانہ ، رشتہ داروں اور دوست و احباب کو صبر و تحمل عطا فرمائے۔
پیرپنچال پارٹی لیڈران کادیوتابالاکوٹ کادورہ
جا وید اقبال
مینڈھر//مینڈھر جموں وکشمیر پیر پنجال عوامی پارٹی کے صدر ایڈوکیٹ چوہدری محمد یونس چوہان نے پارٹی کارکنان سمیت سرحدی پٹی بالاکوٹ کے دیوتا علاقہ جان بحق ہونے والے افراد اور زخمیوں کے گھر تعزیت کے بعد میڈیا مینڈھر کو ڈاک بنگلہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ ایک ہی کنبہ کے 5افراد کی موت اور 2معصوم بچیوں کا زخمی ہونا ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جسے سننے و دیکھنے کے بعد کسی سنگ انسان کی آنکھوںسے آنسوں نہ ٹپکیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اِن معصوم لوگ کے ساتھ1947ء سے لیکر آج تک لگاتار یہ سلسلہ جاری ہے جو ایک سیاسی جنگ اور زمینی تنازعہ ہے جس میں انسانی جانوں کی کوئی بھی قدر نہیں ہے۔ عوام کی لاشوں پر کی جانے والی سیاست کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔حالانکہ بین الاقوامی سطح پر انسانی تحفظ کے لیئے رضا کار تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جس میں ہمارے ملک کی بھی حصہ داری ہے ۔ جس نے کبھی بھی کوئی مثبت کردار نہ نبھایا اگر نبھایا ہوتا توا نسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ انھوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک آپسی تمام تنازعات گفت و شنیدکے ذریعہ حل کریں اگر دونوں ممالک کے حکمرانوں کو اپنی عوام سے محبت ہے تو وہ یو این او سے مداخلت کی اپیل بھی کریں ۔ ورنہ حب الوطنی کے تمام دعوے کھوکھلے ہی ثابت ہوں گے جس سے عوام اپنے حکمرانوں سے بد زن ہو جائے گی کہ خالی دعوے اور وعدے کھوکھلے ہیں۔ اُنکے ہمراہ مشتاق احمد فانی ریاستی سیکریٹری ، چوہدری محمد شفیع کھٹانہ ضلع صدر پونچھ ، عبدالرحمٰن ضلع جنرل سیکریٹری پونچھ اور دیگر شامل تھے ۔
بھاجپا لیڈر کا بھنگائی کے مسائل پراظہارتشویش
طارق شال
تھنہ منڈی //بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلع نائب صدر، چوہدری آصف کٹاریہ نے تھنہ منڈی کے دور دراز کے علاقہ بھنگائی کا دورہ کر نے کے بعد عوامی مسائل پرتشویش کااظہارکیا۔اس دوران بھنگائی کے لوگوں نے کہا کہ یہ علاقہ کافی پسماندہ ہے اور یہاں کی بیشتر آبادی خط افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کر رہیہے۔ بھنگائی میں اس سے قبل کسی سرکار نے سنجیدگی سے مسائل حل نہیں کئے۔ جبکہ یہ لوگ پانی بجلی۔ راشن اور سڑک رابطہ سے محروم ہیںاور محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے ہو رہی سڑک کو اس وقت تک مکمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی سڑک کے بیچ، آنے والی زمین کے بدلے زمین مالکان کو معاوضہ فراہم کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ بھنگائی کو ماڈل ولیج کے طور پر ترقی دی جائے اور پنگائی کو ڈیرہ گلی کے ساتھ جوڑا جائے بھاجپا لیڈر نے عوام بھنگائی کو یقین دھانی کرائی کہ موجودہ سرکار دیہاتی عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی سے تگ و دو کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات عوام کا حق ہے۔ انہوں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ محکموں سے بھنگائی میں پانی۔ بجلی۔ راشن اور سڑک رابطہ کو مکمل کرنے کے لئے اعلی حکام سے رابطہ کیا۔ بھاجپا لیڈر کے ہمراہ منیر حسین۔ عبدالعزیز چوہدری۔،فضل حسین چوہدری کے علاوہ کافی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
سیکلو،سلونیاں اورچکراڑہ کے لوگ آلودہ پانی پینے پرمجبور
مقامی لوگوں کاعلاقہ میں لفٹ سکیم قائم کرنے کامطالبہ
عشرت بٹ
منڈی//منڈی صدر مقام سے پانچ کلو میٹر دوری پر واقع گاوں سیکلو،سلونیاں اور چکراڑا کے لوگوں کو روزانہ محکمہ صحت عامہ کی جانب سے گندہ پانی مہیا کروایا جا رہا ہے جس کو وجہ علاقہ کی عوام آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے۔ ذرائع کے مطابق تحصیل منڈی کے سیکلو سلونیاں اور چکراڑا میں محکمہ صحت عامہ کی جانب سے پینے کے پانی کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے پائپ لائنیں بچھائیگئی ہیں جو کہ اب بوسیدہ ہو چکی ہیں اور جن میں چوبیس گھنٹوں گندہ پانی چلتا رہتا ہے جس کو پینے کے لیے ان علاقہ جات کے لوگوں کومجبورہوناپڑرہاہے۔ ان علاقوں کی عوام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصہ پہلے ان علاقوں میں محکمہ نے پینے کے پانی کے لیے پائپ لائنیں بچھائی ہیں جو کافی بوسیدہ ہو چکی ہیں اور ان میں جو پانی آتا ہے وہ بالکل گندہ ہے ۔عوام نے کہا کہ اس حوالے سے متعدد دفعہ محکمہ کے اعلیٰ افسران کو آگاہ بھی کیا گیا مگر انہوں نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا ۔لوگوں کا کہنا تھا کہ جہاں سے ان علاقوں کو پانی دستیاب کیا جاتا ہے وہی سے پانی میں مٹی اور دوسری گندی چیزیں مل جاتی ہیں مگر محکمہ اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کی عوام کو مجبورً ااسی پانی کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔یہاں کی عوام نے محکمہ صحت عامہ کے اعلی افسران سے اپیل کی ہے کہ ان علاقوں کے لیے ایک لفٹ سکیم کا قیام کیا جائے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں عوام کو بہتر پانی میسر ہو سکے عوام نے مزید کہا کہ اس گندے پانی کو پینے سے یہاں کے متعدد لوگ بیماریوں کے بھی شکارہو رہے ہیں ۔عوام نے کہا کہ اگر محکمہ نے اس مسئلے کو جلد حل نہ کیا تو وہ سڑکوں پر اتر کر ہڑتال کریں گے۔
پروین سرورخان کا سرحدی علاقوں کادورہ
حکومت سے عوام کی مشکلات کاازالہ کرنے پرزور
مینڈھر //آل انڈیاکانگریس کمیٹی کی رکن پروین سرور خان نے بالاکوٹ کے سر حدی دورہ کے بعد جاری کئے گئے اخباری بیان میںکہاکہ گولہ باری سے علاقے میں ہونے والا نقصان اس قدرر بھیانک ہے کہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بیک وقت لقمہ اجل بن گئے۔ گولہ اُنکی رسوئی میں آگر اجہاں وہ ناشتہ کر رہے تھے ۔ جائے وقوعہ نہایت ہی خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔ دو گھر ایسے دیکھنے کو ملے جنکے گرد ونواح تیس سے زائد گولے گرے ہوئے تھے جسے گھروںکو شدید نقصان پہنچا ۔ مقیم لوگوں نے نہایت ہی درد بھری سسکیوں میں امن کی مانگ کی اور یہ بھی بتایا کہ انتظامیہ یا حکومت کی طرف سے کسی بھی ذمہ دار نے ہماری خبر نہ لی ہے۔البتہ وہاںکوئی بھی انسانی جانی نقصان نہ ہوا ہے ۔ کافی تعداد میںمویشی مارے گئے ہیں۔گھر والوں نے تقریبًا دو درجن سے زاید پھٹے ہوئے بمبوںشیل دکھائے ہیں۔جو ابھی بھی اُنکے صحن میں موجود ہ ہیں۔دورہ کے دوران حاجی امتیاز احمد خان اور راجہ وسیم کے علاوہ علاقہ کے معززین بھی موجود تھے۔ پروین سرورخان نے کہاکہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک انتظامیہ کا کوئی بھی فرد وہاں پر نہ گیا۔اور بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔تحصیل اور ضلع انتظامیہ کی شدید اور سخت الفاظ میں مذمت کی کہ اُنکا کوئی بھی اہل کار موقعہ پر نہ گیاجسے اُنکی بے حسی واضح ہوتی ہے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ کہ وہ اپنے پڑوسی ملک سے بات کرے اور امن کی راہ ہموار کرے تاکہ اس علاقہ کے لوگ پر امن زندگی گزار سکیں۔دورہ کے دوران علاقہ مین بنیادی سہولیات کا فقدان دیکھنے کو ملا حکومت کو چاہیئے کہ انھیں تمام بنیادی ضروری سہولیات فراہم کرے ۔ تاکہ علاقہ میں حکمران طبقہ پر عوام کا اعتماد بحال رہے ۔
روگی کلیان سمیتی راجوری اسپتال کی میٹنگ منعقد
عظمیٰ نیوز
راجوری //ممبراسمبلی راجوری ایڈوکیٹ قمر حسین کی صدارت میں ضلع ہسپتال راجوری کی روگی کلیان سمیتی کی میٹنگ منعقد ہوئی ۔میٹنگ میں اسپتال کی کارکردگی اور مریضوں کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا جبکہ اس موقع پر میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر محمود نے ضلع ہسپتال کے لئے لیپروسکوپک سرجری اور فزیو تھراپی کو شروع کر نے اور ان کے خریداری کے لئے منظوری طلب کی جس پر ممبراسمبلی راجوری ایڈوکیٹ قمرحسین نے کمیٹی کی مشترکہ رائے پر ان دونوں کی منظوری دے دی اور کہا کہ جلد ہی ان کی شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کو ضلع ہسپتال سے فائدہ حاصل ہوسکے ۔ اس کے علاوہ میڈیکل سپرانٹنڈنٹ نے سٹاف کواٹروںکی تعمیر پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اکثر دیر رات کو ڈاکٹروں یا دیگر سٹاف ممبران کی ضرورت پڑنے پر موقع پرکوئی نہیں پہنچ سکتا کیونکہ سبھی اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں اس لئے سٹاف کواٹروں کی تعمیر کے لئے ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے جس پر ایم ایل ائے راجوری نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں وزیر صحت سے بات کرئے گے اور اگر ضرورت پڑی تو وزیراعلیٰ سے بھی بات چیت کی جائیگی تاکہ جلد ہی سٹاف کواٹروں کی تعمیر کا کام شروع ہوسکے ۔ اس موقع پر سی ایم او راجوری ڈاکٹر سریش گپتا ،ایگزیکٹو انجینئر پی ڈی ڈی راجوری اور کمیٹی ممبران بھی موجود تھے ۔ وہیں ضلع ہسپتال کے سامنے والی محکمہ زراعت کی زمین پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ڈاکٹر محمود نے کہا کہ 19کنال کی زراعت کی زمین کو ضلع ہسپتال کے نام پر منتقلی کے لئے ڈویژن کمشنر جموں کے آفیس میں ہماری فائل موجود ہے جس کے لئے ہم کوشش بھی کررہے ہیں تاکہ ہم اس زمین کو ضلع ہسپتال کے لئے استعمال میں لاسکے ۔ وہیں ایم ایل ائے راجوری نے ہسپتال انتظامیہ کو یقین دہانی دی ہے کہ وہ پوری کوشش کرزمین کو ہسپتال کے نام پر منتقل کروائے گے ۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کی سہولیات اور علاج کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اس مریضوں کو ہر سہولیات فراہم کی جائے اور ہسپتال کی بہتری کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہوگی وہ فراہم کی جائیگی ۔
سڑک حادثات میں تین افرادزخمی
رمیش کیسر+بختیار حسین
نوشہرہ +سرنکوٹ// مستان درہ سرنکوٹ میںایک موٹر سائیکل کی ایک ٹیمپوسے ٹکرہونے کے نتیجے موٹرسائیکل سوار محمد یونس ولد عبدالقیوم ساکنہ درابہ جو دوپیہہ گاڑی سے گھر جا رہا تھا شدید زخمی ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل زیر نمبر jk12A 2623 جو ٹیمپو کی زدمیں آگیاجس کے نتیجے میں موٹر سایکل سوار شدید زخمی ہوگیاتاہم زخمی کوفوری طور سب ضلع اسپتال میں لایا گیا جہاں اس کا علاج ابھی چل رہا ہے۔علاوہ ازیںنوشہرہ نوشہرہ کے ٹی سی پی میں موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں کوٹیمپو نے ٹکر مار دی جس میں دونوں شدید طور پر زخمی ہو گئے اور انہیں علاج کے لئے جموں میدیکل کالج ریفر کیا گیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ نوشہرہ سے ٹی سی پی جا رہے سریش کمار( ۲۵)ولد بلدیوراج ورکیش کمار(۳۲) ولد پرس رام ساکنان جگھڑ کو قومی شہرہ پر راجوری جا رہیایک تیز رفتار ٹیمپو نے ٹکر مار دی جس سے وہ دونوں شدید زخمی ہو گئے اور دونوں کو مقامی لوگوں نے ہسپتال لایا جہاں طبی علاج کے بعد دونوں کو جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا۔ٹیمپوکاڈرئیورفرار ہونے میں کامیاب رہا اور پولیس نے ملزم کو ڈھونڈنے کا کام جاری کر دیا ہے۔
پونچھ میں چھوٹی مسافر گاڑیوں کے لئے سٹینڈ کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ قصبہ میں چھوٹی مسافر گاڑیوں کے لئے الگ سے سٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں نیشنل کانفرنس یوتھ کے ضلع صدر نیشو شرما کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ عمل میں لایاگیا جس میں ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور مالکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس دوران انتظامیہ سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین نے نعرے بازی کر کے الگ سٹینڈ کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشو شرما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار مطالبہ کے بعد بھی ان کی آواز نہیں سنی جاتی۔انہوں نے کہا کہ پونچھ کے مختلف علاقوں کے لئے سینکڑوں آٹوز، سوموز اور دیگر گاڑیوں کو پرمٹ دیئے گئے ہیں لیکن ان کو کھڑا کرنے کی جگہ فراہم نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انھیں گاڑیٰاں سڑکوں پر کھڑی کرنی پڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کو بار بار اپیل کئے جانے کے بعد بھی سٹینڈ کے سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے اب ان مقامات پر نو انٹری زون قائم کئے گئے ہیں جہاں وہ اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے سواریاں بھرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد از جلد ان مسافرو گاڑیوں کے لئے الگ سٹینڈ قائم نہ کیا گیا اور منصوبہ بند طریقہ کار اپنا کر ان کو راحت نہ پہنچائی گئی تووہ لوگ سخت احتجاج کر کے گاڑیوں کو بند کر دیں گے اور اس کے بعد جو بھی ہو گا اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
پراسرارپختہ شیڈکاڈھانچہ پراسرارطورمنہدم
انتظامیہ سے ملوثیں کے خلاف کارروائی کامطالبہ
حسین محتشم
پونچھ //چند سال قبل تک پونچھ میونسپل کونسل کی جانب سے پونچھ شہر میں داخل ہونے والے کاروباریوں سے چونگی وصول کی جاتی تھی اس دور میں شہر کے اندر داخل ہونے والے تمام راستوں پر پختہ شیڈ بنائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک محلہ شنکرنگردریا کے بالکل نزدیک ہے جسے گزشتہ روز رات کے اندھیرے میں گرا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سماجی کارکن عبدالرشید شاہپوری نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ڈھانچہ کسی نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے گرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ کے کچھ لوگ سرگرم رہکر سرکاری املاک پر قابض ہورہے ہیں اور پھر اسے بیچ دیتے ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ کی چھان بین کر کے قصوروار افرد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ طارق احمد زرگر اور ایس ایس پی پونچھ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری املاک پر قابض ہونے والے مافیا کی نشاندہی کر کے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ دوسروں کے لئے سبق بنے اور دوبارہ کوئی سرکاری املاک پر قابض ہونے کی جرأت نہ کرے۔
ملٹی لینگول لٹریری سوسائٹی کامقبول ساحلؔکی وفات پراظہارتعزیت
پونچھ//ملٹی لینگول لٹریری سوسائٹی پونچھ کی جانب سے معروف شاعر و ادیب اورصحافی و پہاڑی سماجی رکن ساحل مقبول کی اچانک وفات پر ایک تعزیتی اجلاس زیر صدارت احتشام حسین بٹ منعقد کیا گیا ۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے مقررین نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کشمیر سے تعلق رکھنے والے ساحل مقبول کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوگئی جس پر ریاست بھر کے ادبی ، سماجی وسیاسی شخصیات دکھ کا اظہار کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انہیں یقین نہیں ہورہا کہ ساحل مقبول رحلت کرگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ ابھی جوان تھے اور صحت یاب بھی لیکن موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔انہوں نے کہاکہ ساحل نے نہ صرف شعر و ادب اور صحافت کے میدان میں نمایاں کام کیا بلکہ ان کی پہاڑی قوم کیلئے بھی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم نے بطور پہاڑی قلمکار ایسی خدمات انجام دیں جن کی وجہ سے انہیں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ مرحوم کے لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کی روح کی مغفرت کیلئے دعا گو ہیں۔ اس دوران خصوصی فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد اعظم، پروفیسرامجد علی با بر،پروفیسر مجاہد مغل، پروفیسر محمد اعظم اور لیکچرر فرید خان موجود تھے۔