قانون میں ترمیم کاسرکاری اعلان اطمینان بخش
وزرا کے استعفوں کوانکی بے گناہی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا :گریٹر پیرپنچال وکلاء فورم
جموں//گریٹر پیرپنچال وکلاء فورم نے ریاستی حکومت کے اس اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں عصمت دری اور قتل کے ملزمان کے انجام کے طور پرموجودہ قانون میں ترمیم کرکے سزائے موت طے کئے جانے کاعندیہ دیا ہے۔یہاں جاری پریس بیان میں فورم نے اس اعلان کی حمایت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیاہے کہ رسانہ کٹھوعہ میں تین ماہ قبل ایک معصوم کے ساتھ کی گئی درندگی اور قتل کی انسانیت سوز واردات انجام دینے والے جنونی درندوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی غرض سے مقدمہ کی سماعت کیلئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایاجائے ، جہاں ایک طرف فورم نے مفاد عامہ کی رٹ درخواست میں عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں وزیر قانون کے نام اپنے مکتوب میں مانگ کی کہ حکومتی سطح پر بھی اس ضمن میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیںتاکہ بلا تاخیر مقدمہ کی سماعت شروع ہو سکے۔حال ہی میں پاکستان کے شہر قصور میں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اورقتل کے واقعہ کی تفتیش اور طریقہ سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں کہاہے کہ انتالیس دن کی ریکارڈ مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرکے ملزم کو سزائے موت دے کر عصمت دری اور قتل معاملہ میں انصاف کی ایک سبق آموز مثال قائم کی گئی ،حالانکہ اس ملک کے نظام عدل کو عمومی طور پر کئی ممالک میں شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ دونوں ممالک میں یکساں ضابطہ نافذ العمل ہے۔ فورم نے مزید مانگ کی کہ سماعت کی خصوصی عدالت کو کوٹ بھلوال جیل کے اندر قائم کیا جائے اورسماعت کی مدت زیادہ سے زیادہ تین ماہ طے کی جائے۔ فورم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس مقدمہ کی ضمنی تفتیش کو روان رکھا جائے کیونکہ وزرا کے استعفوں کوانکی بے گناہی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس جرم کے محرکات اور اغراض ابھی بھی تشنہ تفتیش ہیں۔فورم نے بار ایسو سی ایشن جموں کے نام پراسکے نام نہاد اہلکاروں کی جانب سے معصوم روح کے ایصال ثواب کیلئے سنیچر کی شام کینڈل مارچ منعقد کئے جانے کو ایک شرمناک شعبدہ بازی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور فورم کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ اس نوعیت کی کسی مارچ یا پروگرام میں شامل ہونے سے اجتناب کریں جو ہمارے سماج کے انسانی اقدار کے حامل اوردرد مند طبقہ کی توہین و تذلیل اور ان کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے،یہ اوچھی حرکتیں مظلوم کنبہ کے زخموں کی نمک پاشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔فورم نے بار ایسو سی ایشن کے اس مطالبہ کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا جس میں متاثرہ کنبے کوجلد سے جلد مالی معاونت اور تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کی ہے جو مگرمچھ کے آنسوئوں کے سواکچھ بھی نہیں۔ بیان کے مطابق ایک ننھی سی جان کی عصمت دری اور قتل میں ملوث افراد کے حامیوں کے دلوں میں یکلخت میں اس معصوم کے لئے درد کاجاگ اٹھنا قابل فہم ہے جسکی اصل وجہ ملکی سطح پر میڈیا اور عدالتی اداروں کی جانب سے لعن طعن اور تادیبی کارروائیوں کا آغاز ہے، یہ لوگ اس نوعیت کی اوچھی حرکتوں کے پیچھے اپنا منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔فورم کا کہنا تھا کہ 8 سالہ بچی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کا معاوضہ کی سفارش کرنے والے بہروپیوں کو ڈوب مرنا چاہئے۔ فورم نے ریاستی چیف جسٹس سے سی جے ایم کٹھوعہ کے خلاف انکوائری کا بھی مطالبہ کیا جس نے6 گھنٹے تک چالان لینے میں لیت و لعل سے کام لیا۔فورم نے اس بربریت کے خلاف آواز بلند کرنے پر ریاست کے طول وعرض خاص کر گریٹر پیر پنجال خطہ کے ادیبوں، دانشوروں، علماء ،وکلاء ، طلباء خواتین اور نوجوانوں کی سراہنا کی جنہوں نے حتی المقدور اپنی صدائے احتجاج بلندکی اور اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ آئندہ بھی وہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے۔
داخلہ فیس میں بے تحاشہ اضافہ
غریب طلباء کیلئے حصول علم مشکل ہوگیا
طارق شال
تھنہ منڈی//محکمہ تعلیم کی طرف سے داخلہ فیس میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے غریب گھرانوں کے طلباء کیلئے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوگیاہے ۔ کچھ عرصہ قبل محکمہ تعلیم نے ریاست میں سرکاری اسکولوں میں بچیوں کی تعدادمیں اضافہ کرنے کیلئے مفت تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا جس سے غریب اور مفلس گھرانوں کی طالبات نے بھی سرکاری سکولوں میں داخلہ لیا ۔ تاہم محض ایک سال کے بعد ہی سرکارنے فیس دو گنا بڑھادی ہے جسکی باعث سرکاری اسکولوں میں داخلے میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ سرکار نے مفلس اور نادار بچیوں کے ساتھ بھدامذاق کیا ہے۔ان کاکہناہے کہ مرکزی اور ریاستی سرکار بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کی مہم چلارہی ہے لیکن فیس میں اضافہ سے ان کیلئے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوگیاہے ۔اس سلسلے میں چیف ایجوکیشن آفیسر راجوری چوہدری لعل حسین نے بتا یا کہ سرکاری اسکولوں میں طالبات کی تعداد اور داخلہ فیس کا تخمینہ لگا کر ایک پروجیکٹ مرتب کر کے روانہ کیا لیکن اسوقت تک محکمہ تعلیم کو سرکار کی طرف فنڈز دستیاب نہ ہوئے ہیں جسکی وجہ سے نظام مفلوج ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی داخلہ فیس میں اضافہ ہواہے ۔
ڈونگی کالج کے قیام کاخیر مقدم
تھنہ منڈی //صوبہ جموں میں مزید چھ ڈگری کالج کھولنے کا اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے پی ڈی پی کارکن عبدالرشید شال نے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار لوگوں کی امیدوں پر پورااتر رہی ہے ۔ انہوںنے اپنے ایک بیان میں کہاکہ صوبہ جموں میں چھ مزید کالج قائم کرنے کا اعلان کیاگیاہے اور ان میںسے ایک کالج ڈونگی میں کھولاجائے گاجس کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ وہ راجوری کے ممبراسمبلی چوہدری قمر حسین کی سراہنا کرتے ہیں جنہوںنے ڈونگی کو کالج دلایا۔انہوںنے سفینہ بیگ کو پی ڈی پی خاتون ونگ کی صدر بنائے جانے کا بھی خیر مقدم کیا ۔
بھاجپا لیڈران کی بنیادی ممبر شپ خارج کرنیکا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر//سیول سوسائٹی مینڈھر نے بھاجپا کے دووزراء کو کابینہ سے نکالے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی بنیادی ممبر شپ بھی خارج کی جائے تاکہ رسانہ قتل کیس کے حوالے سے انصاف ہوسکے ۔سیول سوسائٹی کے ارکان نے کہاکہ بھاجپا لیڈران کو شرم آنی چاہئے جنہوںنے ننھی بچی کے قاتلوں کی حمایت میں ہوئی ریلی میں شرکت کی ۔انہوںنے عدالت عظمیٰ سے ان وکلاء کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جنہوںنے ملزمان کو بچانے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے ۔ان کاکہناتھاکہ بار ایسو سی ایشن جموں کے صدر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جس نے گزشتہ دنوں روہنگیامسلمانوں کو بزور طاقت جموں بدر کرنے کی دھمکی دی تھی ۔انہوںنے کہاکہ ایسے بیانات سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ جموں میں فرقہ واریت کو فروغ دیاجارہاہے جو ریاست کے امن و بھائی چارے کیلئے تشویشناک ہے۔انہوںنے کہاکہ رسانہ کیس کی فاسٹ ٹریک بنیاد پر تحقیقات کی جائے اور مجرموں کو پھانسی پر لٹکایاجائے ۔ان کاکہناہے کہ ان پولیس اہلکاروں کو فوری طور نوکری سے بر طرف کیا جائے جنہوںنے شواہد مٹانے کی کوشش کی ۔سیول سوسائٹی ارکان نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے سخت موقف اپناتے ہوئے دو وزراء کو برطرف کروایا ۔
ڈپٹی کمشنر پونچھ کی ستائش
جاوید اقبال
مینڈھر//منکوٹ تحصیل سے تعلق رکھنے و الے لوگوںنے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد کی تعیناتی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سابق ممبر پنچایت ویوتھ لیڈر نیشنل کانفرنس مکھنا چوہدری،فضل حسین،سخی محمد،محمد بشیر اور محمد رشید کا کہنا ہے کہ محمد اعجاز اسد کی تعیناتی ایک بہترین فیصلہ ہے جو صحیح ثابت ہوگا۔انہوںنے کہاکہ موصوف مینڈھر کے ڈھرانہ علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں کے مسائل سے ان سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی محمد اعجاز اسد نے رام بن اور شوپیاں میں اچھا کام کیا اورانہیں امید ہے کہ ضلع پونچھ میں بھی اچھا کام کرکے لوگوں کے مسائل حل کریںگے ۔
اساتذہ نے رسانہ واقعہ کی حمایت کرنیوالوں کی مذمت کی
حسین محتشم
پونچھ// اساتذہ برادری کی مختلف تنظیموں جموں وکشمیر رہبر تعلیم فورم، ٹیچرزایسو سی ایشن صوبہ جموں اور لو پیڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے رسانہ عصمت دری اور قتل واقعہ کو افسوسناک اور انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے سرکار سے اپیل کی ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہبر تعلیم فورم کے ریاستی سینئر وائس چیئرمین نجم جعفری، لوپیڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن جنرل سکریٹری انور ونتو،پہاری ایمپلائز ایسوسی ایشن جنرل سکریٹری سید قلب عباس موسوی،الطاف احمد چوہان اورسید محمد یوسف شاہ نے کہا کہ وہ اس سانحہ کی پرزور مذمت کی ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سانحہ کو کسی مذہب سے نہ جوڑا جائے بلکہ یہ واقعہ انسانیت کا قتل ہے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے ۔انہوںنے ڈپٹی کمشنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کچھ ایسے ملازمین سکولوں کا معائنہ کررہے ہیں جو اساتذہ برادری سے تعلق نہیں رکھتے جو ان کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔میٹنگ میں سید علی مرتضیٰ، خواجہ مختار احمد، جانگیر احمد، چوہدری گلنازچوہان ودیگران بھی موجودتھے ۔