’کشیدگی پیداکرنیوالوں کیخلاف کیس درج ہو ‘
بختیار حسین
سرنکوٹ //بار ایسو سی ایشن سرنکوٹ نے بار ایسو سی ایشن جموں اور کٹھوعہ کے وکلاءپرفرقہ وارانہ کشیدگی پیداکرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کیس درج کرنے کی مانگ کی ہے ۔ بار کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ماجد خان نے رسانہ کے متاثرین کو تحفظ فراہم کیاجائے اور حکومت انصاف کی فراہمی کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ انہوںنے کہاکہ قانون سب کیلئے برابر کے اور کوئی اس سے بالاتر نہیں ہوسکتا تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ قانون کے رکھوالے ہی اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔انہوںنے بار ایسو سی ایشن جموں کے بیانات پر سخت موقف اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس پر ملوث وکلاءکے خلاف پی ایس اے عائد کیاجائے اور کیس درج کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ بار ایسو سی ایشن سرنکوٹ یوتھ کی طرف سے ہونے جارہے احتجاج کی مکمل طور پر حمایت کرتی ہے اور رسانہ کے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کیلئے مہم جاری رکھی جائے گی ۔
کیس پر انصاف کی فراہمی کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ// آٹھ سالہ بکروال بچی کے وحشیانہ ریپ اور قتل پر انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسجد اہل بیت بچتر نگر پونچھ کی انتظامیہ کمیٹی نے ریاستی عدلیہ سے قاتلوں کو جلد سے جلد پھانسی کی سزا سنانے کی اپیل کی ہے ۔مسجد کے امام جماعت مولانا سید سجاد حیدر قمی نے کہا کہ انسانیت کو شرمسار کر دینے والے اس واقعہ کو مذہبی رنگ دیکر عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کئے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو افسوسناک بات ہے او ران وکلاءکے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی جانی چاہئے جنہوںنے پولیس کو اپنا کام کرنے سے روکا۔انہوںنے کہاکہ ایک معصوم بچی کے قاتلوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایسا عمل انسانیت سو ز ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ درندگی کر کے اس کی ٹانگیں توڑ دی گئی ، اس کے ناخن نکال دیئے گئے ، تفتیش میں ثابت ہواہے کہ اس بچی کو کئی دن تک ایک مقامی مندر میں رکھا گیا اور اسے بےہوشی کی دوائیں دی جاتی رہی ،اس کا کئی دنوں تک ریپ کیا گیااورتشدد کی انتہاکی گئی ، پہلے اس کا گلا گھونٹا گیا اورپھر سر پر پتھر مارکر قتل کردیاگیالیکن اس کے باوجود مجرموں کو سزا نہیں دی جا رہی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچی کے قاتلوں کو شر عام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لئے ایک مثال قائم ہو۔انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کا ثبوت پیش کریں اور جذبات میں بہہ جانے کے بجائے انصاف کے تقاضوںکوپورا کریں ۔اس موقعہ پر محمد بشیر میر، شبیر حسین ڈار،سید محمد صالح، ماسٹر عارف حسین میر، رضوان حسین بٹ، ماسٹر نوشادوغیرہ بھی موجود تھے۔
شوکت کاظمی کا لینڈ ریکارڈ کی درستگی پر زور
رمیش کیسر
نوشہرہ //ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ پیر پنچال شوکت کاظمی نے سوموار کو ڈاک بنگلہ نوشہرہ میں محکمہ مال کے افسران و ملازمین کی میٹنگ منعقد کرکے کام کاج کا جائزہ لیا ۔اس موقعہ پر تحصیلدار نوشہرہ نریش شرما، تحصیلدار قلعہ درہال سریش چوہدری اور دونوں تحصیلوں کے پٹواریوں و گردواروں نے بھی شرکت کی ۔اس دوران ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیاگیا اور شوکت کاظمی نے افسران و ملازمین پر زور دیاکہ وہ اس عمل کو جلد سے جلد مکمل کریں ۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ اب زمینوں کے ریکارڈ آن لائن ہورہے ہیں اس لئے ریکارڈ کی درستگی ہونی لازمی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سارے ریکارڈ کی از سر نو جانچ کی جائے ۔ اس موقعہ پر دونوں تحصیلوں کا فیلڈ عملہ بھی موجو دتھا۔
کلیریکل ایسو سی ایشن پونچھ برہم
حسین محتشم
حسین محتشم
پونچھ//آل جموں و کشمیر و لداخ آل ڈیپارٹمنٹ کلریکل ایسوسی ایشن پونچھ نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ۔ضلع صدر راوندر سنگھ کی قیادت میں ملازمین کا ایک اجلاس منعقد ہواجس دوران انہوںنے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر خزانہ نے ساتویں تنخواہ کمیشن سے پہلے کلریکل کیڈر کے ملازمین کے ساتھ تنخواہ کے متعلق کئے گئے معاہدے کو پورا کرنے کا یقین دلایاتھاتاہم موجودہ وزیر خزانہ نے اس کے برعکس فیصلہ لیتے ہوئے کہا کہ پہلے ساتویں تنخواہ کمیشن کے لاگو کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا اور بعد میں تنخواہ کا مسئلہ چھیڑا جائے گا جو ان کیلئے ناقابل قبول ہے۔ کلرکوں نے کہا کہ اگر نئے فیصلہ پر عمل کیا گیا تو کلریکل ایسوسی ایشن کی جانب سے پر تشدد احتجاج اور دھرنے شروع کئے جائیں گے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ اس موقعہ پر کفایت حسین اوردیگر ملازمین بھی موجو دتھے ۔
کالا کوٹ میں فوک فیسٹول کا افتتاح
راجوری//بھیڑ و پشو پالن او رماہی پروری کے وزیر عبدالغنی کوہلی نے کالاکوٹ حلقے میں فوک فیسٹول کا افتتاح کیا جس کا اہتمام جموں وکشمیر کلچرل اکیڈیمی نے کیا تھا۔اس دوران فنکاروں نے مختلف زبانوں میں رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ اس طرح کے پروگراموں کی بدولت ریاستی عوام کو ثقافت کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں جانکاری فراہم ہوتی ہے۔ اُنہوں نے لوگوں اور انتظامیہ کے مابین بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے ریاست میں آپسی رواداری اوربھائی چارے کے جذبے کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
اعظم آباد اتولی سڑک تعطل کاشکار
عشرت بٹ
منڈی//منڈی کے اعظم آباد سے اتولی جانے والی سڑک تعطل کاشکار بنی ہوئی ہے ۔ اس سڑک کی کھدائی پہلے 2011 میں محکمہ نبارڈ نے کی جس کے بعد محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے بھی اس کی کھدائی کرکے اسے چھوڑ دیا جس کے بعد کام آگے نہیں بڑھ پایا ۔سڑک تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامناہے اور وہ قدیم طرز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس سلسلے میں جموں و کشمیر انصاف مو¿منٹ کااتولی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس دوران مقامی مسائل زیر بحث لائے گئے ۔اس موقعہ پر مو¿منٹ کے صدر جاوید اقبال ریشی نے کہاکہ سڑک کی کھدائی کرکے فنڈز ہضم کرلئے گئے اور لوگوں کو کوئی سہولت نہیں ملی ۔انہوںنے کہاکہ سڑک روابط تو دور کی بات ،لوگوں کی سیب، اخروٹ، پلمپ اور املوک کے باغ و اراضی کو ویران کردیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ کھدائی سے زمین کھسک رہی ہے اور لوگوں کے مکانات کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔ان کاکہناتھاکہ اتولی کے علاوہ، سڑوئی، پدر، چھیلہ اور ڈھانگری سے پندرہ کلومیٹر پیدل سفر طے کرکے طلباروز آتے جاتے ہیں اور ان کا بہت سار اوقت پیدل سفر میں ہی بیت جاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ مقامی لوگوں کو سامان یاتو کاندھے پر یاپھر گھوڑوں کے ذریعہ گھر لیجاناپڑتاہے اوراگر کوئی بیمار ہوجائے تو اسے کئی کلو میٹر تک کاندھے پر یا چارپائی کے ذریعہ اٹھاکر ہسپتال پہنچایاجاتاہے ۔مقامی لوگوںنے کہاکہ انہیںدیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھاگیاہے اور مرکزی معاونت والی سکیمیں بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچارہیں ۔
تیزرفتاری کا شاخسانہ
بھمبر گلی میں مسافر بس حادثے کاشکار ،15افراد زخمی
جاوید اقبال
جاوید اقبال
مینڈھر //پونچھ سے جموں جارہی ایک مسافر بس تیز رفتاری کے باعث بھمبر گلی کے مقام پرحادثے کاشکار ہوگئی جس کے نتیجہ میں 15افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں ۔عینی شاہدین کے مطابق بس بہت تیز رفتاری سے چلائی جارہی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیور اس پر قابو کھوبیٹھا اور گاڑی سڑک سے لڑھک کر نیچے جھاڑیوں میں جاگری ۔ ان کے مطابق یہ حادثہ بھیانک تھا تاہم خوش قسمتی سے زیادہ نقصان نہیں ہوا اور پندرہ افراد معمولی زخمی ہوئے ۔ حادثے کے فوری بعد گاڑی کا ڈرائیوراور کنڈیکٹر موقعہ سے فرار ہوگئے اور زخمی افراد خود ہی اٹھ کر دیگر گاڑیوں کے ذریعہ راجوری پہنچے ۔ اس سلسلے میں گورسائی پولیس تھانے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔
خصوصی ٹاسک فورس کا دورہ ¿ مینڈھر
نجی تعلیمی اداروں کے ریکارڈ کا معائنہ کیا
جاوید اقبال
جاوید اقبال
مینڈھر//ڈپٹی کمشنرپونچھ محمد اعجاز اسد کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کی جانچ کیلئے تشکیل دی گئی خصوصی ٹاسک فورس نے ایڈیشنل ڈی سی ڈاکٹر بشارت کی قیادت میں مینڈھر کا دورہ کرکے مختلف تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا ۔ اس دوران کئی نجی تعلیمی اداروں کے ریکارڈ کا معائنہ کیاگیا اور ان سکولوں کی انتظامیہ کو قوانین کی پاسداری کرنے کی تلقین کی گئی ۔ واضح رہے کہ لوگوں کی طرف سے نجی سکولوں کی من مانی کی شکایات سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو رپورٹ تیار کرکے انہیں پیش کرے گی ۔ مینڈھر کے دورے پر آئے ایڈیشنل ڈی سی نے کہاکہ انہوںنے مختلف نجی تعلیمی اداروں کا معائنہ کرکے ریکارڈ کا معائنہ کیاہے اور دیگر علاقوں میں بھی ایسے ہی معائنہ کاری کی جائے گی ۔
مغلیہ موڑکا طبی مراکز برائے نام
مالکان کو کرایہ ملانہ مریضوں کو سہولیات
طارق شال
تھنہ منڈی // 5سال قبل تھنہ منڈی کے مغلیہ موڑ میں یونانی ڈسپنری کھولی گئی تھی تاہم یہ برائے نام بن کر رہ گئی ہے اور نہ ہی مالکان کو محکمہ کی طرف سے کرایہ فراہم کیاگیا اور نہ ہی مریضوںکو طبی سہولیات فراہم ہورہی ہیں ۔تھنہ منڈی کے علاقہ مغلیہ موڑ میں عظمت آباد اور منیہال کے عوام کوفائدہ پہنچنانے کی غرض سے 2013میں ایک یونانی ڈسپنسری کھولی گئی جس میں اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر راجوری نے دسمبر 2013 میں ایک فارما سسٹ کو نئی ڈسپنسری چلانے کے لئے تعینات کیا۔ ایک سال تک اس یونانی ڈسپنسری میں کام چلتارہا لیکن اسکے بعد ڈسپنسری میں تعینات ملازم لا پتہ ہوگیاجسکی وجہ سے پچھلے کئی برسوںسے اس مکان کے مالک کو کرایہ نہیں ملا جس کے گھر یہ ڈسپنسری قائم کی گئی ہے اور نہ ہی لوگوں کو طبی سہولیات مل رہی ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق اس ڈسپنسری میں ابھی بھی یونانی ادویات موجود ہیں جو زائد المعیاد ہوجانے کی وجہ سے زہریلی شکل اختیا ر کرسکتی ہیں اور انجانے میں کوئی استعمال کرکے اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال سکتاہے ۔رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر راجوری غلام حیدر شاہ نے کہا کہ ضلع راجوری میںچند مراکز ایسے ہیں جنکی سرکاری طور پر منظوری نہ ہوئی ہے۔ انہوں۔نے کہا کہ محکمہ کے پاس عملہ کی قلت ہے اور یونانی مراکز کو چلانے میں رکاوٹیں آرہی ہیں ۔تاہم انہوںنے یقین دلایاکہ ان مراکز کو فعال بنانے کی کوشش کی جائے گی ۔
درہال کیلئے کالج کی مانگ
راجوری تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ،ہڑتال ایک ہفتے کیلئے ملتوی
منیر خان
راجوری //درہال کی عوام نے ڈگری کالج مطالبے پر بڑی تعداد میں لوگوں نے راجوری کی طرف مارچ کیا اور ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاج کیا ۔ریلی کی قیادت سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر لیاقت علی چودھری ،سینئر کانگریس لیڈر اقبال ملک اور درہال ایکشن کمیٹی کے کنوینئر ایڈووکیٹ زاہد سرفراز کررہے تھے ۔ چودھری لیاقت نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر کسی کو ووٹ دینے کا حق اور اپنی مرضی سے کسی بھی شخص یاپارٹی کو ووٹ دیا جاتا ہے لیکن درہال کی عوام کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ناانصافی کی جارہی ہے جو افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ درہال تحصیل کے اندرونی سڑک رابطے ہوں یاپھر راجوری درہال سڑک ،تمام سڑکیںخستہ حالی کا شکار ہیں جنہیں مرمت کرنے کی زحمت نہیں کی جارہی اور ڈگری کالج کا مطالبہ جو ایک دیرینہ مانگ ہے ،کو نظرانداز کرکے لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ کیاجارہاہے ۔اقبال ملک نے کہاکہ درہال سوتیلے پن کا شکار ہے اور چونکہ مقامی لوگوںنے مخلوط حکومت کے خلاف ووٹ دیئے اس لئے انہیں عتاب کانشانہ بنایاجارہاہے نہیں تو کالج قائم کیاجاسکتاتھا۔ انہوںنے کہاکہ اگر اسی طرح سے ناانصافیاںہوتی رہیں تو پھر بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا۔زاہد سرفراز نے کہا کہ درہال کو اگر اس بار بھی ڈگری کالج نہیں دیا گےا تو عوام کی طرف سے ہڑتال جاری رہے گی ۔اس دوران ڈپٹی کمشنر کو ایک یاداشت پیش کی گئی جس پر موصوف نے یقین دلایاکہ ایک ہفتے تک کا وقت دیاجائے اور ان کی مانگ پورا کروایاجائے گا۔ زاہد سرفراز کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی اسی یقین دہانی پر ایک ہفتے تک کیلئے ہڑتال ملتوی کی گئی ہے ۔
رشتہ داروںسے بچھڑنے کا غم تکلیف دہ
مظفر حسین بہن ،بھائیوں اور دیگر رشتہ داروںسے بچھڑنے پر آبدیدہ
حسین محتشم
حسین محتشم
پونچھ//ہفتہ وارپونچھ راولاکوٹ راہ ملن بس سروس کے ذریعہ سفر کرنے والوں کیلئے رشتہ داروںسے بچھڑنے کا غم کس قدر تکلیف دہ ہوتاہے ،یہ کوئی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی تحصیل باغ میں سکونت پذیر سید مظفر حسین شاہ سے پوچھے جن کے سبھی حقیقی رشتہ دار پونچھ میں آباد ہیں۔28دن تک سرنکوٹ کے سنئی گاﺅں میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں قیام کرکے واپس جانے والے سید مظفر حسین شاہ نے دکھ بھری آہ میں کہاکہ ان کے تمام حقیقی رشتہ دار سنئی میں رہتے ہیں جن سے ملنے کا تو بہت زیادہ اشتیاق رہتاہے لیکن مل کر بچھڑنے کا غم بہت تکلیف دہ ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ وہ سات سال قبل بھی پونچھ راولاکوٹ بس سروس سے بذریعہ پرمٹ نظام یہاں آئے لیکن ان کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتاہے جب وہ اپنے بہن ، بھائیوں اور بھتیجے ، بھانجوں اور دیگر رشتہ داروںسے بچھڑتے ہیں ۔مظفر حسین شاہ کی روانگی کے وقت پونچھ سپورٹس اسٹیڈیم میں ان کے کئی رشتہ دار موجود تھے جن سبھی کی آنکھیں آبدیدہ تھیں اور خود یہ مہمان مسافر بھی افسردہ اور بے قابو تھا ۔ مظفر حسین 1965میں اپنے والدین اور بہن بھائیوںسے جداہوکر پاکستانی زیر انتظام کشمیر چلے گئے اور وہیں پڑھائی مکمل کرکے محکمہ تعلیم میں ٹیچر ملازم ہوئے اور پھر چند سال قبل ہیڈ ماسٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ۔ ایک عرصہ تک ان کا اپنے رشتہ داروںسے کوئی رابطہ نہیں رہا اور خط و کتابت کے ذریعہ کبھی کبھار حال دریافت ہوجاتارہاتاہم پونچھ راولاکوٹ بس سروس شروع ہونے پر ان کے دل میں اپنے آبائی گاﺅں آنے کا اشتیاق بڑھا لیکن غم یہ تھاکہ وہ بہن بھائیوںسے جداکیسے ہوںگے ۔ رشتہ داروں سے ملاقات کی تمنا انہیں 2011میں سنئی لے آئی اور وہ چند ہفتے قیام کے بعد آنکھوں میں آنسو ﺅںکاسیلاب اور دل میں پورے کنبے کی جدائی کا غم لیکر واپس لوٹ گئے ۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ 2011کے بعد انہوںنے کئی مرتبہ پھر سے یہاں آنے کا سوچالیکن پریشانی یہ تھی کہ رشتہ داروںسے بچھڑنے کے وقت خود پر کیسے قابو پایاجاسکے گا۔انہوںنے بتایاکہ اس سال انہوںنے ہمت کرکے دوبارہ سے آنے کاپروگرام بنایا اور اب 28دن قیام کرنے کے بعد واپس جاناپڑرہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ حد متارکہ پر بچھائی گئی خونی لکیر نے انہیں اپنے تمام رشتہ داروںسے الگ تھلگ کردیا اور اس تقسیم کا زخم ان کیلئے بہت دردناک ہے ۔بھائی کی روانگی کے وقت سپورٹس اسٹیڈیم میں موجود ان کی بہن رضیہ فاطمہ نے بتایاکہ وہ خود بھی گیاہر سال قبل پرمٹ نظام کے ذریعہ اپنے بھائی سے ملنے کیلئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر جاچکی ہیں پر یہ ملاقات کچھ دنوں کی ہوتی ہے اور پھر سے جدائی مقدر ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ سرحدی آمدورفت کو مزید آسان بنایاجائے تاکہ حقیقی رشتہ دارایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوسکیں ۔ واضح رہے کہ ہفتہ وار راہ ملن بس سروس اس بار بھی حد متارکہ کے آر پارچکاہوئی جس دوران 99 مسافر وںنے سفر کیا ۔ اس دوران پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے 57 نئے مسافر پونچھ آئے جبکہ 42 مسافر رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد واپس لوٹ گئے۔ پونچھ کا کوئی مسافر نہ گیا اور نہ راولاکوٹ سے واپس پلٹا۔اس موقعہ پر ہندوستان کی طرف سے انتظامیہ کی طرف سے ڈی وائی ایس پی ایم اے قریشی جبکہ پاکستان کی طرف سے ٹی ایف او محمد نعیم خان موجود تھے۔
تنویر نے ایس ڈی ایم مینڈھر کا چارج سنبھالا
جاوید اقبال
مینڈھر//ایس ڈی ایم مینڈھر ڈاکٹر محمد تنویر خان نے سوموار کواپنے عہدے کا چارج سنبھالا ۔اس دوران کئی معززین کے علاوہ تحصیل آفیسران بھی موجود تھے ۔تنویر خان کا لوگوں نے والہانہ استقبال کرتے ہوئے ان کو چارج سنبھالنے کی مبارک باد پیش کی اور اس امید کا اظہا رکیاکہ مقامی افسر ہونے کے ناطے وہ مسائل حل کرنے میں کوئی کوشش باقی نہیں رکھیںگے ۔انہوںنے کہاکہ موصوف نے بی ڈی او مینڈھر کے طور پر بھی اہم کام کئے اور اب ایس ڈی ایم مینڈھر کی حیثیت سے ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ۔ تنویر خان نے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کو کو شش ہوگی کہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے اور لوگوں کے مسائل حل ہوں ۔ موصوف مینڈھر کے سنگیوٹ علاقے کے رہنے والے ہیںجو اس سے قبل کسٹوڈین چکاں داباغ تعینا ت تھے ۔دریں اثناءلیبر یونین کے صدر عبد المجید چوہدری نے ایس ڈی ایم مینڈھر کا مینڈھر تعینات ہونے پر خیر مقدم کرتے ہوئے ان کاوالہانہ استقبال کیا ۔انہوںنے کہاکہ موصوف سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اہم نقوش چھوڑیںگے۔