اساتذہ کی غیر قانونی اٹیچ منٹیں
تعلیمی زون منڈی کے طلباء کا مستقبل مخدوش
عشرت بٹ
منڈی//تعلیمی زون منڈی کے زونل ایجوکیشن دفتر میں مختلف اسکولوں کے اساتذہ کافی عرصہ سے اٹیچ کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے کئی سکولوں کا تعلیمی نظام مخدوش ہو رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق دفترکا اپنا عملہ موجود ہونے کے باوجود پرائمری سکول کلساں اڑائی ،مڈل سکول راجپورہ لفٹ اور مڈل سکول بیدار کے اساتذہ کو زیڈ ای او دفتر میں اٹیچ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی نظام متاثر ہورہاہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ منڈی کا تعلیمی نظام زبوں حالی کاشکار ہے اور جہاں دیگر مسائل کاسامناہے وہیں اساتذہ کی اٹیچ منٹیں بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سالہاسال سے اٹیچ منٹ پر تعینات ان اساتذہ کو اپنے اپنے سکول میں واپس بھیجاجاناچاہئے کیونکہ ان کا کام طلباء کو درس دیناہے نہ کہ دفتری کام سنبھالنا ۔انہوںنے کہاکہ اس بات کی تحقیقات کروائی جائے کہ ان اساتذہ کی اٹیچ منٹ کیسے ہوئی ۔لوگوں کاکہناہے کہ طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کیاجائے ۔اس سلسلے میں جب زونل ایجوکیشن افسر منڈی غلام حسین سے رابطہ کیاگیاتو انہوںنے بتایاکہ ن کے دفتر میں آجکل کوئی بھی استاد اٹیچ نہیں البتہ سکولوں میں تعطیلات کے دوران کچھ اساتذہ کو دفتری کام کیلئے دفتر میں بلایا جاتا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی تعیناتی سے قبل ایسا ہوتا تھا مگر جب سے انہوں نے بطور زونل ایجوکیشن افسر منڈی کا چارج سنبھالا ہے تب سے کوئی اٹیچ منٹ نہیں کی گئی۔
سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائیگا:پہاڑی پیپلز مومنٹ
راجوری //پہاڑی پیپلز مومنٹ نے ریزرویشن معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا انتباہ دیاہے ۔ راجوری میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ شہباز خان اورترجمان ایڈووکیٹ عبدالقادر خان نے کہاکہ پہاڑی طبقہ کی پسماندگی کو تسلیم کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ، اسمبلی ، جسٹس صغیر کمیشن ، ڈی ایل بٹ رپورٹ ، مذاکرات کاروں کی طرف سے ایس ٹی درجہ کی سفارش کی گئی تاہم کچھ لوگ اس میں خواہ مخواہ کے روڑے اٹکارہے ہیں جن کے خلاف اب خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی اور پہاڑی طبقہ اپنے حق کی خاطر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔انہوںنے کہاکہ پہاڑی طبقہ نے کبھی کسی بھی طبقہ کی مانگ کی مخالفت نہیں بلکہ ہمیشہ مدد فراہم کی تاہم ان کی مخالفت میں ایسے لوگ بھی سامنے آرہے ہیں جو کسی بھی طور پر پسماندہ نہیں اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ پہاڑی طبقہ نہ صرف پسماندہ ہے بلکہ سرحدوں پر آباد ہونے کی وجہ سے آر پار کشیدگی کاشکار بھی رہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر اس بار بھی طبقہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیاجائے گا۔اس موقعہ پر ونود کمار ، راجن سنگھ ، دانش مغل ، شیراز احمد ، عمر میر ، دانش قاضی اور محمد طارق بھی موجو دتھے۔
نجی سکولوں میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں
سیکریٹری نے تحقیقات کا یقین دلایا ۔BOSE
منیر خان
راجوری//راجوری قصبہ میں پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد روز مرہ بڑھتی جارہی ہے اور ایسے سکول بھی قائم ہورہے ہیں جن بنیادی سہولیات کافقدان ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ نجی تعلیمی ادارے دو دو ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف پیسے کماناہے ۔ مقامی لوگوں نے ایک اسکول کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایتی کے مقام پرایک سکول چل رہاہے جو چند کمروں پر مشتمل ہے ۔ان کاکہناہے کہ ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ نویں جماعت کے داخلے مذکورہ سکول میں ہورہے ہیں جبکہ اب تک بورڈ ایجوکیشن کی طرف سے اجازت نامہ فراہم ہی نہیں کیا گیا ۔رابطہ کرنے پر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی سیکریٹری ڈاکٹروینا پنڈتا نے بتایا کہ ایفی لیشن کمیٹی کی میٹنگ اب تک نہیں ہوئی اور نیشنل پبلک اسکول ایتی کو اجازت نامہ کس نے دیا ،جس پر وہ کمیٹی تشکیل دے کر جانچ کروائیںگی ۔وہیںاس سکول کے سربراہ نے بتایاکہ ان کی فائل جمع ہوچکی ہے اوراسکول چلانے میں کسی کو کوئی بھی اعتراض نہیں ۔ان کاکہناتھاکہ کمیٹی کی میٹنگ چار تاریخ کو ہونی تھی جوکسی وجہ سے نہ ہوسکی تاہم اسکول میں نویں جماعت کے لئے داخلوں کے لئے اجازت زبانی طور پر دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں بنیادی سہولیات ہیں اورتحریری طور پر لکھ کردیاگیاہے کہ وہ جلد عمارت تعمیر کریںگے ۔
ناجائز تجاوزات مخالف مہم
کوٹرنکہ انتظامیہ کاقابضین کے نام نوٹس
کوٹرنکہ// ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ شفیق احمد چوہدری کی ہدایت پر انتظامیہ نے ناجائز تجاوازات مخالف مہم تیز کردی ہے۔ گزشتہ دنوں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے سرکاری اراضی کی پیمائش کی ۔اس دوران پایاگیاکہ کچھ اراضی پر ناجائز قبضہ کیاگیاہے جس پر قابضین کے نام انتظامیہ کی طرف سے نوٹس جاری کرکے ان سے کہاگیاہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس جگہ کو خالی کردیں نہیں توانہدامی کارروائی کی جائے گی ۔
پی ایچ ای عارضی ملازم تنخواہوں سے محروم
حسین محتشم
پونچھ//محکمہ پی ایچ ای کے عارضی ملازم پچھلے کئی ماہ سے تنخواہوںسے محروم ہیں ۔ان ملازمین نے ایک احتجاجی ریلی نکال کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔اس ریلی میںآئی ٹی آئی ڈپلومہ ہولڈر،سی پی ورکرز، لینڈ کیس کے تحت لگائے گئے ملازم بھی شامل تھے ۔یہ ریلی مین پمپ اسٹیشن سے محکمہ کے دفتر تک نکلی ۔انہوں نے عرصہ دراز سے تنخواہیں واگزار نہ ہونے پر محکمہ کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا۔ ریلی کے دوران عارضی ملازمین نے تمام ملازموں کو مستقل کرنے اور بقایا تنخواہیں واگزار کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ عارضی ملازموں سے سارا کام کروایا جاتا ہے اور بروقت تنخواہیں واگزار نہ کر کے ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ ان سے حکام نے بار بار وعدے کئے ہیں کہ ان کو مستقل کیا جائے گا لیکن ہر بار انہیںمایوس کر دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں بہت کم محنتانہ دیا جاتا ہے اوروہ بھی بروقت نہیں ملتا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی تنخواہیںجلد سے جلد واگزار کی جائیں نہیںتو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریںگے ۔
آنگن واڑی ورکروںکو 7ماہ سے مشاہرہ نہیں ملا
طارق شال
تھنہ منڈی // مالی سال ختم ہونے میں صرف ایک ہفتہ بچاہے لیکن آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کو گزشتہ سات ماہ سے ماہانہ مشاہرہ نہیں دیاگیا۔ضلع پونچھ میں محکمہ آئی سی ڈی ایس میں کام کرنے والی آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز اپنے مطالبات پر کئی ہفتوںسے احتجاج کررہی ہیں لیکن ان کی بات سنی ہی نہیں جارہی۔تھنہ منڈی کی ان کارکنان کو ایسے ہی مسائل کاسامناہے ۔ تھنہ منڈی اور درہال میں کام کرنے والی آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کاکہناہے کہ انکی مانگوں کو پورا کر کے انکے بقا یا جات واگزار کئے جائیں نہیںتو وہ بھی احتجاج کاراستہ اختیا ر کریںگی ۔رابطہ کرنے پر پروگرام آفیسر آئی سی ڈی ایس راجوری محمد رشید چوہدری نے بتا یا کہ اعلیٰ حکام کو محکمہ میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے درکار فنڈز کے متعلق لکھا گیا ہے اور فنڈز آتے ہی بقایاجات ادا کردیئے جائیںگے۔
۔23ویں روز بھی آنگن واڑی ورکروںکا احتجاج جاری
حسین محتشم
پونچھ// آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کا احتجاج23ویں روز بھی جاری رہا۔فوارہ گارڈن میں یکجا ہو کر ایک بار پھر ان ملازمین نے ریاستی اور مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کے دعوے بے بنیاد ہیںاور ان کے ساتھ انصاف نہیں کیاجارہا۔احتجاجی مظاہرے کے دوران مقررین نے کہا کہ سرکار ایک طرف بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کانعرے لگا کر خواتین کی بہبود اور خود کفالی کے بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کا دعویٰ کر رہی ہے تودوسری جانب وہ سینکڑوں خواتین ناانصافی کاشکار ہیں ۔انہوں نے تنخواہوں میں اضافے، پنشن اسکیم لاگو کرنے اور سبکدوشی کے وقت دوسرے ملازموں کی طرح فائدہ دینے کا مطالبہ کیا ۔انہوںنے انتباہ دیاکہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ اپنی اس ہڑتال میں مزید شدت لائیںگی ۔
شعبہ خاطر تواضع و سیاحت میں روزگار کے امکانات
مینڈھر کالج کے طلباء کیلئے بیداری پروگرام
مینڈھر //گورنمنٹ ڈگری کالج مینڈھر میں ’خاطر تواضع و سیاحت ‘کے موضوع پر تبادلہ خیال کا پروگرام منعقد کیاگیا۔کالج حکام کے مطابق اس موقعہ پر ڈائریکٹر سنٹر برائے خاطر تواضع و سیاحت بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری اسرار گوس مہمان خصوصی تھے۔اس پروگرام کا مقصد طلباء کو اس شعبے کے متعلق بیدا رکرناتھا جس سے ان کیلئے دنیا بھر میں روزگار کے مواقع پید اہوسکتے ہیں ۔مہمان خصوصی نے بتایاکہ دنیا میں 20ملازمتیں اسی شعبے سے جڑے افراد کو ملتی ہیں ۔پروفیسر عامر ملک نے اس دوران موضوع کی مناسبت سے اہم لیکچر دیا ۔انہوںنے کہاکہ یونیورسٹی ملازمت ملنے والے کورسز کی پیشکش کرتی ہے جن کے ذریعہ طلباء اپنے کیریئر کو بہتر بناسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس کورس کے بعد ایئرلائن ، ہوٹلوں ، محکمہ سیاحت اور دیگر شعبوں میں ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے ۔پروگرام میں پروفیسر شوکت حسین ، پروفیسر اے اے چوہدری ،پروفیسر ڈاکٹر معروف خان ، پروفیسر محمد اکرم ، ڈاکٹر اعجاز احمد ، ڈاکٹر شکیل احمد ، ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ ، پروفیسر ممتاز احمد ، ڈاکٹر عبدالرشید وغیرہ بھی موجودتھے ۔
آتشزدگی میں مکان خاکستر
۔50ہزار نقدی اور دیگر سامان جل گیا
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے گاہنی علاقہ میں ایک شخص کا مکان جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔سرحدی علاقہ گاہنی میں نیاز احمد ولد محمد صادق کے مکان کو گیس کے اخراج سے اچانک آگ لگ گئی جس سے اس کا بھاری نقصان ہو ااور گھر میں رکھی ہوئی قیمتی اشیاء کے علاوہ پچاس ہزار روپے نقدی بھی جل گئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق آگ اچانک گیس خارج ہونے سے لگی جس کے بعد یہ پورے مکان کے اندر پھیل گئی اور مکان جل کر تباہ ہو گیاجس دوران گھر میں رکھی ہوئی تمام اشیاء بھی خاکستر ہوگئیںالبتہ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیںہوا۔مقامی لوگوںنے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس غریب شخص کو معاوضہ دیاجائے تاکہ وہ دوبارہ سے مکان تعمیر کرسکے ۔ اس سلسلہ میں مینڈھر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہے۔