ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا شاخسانہ
کشتواڑ میں 5 اساتذہ کی تنخواہ روک دی گئی
کشتواڑ//جموں و کشمیر سرکا رنے ضلع کشتواڑ میں غیر حاضر 5۔ اساتذہ کی تنخواہ تب تک روک دینے کے احکامات جاری کئے جب تک کہ ان کے خلاف تحقیقات مکمل ہو جائے گی۔اطلاعات کے مطابق ان میں سے چار اساتذہ مڈل سکول کئیار ۔دچھن اور ایک استاد گورنمنٹ ہائی سکول چھنگر۔مڑواہ سے ہیں ،جن پر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا الزام ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر انگریز سنگھ رانا نے شکایت موصول ہونے کے بعد سنگین نوٹس لیتے ہوئے انکی تخواہ روک دینے کے احکام جاری کئے ہیں۔انہوں نے چیف ایجوکیشن افسر کو اس معاملہ کی باریک بینی سے تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے اور خاطی ہونے کی صورت میں انکے خلاف سول سروس رولزدفعہ 128 کے تحت سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی ہے،جس کئے تحت قصور واروں کو ملازمت سے برخاست کیا جا سکتا ہے۔غیر حاضر اساتذہ میں مڈل سکول کئیار ۔دچھن کے پریہار،جیوتی بالا، مشکور احمد،اور اختر شامل ہیںجبکہ گورنمنٹ ہائی سکول چھنگر۔مڑواہ کے ایک استاد سجاد حُسین تپال بھی ان میں شامل ہے۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ مڑواہ نے ان شکایات کے بعد کہہائی سکول چھنگر۔مڑواہ کے ایک استاد سجاد حُسین تپال نے مارچ میں سکول کھلنے کے بعد ابھی تک جوائن نہیں کیا ہے،اسی طرح سے مڈل سکول کئیار ۔دچھن کے اساتذہ کو گذشتہ روز اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا تھا ۔
کشتواڑ میںمنشیات برآمد، ایک گرفتار
اے آئی بٹ
کشتواڑ//کشتواڑ پولیس نے ایک شخض کو گرفتار کرکے اسکے قبضہ سے منشیات Tramadole Dicyclomine Hydrochloride برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر 116/2018 زیر دفعہ 48 ایکسائز ایکٹ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدہ کی پہچان ناصر احمد ولد غلام احمد ساکنہ کُچھن حال سنگرام باٹا ،کشتواڑکے بطور کی گئی ہے۔مبینہ ملزم پر منشیات کو قصبہ و ملحقہ علاقہ کے نوجوانوں اور طلاب میں بھچنے کا الزام تھا ، جس پر پولیس کی نظر کافی دیر سے تھی اور آخر کار آج ہفتہ کے روز اُسے منشیات کی کھیپ کے ساتھ برآمد کیا۔
رام بن کے دور افتادہ علاقوں میں تدریسی عملہ کی کمی
ایم ایم پرویز
رام بن //ضلع کے دور دراز علاقوں میں تدریسی عملہ کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ ایسا اساتذہ کی جانب سے بر لب سڑک سکولوں اور دفاتر میں اٹیچ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔اساتذہ کی کمی کی وجہ سے غریب کنبوں کے بچوں کو سرکار سکولوںمیں معیاری تعلیم حاصل نہیں ہوتی ہے۔لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ تعلیم والدین کی جانب سے شکایات رکنے کے باوجود بھی اس کا نوٹس نہیں لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو سرکار سکولوںمیں مناسب تدریسی عمملہ فراہم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے ،وہیں دوسری جانب اساتذہ شہری علاقوں میں بر لب سڑک سکولوںمیں تعیناتی کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں، جسکی وجہ سے دیہی علاقوں میں تدریسی عملہ کی کمی ہے۔ذرائع کے مطابق رام بن ،بانہال، بٹوت اور بر لب سڑک سکولوں میں ضرورت سے زیادہ تدریسی عملہ ہے جبکہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں مڈل اور ہائی سکولوں میں دو سے چار اساتذہ ہی ہیں۔والدین کا الزام ہے کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے کافی اساتذہ شہری علاقوں میں تعیناتی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ایک افسر نے اعتراف کیا ہے کہ سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے اساتذہ شہری علاقوں میں اٹیچ کئے گئے ہیں جسکی وجہ سے غریب طلاب کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔باوجود اس حقیقی کے کہ محکمہ کی جانب سے اٹیچ منٹوں کی منسوخی کے لئے احکامات اجرا کئے گئے ہیں،تاہم زمینی سطح پر اسکا کوئی اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ان علاقوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ اٹیچ شدہ اساتذہ اور غیر قانونی طور سے آر ای ٹی اساتذہ کے تبادلوں کو منسوخ کرکے ان کو اپنے سکولوں میں واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے ،تاکہ غریب طلبا کا مستقبل تابناک ہو ۔
ملک کے حالات باعث تشویش
بزرگ سماجی کارکن کا آپسی بھائی چارہ کے فروغ کی ضرورت پر زور
ارشدکاظمی
بٹوت// بنیاد پرست تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ اور اُس کی ہمنوا ومعاون تنظیمیں ہی 1947میں برصغیر ہند کی تقسیم کی وجہ بنی اور موجودہ وقت میںبھی وطن عزیز ہندوستان میں سرگرم یہ فرقہ پرست تنظیمیں اپنی فرقہ پرستی پر مبنی سرگرمیوں کی وجہ سے ملک کی سا لمیت کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں ان خیالات کا اظہاربٹوت میں منعقد ایک تقریب کے دوران بٹوت سے تعلق رکھنے والے 96سالہ سیاسی سماجی ومذہبی بزرگ رہنما مولانا شیخ غلام رسول نے تقریب کے حاشیہ پرمختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رسمی بات چیت میں کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کثیر مذاہب کے ماننے والے لوگوں کے وطن ہندوستان کویہ فرقہ پرست قوتیںاپنی منافرت فرقہ پرستی پرمبنی سوچ اور سرگرمیوں سے تباہی و بربادی کی جانب لے جانے میںمشغول عمل ہیں ان فرقہ پرست قوتوں نے ملک کے امن ،ملک میں آباد مختلف مذاہب کے ماننے والو ں کے درمیان قائم آپسی بھائی چارے کوبڑے پیمانے پر نقصان سے دوچار کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں عوام کے ذہنوں کو فرقہ پرستی کی سوچ سے آلودہ کرنے کاناپاک کام قومیت کے لبادے میں کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس آیس جیسی تنظیموں کی سر گر میوں سے ملک کے حالات دن بہ دن ابتر ہوتے جارہے ہیںملک میں آباد اقلیتی آبادی خوف وہراس،افراتفری کے ماحول میں زندگی جینے پر مجبورہوگئی ہے اور بدقسمتی سے ملک میں تین سالہ سے حکمرانوں کی حیثیت آر ایس ایس کے ہاتھوں کی کٹ پتلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔مولانا نے کہا کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اپنے آپ کو ملک کے اتحاد اور سا لمیت کی نگہبان بتانے والی یہ فرقہ پرست تنظیمں اپنے جنون کی آگ میںملکی عوام کے درمیان اتحاد کی دشمن بنی ہوئی ہیںاپنے خودغرضانہ اعزائم کی تکمیل کی خاطرملک کی سا لمیت کو دائو پر لگانے کی بھی پروا نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لئے راشٹریہ سیوک سنگھ اوراس کی معاون تنظیموں کی جانب سے پیدا کردہ تشویش ناک حالات کے اس دور میں اگر وقت رہتے عوام نے ملک کی سیکولر اقدار وسوچ کی حفاظت کیلئے درکار اقدامات کی جانب توجہ مبذول کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تو ہماری اس کوتاہی وغلطی کے لئے ملک کی آئندہ نسلیںہم کو کبھی معاف نہیں کریں گی، ہم کو ملکی عوام ہونے کے ناطے اپنے اوپر عائید اس ذمہ داری کا احساس ہر صورت میں کرنا ہوگاملک کو مزید انتشار اور تقسیم سے بچانا ہوگا کیوں کہ اس ملک کی بقاء کی ضامن ہی اس ملک کے عوام کی سیکولر اور آپسی رواداری کی حامل سوچ و نظریا ہے۔
کشتواڑمیں آر بی ایس کے سکریننگ وطبی کیمپ کا اہتمام
کشتواڑ // بال آشرم کشتواڑمیںجے اینڈ کے سوشل ویلفیئر محکمہ کی جانب سے بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر گھنیشام کی قیادت میں بال آشرم میں ایک طبی کیمپ کا اہتمام کیا گیا ، جس میں راشٹریہ بال سواستھیہ کاریکرم بلاک کشتوا کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بچوں کی سکریننگ کی۔سکریننگ کے دوران کئی بچوں میں 4Ds کا پتہ لگایا گیا جنھیں ضلع ہسپتال کشتواڑ معالجہ کے لئے بھیجا گیا ۔ اس موقعہ پر موجود بچوں کا طبی معاینہ کیا گیا اور مفت ادویات تقسیم کئے گئے۔اس موقعہ پر ڈ اکٹر نذیر شیخ نے کہا کہ یہ آر بی ایس کے تحت معمول کی سکریننگ تھی اور عنقریب ہی ایسے مزید کیمپ منعقد کئے جائیںگے۔ ۔کیمپ کا مقصد طلبا اور عام لوگوں میں صحت سے متعلق مسائل کی جانکاری دینا تھا خصوصاً چھوٹے بچوں کو اور انکو آر بی ایس کے کے رہنما خطوط کے تحت فاسٹ ٹریک بنیادوں پر محالجہ مہہیا کرنا تھا ۔ڈی ایس ڈبلیو او فلیل سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچہ قوم کا مستقبل ہے اسلئے ہمیں اپنے آپ کو انکے لئے وقف کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا محکمہ صحت کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو احتیاطی طبی خدمات فراہم کرے،جو کہ اس پروگرام کا اولین مقصد ہے۔پروگرام کو اجا گر کرتے ہوئے انہوںنے متعلقین پر آر بی ایس کے پروگرام کو لاگو کرنے پر زور دیا ۔ دریں اثنا بال آشرم کے سپرانٹنڈنٹ راجیش کمار نے تما ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا اور ان سے آشرم میں ماہانہ بنیادوں پر طبی کیمپ منعقد کرنے کی درخواست کی،تاکہ بچوں کو بر وقت محالجہ حاصل ہو۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بال آشرم میں 50غریب اور ضرورتمند بچے رہائش پذیر ہیں،جہاں پر انکو ہر قسم کی سہولیت فراہ کی جاتی ہے،تاکہ وہ ایک بہتر طرز زندگی گُذار سکیں۔
مدرسہ فریدیہ اسراریہ میں مقابلہ کا اہتمام
ایم ایم پرویز
رام بن //مدرسہ فرید یہ اسراریہ میترا میں قراَن خوانی اور عربی پڑھنے کا مقابلہ منعقد کیا گیا ،جسکی قیادت تنظیم المدرسہ مفتی مولانا فاروق احمد نے کی۔مقابلہ کے اختتام پر بچوں کی عزت افزائی کی گئی۔طلاب کی عزت افزائی سے قبل انہوں نے شرکا کو قراَن پاک پر عمل کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے لوگوں کو صلاح دی کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلا کر ایک حقیقی مسلمان اور بہتریں انسان بنانے کا کام کریں ،کیونکہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔دیگر مقررین بشمول تنظیم المدرسہ جموں و کشمیر کے صدرمولانا مفتی محمد اسلم نے بھی دینی تعلیم خصوصاً قراَن خوانی کی اہمیت پر روشنی ڈالی ،خصوصاً آج کے دور میں جب مسلمان مادیاتی بن گئے ہیں۔تقریب میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی جسکا اہتمام جامع مسجد میترا میں کیا گیا تھا ۔تقریب میں نظامت کے فرائض شاہی مسجد کے امام مولانا قاری علی حسن نے انجام دی۔
چنگام ،کشتواڑ میں کوئیز مقابلہ کا اہتمام
کشتواڑ//فوج نے ضلع کے دور دراز علاقوں میں امن ،بھائی چارہ کو استحکام بخشنے اور تعلیمی معیار میں بہتری لانے کے لئے مغل میدان ، کشتواڑ میں ایک کوئیز مقابلہ کا انعقاد کیا ۔کوئیز مقابلہ میں طلاب نے جوش و خروش سے شرکت کی۔ا ایوئینٹ کا اہتمام مغل میدان کے دور دراز علاقوں کے طلاب کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے کیا تھا ،تاکہ انہیںحالیہ واقعات کی جانکاری ہو اور انہیں عوام کے سامنے مخاطب ہونے کے لئے اعتماد پیدا ہو۔ طلاب اور اساتذہ نے فوج کی جانب سے منعقد کئے گئے اس پروگرام کی کافی ستائش کی۔.